آبنائے ہرمز کھولنے کا معاہدہ بدھ تک ممکن، ٹرمپ کا دعویٰ؛ عالمی معیشت کو ریلیف کی امید، مگر جنگ کا انجام ابھی غیر یقینی
آبنائے ہرمز کھولنے کا معاہدہ بدھ تک ممکن، ٹرمپ کا دعویٰ؛ عالمی معیشت کو ریلیف کی امید، مگر جنگ کا انجام ابھی غیر یقینی
واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک معاہدہ بدھ تک طے پا سکتا ہے، جس کے بعد عالمی توانائی منڈیوں پر پڑنے والا دباؤ کم ہونے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز، جو دنیا کے سب سے اہم توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے، ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کا مرکزی محاذ بن چکی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو تیل اور گیس کی عالمی ترسیل دوبارہ بحال ہو سکتی ہے، کیونکہ اس آبی راستے سے جنگ سے پہلے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت گزرتی تھی۔
مگر اس ممکنہ معاہدے کے پیچھے صرف تجارتی مفادات نہیں بلکہ ایک پیچیدہ جنگی اور سفارتی بحران بھی موجود ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ واشنگٹن اور تل ابیب نے اس کے لیے مختلف اہداف بیان کیے تھے، جن میں ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھانا اور تہران کے جوہری پروگرام کو روکنا شامل تھا۔ تاہم جنگ وقت گزرنے کے ساتھ ایک وسیع تر تنازع میں بدل گئی، جس کا سب سے خطرناک پہلو آبنائے ہرمز کی بندش ہے۔
ایران کی جانب سے جہاز رانی کو محدود کرنے کی دھمکیوں اور حملوں کے بعد اس اہم بحری راستے میں تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، جس کا اثر صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا بھر میں ایندھن، خوراک اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر پڑا۔
صدر ٹرمپ کو اندرون ملک بھی اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ خاص طور پر کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک طویل اور مہنگا فوجی تنازع سیاسی طور پر ان کے لیے مشکل بن سکتا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا صرف ایک عارضی بحران کا حل ہو سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان وسیع جنگ بندی کی بنیاد بنے گا یا صرف عالمی توانائی کے بحران کو وقتی طور پر کم کرے گا۔
آبنائے ہرمز محض ایک بحری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک بار پھر دکھا دیا ہے کہ خلیج فارس کا ایک محدود جغرافیائی تنازع کس طرح پوری دنیا کی معیشت کو ہلا سکتا ہے


