Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںیورپی یونین کے نئے بارڈر نظام کا امتحان، مسافروں کی قطاروں سے...

ٹرینڈنگ

یورپی یونین کے نئے بارڈر نظام کا امتحان، مسافروں کی قطاروں سے ڈیجیٹل سرحدوں کے خواب تک

یورپی یونین کے نئے بارڈر نظام کا امتحان، مسافروں کی قطاروں سے ڈیجیٹل سرحدوں کے خواب تک

یورپ کے ائیرپورٹوں پر حالیہ دنوں میں نظر آنے والے طویل انتظار، پریشان مسافروں اور چھوٹی ہوئی پروازوں نے ایک بڑے سوال کو جنم دیا ہے: کیا یورپی یونین کا نیا ڈیجیٹل سرحدی نظام جدید دور کے سفر کو آسان بنائے گا یا عارضی طور پر اسے مزید پیچیدہ کر دے گا؟

یورپی یونین نے سرحدی نگرانی کو جدید بنانے کے لیے ایک نئے نظام کا آغاز کیا ہے جس کے تحت یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے آنے اور جانے والے مسافروں کا ریکارڈ زیادہ منظم طریقے سے محفوظ کیا جائے گا۔ اس نظام میں پاسپورٹ کی جانچ کے ساتھ بائیومیٹرک معلومات، جیسے چہرے کی شناخت اور انگلیوں کے نشانات، کا استعمال شامل ہے۔

اس اقدام کا مقصد روایتی پاسپورٹ اسٹیمپنگ کے طریقہ کار کو ختم کرکے ایک ایسا ڈیجیٹل ریکارڈ قائم کرنا ہے جو مسافروں کی آمد و رفت کو زیادہ مؤثر انداز میں مانیٹر کر سکے۔ یورپی حکام کے مطابق اس سے غیر قانونی قیام، شناخت کے مسائل اور سرحدی نگرانی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

لیکن نئے نظام کے ابتدائی نفاذ نے یورپ کے کئی بڑے ائیرپورٹوں پر عملی مشکلات کو نمایاں کر دیا ہے۔ جہاں پہلے چند منٹ میں مکمل ہونے والی کارروائی اب زیادہ وقت لے رہی ہے، وہاں مسافروں کی قطاریں بڑھ گئی ہیں۔ کچھ افراد نے بتایا کہ اضافی جانچ کے باعث انہیں اپنی پروازوں کے دروازے بند ہونے کے بعد پہنچنا پڑا۔

سفری صنعت کے ماہرین کے مطابق یورپ جیسے خطے میں، جہاں ہر سال کروڑوں افراد سیاحت، کاروبار اور تعلیم کے لیے سفر کرتے ہیں، کسی بھی نئے نظام کی کامیابی کا انحصار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ اس کے نفاذ کی رفتار، عملے کی تربیت اور ائیرپورٹوں کی تیاری پر بھی ہوتا ہے۔

کچھ ائیرلائنز نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ یورپ کے سفر کے دوران معمول سے زیادہ وقت پہلے ائیرپورٹ پہنچیں۔ خاص طور پر ان مسافروں کے لیے اضافی وقت درکار ہو سکتا ہے جو پہلی مرتبہ نئے طریقہ کار سے گزر رہے ہیں۔

تاہم یورپی حکام کا موقف ہے کہ ابتدائی مشکلات کسی بھی بڑے تکنیکی اور انتظامی منصوبے کا حصہ ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق وقت کے ساتھ عملہ تجربہ حاصل کرے گا، نظام بہتر ہوگا اور موجودہ رکاوٹیں کم ہو جائیں گی۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یورپ ایک ایسے وقت میں اپنے سرحدی نظام کو تبدیل کر رہا ہے جب عالمی سفر پہلے ہی وبا کے بعد تیزی سے بحال ہوا ہے اور ائیرپورٹ پہلے سے زیادہ دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق اگر انتظامی تیاری ٹیکنالوجی کی رفتار کے ساتھ نہ چل سکی تو مسافروں کے لیے آسان سفر کا وعدہ ایک نئی مشکل میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

یہ تنازع صرف قطاروں اور تاخیر کا نہیں بلکہ جدید ریاستوں کے ایک بڑے سوال سے بھی جڑا ہے: سیکیورٹی، نگرانی اور آسان سفر کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے؟

یورپی یونین کا نیا نظام آنے والے برسوں میں دنیا کے بڑے سرحدی ماڈلز میں شمار ہو سکتا ہے، لیکن اس کی کامیابی کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ آیا یہ مسافروں کے لیے ایک محفوظ اور تیز سفر کا راستہ بناتا ہے یا بیوروکریسی کی ایک نئی دیوار کھڑی کر دیتا ہے

مزید پڑھیں