عبدل السید کی فتح: کیا امریکہ ایک نئے سیاسی عہد میں داخل ہو رہا ہے، یا ترقی پسند سیاست اپنی ہی توقعات کے بوجھ تلے دب جائے گی؟
عبدال السید کی فتح: کیا امریکہ ایک نئے سیاسی عہد میں داخل ہو رہا ہے، یا ترقی پسند سیاست اپنی ہی توقعات کے بوجھ تلے دب جائے گی؟
ڈیٹرائٹ: کبھی کبھی انتخابات صرف نمائندے منتخب نہیں کرتے، بلکہ یہ بتاتے ہیں کہ ایک قوم اپنے بارے میں کیا سوچنے لگی ہے۔ مشیگن کے ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری انتخابات میں عبدال السید کی کامیابی بھی شاید اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔ بظاہر یہ ایک ریاستی انتخاب تھا، لیکن اس کی گونج واشنگٹن کی راہداریوں سے لے کر نیویارک، شکاگو، ڈیئربورن، غزہ، تل ابیب اور دنیا کے ان تمام دارالحکومتوں تک سنائی دے رہی ہے جہاں امریکی سیاست کو محض ایک ملکی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے مستقبل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اگر عبدال السید نومبر میں ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے دیتے ہیں تو وہ امریکی تاریخ میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان سینیٹر ہوں گے۔ یہ صرف ایک مذہبی شناخت کا معاملہ نہیں۔ اس کے پس منظر میں وہ امریکہ کھڑا ہے جہاں گزشتہ برسوں میں امیگریشن، سرحدی سلامتی، مسلم شناخت، فلسطین۔اسرائیل جنگ، مذہبی آزادی اور قومی شناخت پر تلخ سیاسی مباحث نے معاشرے کو گہرے طور پر تقسیم کیا ہے۔
یہی تضاد اس انتخاب کو غیرمعمولی بناتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب قوم پرستی، سرحدوں کے تحفظ اور سخت امیگریشن پالیسیوں کی سیاست مسلسل طاقت حاصل کر رہی ہے، اسی امریکہ کی ایک فیصلہ کن ریاست میں ووٹروں نے ایک ایسے مسلمان امیدوار کو آگے بڑھایا ہے جس کی پوری سیاسی شناخت ترقی پسند نظریات، سماجی انصاف اور معاشی مساوات کے گرد گھومتی ہے۔
لیکن عبدال السید کی کامیابی صرف مذہبی نمائندگی کی کہانی نہیں۔ یہ دراصل ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر جاری ایک طویل نظریاتی جنگ کا تازہ ترین باب ہے۔ ایک طرف وہ قیادت ہے جو کئی دہائیوں سے امریکی لبرل سیاست کی نمائندہ سمجھی جاتی رہی، اور دوسری طرف وہ نئی نسل ہے جو سمجھتی ہے کہ عدم مساوات، صحت، رہائش، تعلیم، اجرتوں اور غزہ جیسے معاملات پر پرانی قیادت عوام سے کٹ چکی ہے۔
یہ انتخاب اسی کشمکش کا میدان تھا۔
عبدال السید نے تقریباً 14.5 ملین ڈالر جمع کیے، جو کسی بھی ترقی پسند امیدوار کے لیے ایک قابلِ ذکر رقم تھی۔ ان کی حریف ہیلی اسٹیونز کے اپنے انتخابی وسائل اس سے کم تھے، لیکن ان کی حمایت میں اسرائیل نواز سیاسی نیٹ ورکس اور سپر پی اے سیز، خصوصاً اے پیک سے وابستہ گروپوں، نے کروڑوں ڈالر کی آزادانہ انتخابی مہم چلائی۔ امریکی سیاسی مبصرین کے مطابق اس مقابلے میں پیسے کی طاقت غیرمعمولی تھی، مگر نتیجہ ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر گیا کہ کیا ہر انتخاب صرف سرمایہ جیتتا ہے، یا بعض اوقات عوامی مزاج مالی برتری پر بھی غالب آ جاتا ہے؟

مشیگن خود بھی محض ایک ریاست نہیں۔ یہ امریکہ کی انتخابی سیاست کی تجربہ گاہ ہے۔ یہاں مزدور طبقہ ہے، صنعتی بحران کی تاریخ ہے، عرب اور مسلمان امریکیوں کی بڑی آبادی ہے، اور وہ ووٹر بھی ہیں جنہوں نے مختلف ادوار میں دونوں بڑی جماعتوں کو اقتدار تک پہنچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ غزہ جنگ کے بعد اسی ریاست میں ڈیموکریٹک قیادت کے خلاف سب سے زیادہ بے چینی بھی دیکھی گئی، جس نے پارٹی کو یہ احساس دلایا کہ اس کا روایتی اتحاد اب پہلے جیسا نہیں رہا۔
