Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانکشمیر کے سات سال: ایک وادی جہاں خاموشی، امید اور بے یقینی...

ٹرینڈنگ

کشمیر کے سات سال: ایک وادی جہاں خاموشی، امید اور بے یقینی ایک ساتھ زندہ ہیں

کشمیر کے سات سال: ایک وادی جہاں خاموشی، امید اور بے یقینی ایک ساتھ زندہ ہیں

سری نگر — 5 اگست 2019 کی صبح جب کشمیر کے بہت سے علاقوں میں لوگ بیدار ہوئے تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی سیاسی اور آئینی زندگی کا ایک پورا باب ختم ہو چکا ہے۔ فون کی لائنیں خاموش تھیں، انٹرنیٹ بند تھا، سڑکوں پر اضافی سکیورٹی دستے موجود تھے اور سیاسی قیادت کا بڑا حصہ حراست میں لیا جا چکا تھا۔

اس دن بھارتی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 کی وہ شقیں ختم کر دیں جن کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت حاصل تھی۔ ساتھ ہی ریاست کو دو وفاقی علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ بھارتی حکومت نے اسے ایک تاریخی اصلاح قرار دیا، لیکن کشمیر کے کئی خاندانوں، سیاسی کارکنوں اور مقامی لوگوں کے لیے یہ ایک ایسے فیصلے کا آغاز تھا جس نے ان کی شناخت، سیاست اور مستقبل کے بارے میں نئے سوالات پیدا کر دیے۔

سات سال بعد کشمیر میں زندگی بظاہر معمول کی طرف لوٹتی دکھائی دیتی ہے۔ بازار کھلے ہیں، سیاح دوبارہ آ رہے ہیں، سڑکوں پر ٹریفک چل رہی ہے، لیکن بہت سے گھروں کے اندر ایک مختلف کہانی موجود ہے — ایسی کہانی جس میں انتظار، خاموشی اور غیر یقینی شامل ہے۔

سری نگر کے ایک گھر میں ایک خاندان آج بھی اس دن کو یاد کرتا ہے جب اچانک رابطے کے تمام راستے بند ہو گئے تھے۔ والدین اپنے بچوں سے بات نہیں کر پا رہے تھے، بیرون ملک یا دوسرے شہروں میں رہنے والے رشتہ دار اپنے پیاروں کی خیریت معلوم نہیں کر سکتے تھے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے یہ صرف انٹرنیٹ بند ہونے کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ دنیا سے کٹ جانے کا تجربہ تھا۔

کشمیر کے نوجوانوں کے لیے یہ دور خاص طور پر پیچیدہ رہا۔ ایک طرف روزگار، تعلیم اور بہتر مستقبل کی خواہش ہے، دوسری طرف سیاسی شناخت اور اظہار رائے کے سوالات۔ کئی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے ماحول میں بڑے ہوئے ہیں جہاں سیاست پر بات کرنا، سوشل میڈیا پر اظہار کرنا اور مستقبل کے بارے میں سوچنا بھی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔

بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ 2019 کے بعد نئی پالیسیوں نے سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اصلاحات کے دروازے کھولے ہیں۔ حکام کہتے ہیں کہ پہلے کی خصوصی حیثیت نے عام کشمیریوں کو ترقی کے مواقع سے محروم رکھا اور نئی پالیسیوں کا مقصد خطے کو قومی دھارے میں شامل کرنا ہے۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ترقی کے ساتھ ساتھ سیاسی اعتماد بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق صرف سڑکیں، عمارتیں اور سرمایہ کاری کسی خطے کے سیاسی زخموں کو نہیں بھر سکتیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے میں لوگوں کی سیاسی آواز، شہری آزادیوں اور اعتماد کی بحالی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

2019 کے بعد بڑے پیمانے پر سیاسی گرفتاریاں بھی بحث کا مرکز رہیں۔ متعدد سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا، جن میں سابق وزرائے اعلیٰ بھی شامل تھے۔ حکومت نے ان اقدامات کو امن و امان کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ مخالفین نے انہیں سیاسی عمل کو محدود کرنے کے مترادف قرار دیا۔

کشمیر کی سیاست بھی اس فیصلے کے بعد ایک نئے دور میں داخل ہوئی۔ وہ سیاسی جماعتیں جو دہائیوں تک ریاستی سیاست کا حصہ رہی تھیں، انہیں نئے آئینی اور انتظامی ماحول میں اپنی جگہ تلاش کرنا پڑی۔ انتخابات، نمائندگی اور عوامی اعتماد کا سوال آج بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

اس تنازع کی تاریخ 2019 سے بہت پرانی ہے۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد جموں و کشمیر کا مسئلہ جنگ، سیاسی اختلافات اور بین الاقوامی سفارت کاری کا حصہ بن گیا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں، لیکن کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود کوئی متفقہ حل سامنے نہیں آ سکا۔

پاکستان مسلسل مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ پاکستان نے 2019 کے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں متنازع خطے کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا۔

بھارت کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر اس کا اٹوٹ حصہ ہے اور 2019 کے فیصلے نے وہاں مساوی آئینی حقوق، بہتر حکمرانی اور ترقی کے مواقع فراہم کیے ہیں۔

انسانی حقوق کے معاملات بھی عالمی توجہ کا حصہ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ بندش، حراستوں، اظہار رائے کی آزادی اور شہری حقوق سے متعلق سوالات پر بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش ظاہر کی۔ دوسری طرف بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ سلامتی کے چیلنجز کے پیش نظر بعض اقدامات ضروری تھے۔

آج کشمیر میں ایک نئی نسل جوان ہو رہی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جس نے بچپن میں تنازع، پابندیاں اور سیاسی بے یقینی دیکھی، لیکن ساتھ ہی تعلیم، روزگار، ٹیکنالوجی اور بہتر مواقع کے خواب بھی دیکھے۔

کسی بھی تنازع کی طرح کشمیر کی کہانی صرف حکومتوں، سرحدوں اور معاہدوں کی کہانی نہیں۔ یہ ان ماؤں کی کہانی بھی ہے جو اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کی دعا کرتی ہیں، ان نوجوانوں کی کہانی ہے جو اپنے لیے مواقع چاہتے ہیں، ان خاندانوں کی کہانی ہے جو سیاسی بحث سے زیادہ امن اور استحکام چاہتے ہیں۔

سات سال بعد کشمیر ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں خاموشی اور معمول کی زندگی کے درمیان ایک گہرا فاصلہ موجود ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ 2019 میں کیا بدلا، بلکہ یہ بھی ہے کہ آنے والے برسوں میں اعتماد کیسے بحال ہوگا۔

کشمیر کا مستقبل صرف آئینی فیصلوں سے نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والے اعتماد، سیاسی شمولیت اور دیرپا امن کے احساس سے طے ہوگا۔ یہی وہ سوال ہے جو سات سال بعد بھی وادی کے پہاڑوں، گلیوں اور گھروں میں گونج رہا ہے

مزید پڑھیں