مگر ہر سیاسی لہر اپنے ساتھ ایک خطرہ بھی لاتی ہے۔
امریکہ میں ترقی پسند سیاست کی موجودہ لہر کا موازنہ بعض مبصرین 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ابھرتی ہوئی عوامی لہر سے کرتے ہیں۔ دونوں نے مختلف نظریات کی نمائندگی کی، لیکن ایک قدر مشترک تھی: دونوں نے اس احساس کو آواز دی کہ روایتی سیاسی اشرافیہ عام شہری کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
لیکن یہیں سے اصل سوال شروع ہوتا ہے۔
انتخابی جلسوں میں تبدیلی کا وعدہ کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، مگر امریکہ جیسے سرمایہ دارانہ معاشی نظام میں ان وعدوں کو حقیقت بنانا کہیں زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔ امریکی معیشت صرف حکومت سے نہیں چلتی؛ اسے وال اسٹریٹ، عالمی سرمایہ، بڑی کارپوریشنوں، مالیاتی اداروں، وفاقی ڈھانچے، عدالتی فیصلوں اور ریاستی سیاست کے ایک انتہائی پیچیدہ نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہونا پڑتا ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی معیشتیں، حتیٰ کہ چین بھی، ریاستی کردار کے باوجود سرمایہ اور منڈی کے بغیر اپنی ترقی برقرار نہیں رکھ سکتیں۔ ایسے ماحول میں ترقی پسند قیادت کے لیے ہر وعدہ صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی امتحان بھی بن جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عبدال السید کی فتح کے ساتھ سب سے بڑا سوال ان کے مخالفین نہیں بلکہ ان کے اپنے حامیوں سے جڑا ہوا ہے۔
جن نوجوانوں، اقلیتوں، مزدوروں اور متوسط طبقے نے انہیں تبدیلی کی علامت سمجھ کر ووٹ دیا ہے، وہ فوری نتائج بھی چاہیں گے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ معاشی ڈھانچے، سماجی عدم مساوات اور طاقت کے مراکز چند مہینوں میں تبدیل نہیں ہوتے۔ ان کے لیے برسوں، بلکہ بعض اوقات دہائیاں درکار ہوتی ہیں۔
یہی آزمائش آج نیویارک میں ترقی پسند سیاست کے دوسرے نمایاں چہرے ظہران ممدانی کے گرد بھی دکھائی دینے لگی ہے۔ عوامی مقبولیت اپنی جگہ، لیکن جیسے جیسے اقتدار قریب آتا ہے، توقعات بڑھتی جاتی ہیں اور تنقید صرف مخالفین ہی نہیں بلکہ اپنے نظریاتی ساتھیوں کی طرف سے بھی شروع ہو جاتی ہے۔ جدید جمہوریتوں میں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے: انقلاب کا نعرہ عوام کو متحد کر دیتا ہے، مگر حکمرانی کا مرحلہ انہی صفوں میں اختلاف پیدا کر دیتا ہے جنہوں نے تبدیلی کا خواب دیکھا تھا۔
اسی لیے عبدال السید کی کامیابی کو صرف ایک مسلمان امیدوار کی فتح یا ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک دھڑے کی کامیابی سمجھنا کافی نہیں ہوگا۔ یہ اس وسیع تر سوال کی علامت ہے کہ کیا امریکی جمہوریت اپنے اندر سے ایک نئی سیاسی زبان پیدا کر رہی ہے، یا پھر یہ بھی ماضی کی کئی اصلاحی تحریکوں کی طرح عوامی جوش کے بعد ادارہ جاتی حقیقتوں سے ٹکرا کر اپنی رفتار کھو دے گی۔
انتخابات اکثر تاریخ کا اختتام نہیں ہوتے؛ وہ تاریخ کے اگلے باب کا آغاز ہوتے ہیں۔ عبدال السید نے پہلا دروازہ کھول دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ دروازہ واقعی ایک نئے سیاسی عہد کی طرف جاتا ہے، یا صرف ایک ایسے طویل سفر کا آغاز ہے جہاں عوام کی امیدیں، سرمایہ کی طاقت، ریاستی ادارے اور جمہوریت کی سخت حقیقتیں ایک دوسرے کا امتحان لیں گی


