ماہرینِ نفسیات کے مطابق براہِ راست غصہ ظاہر نہ کرنے والے شریکِ حیات سے کیسے نمٹا جائے؟
ماہرینِ نفسیات کے مطابق براہِ راست غصہ ظاہر نہ کرنے والے شریکِ حیات سے کیسے نمٹا جائے؟
ماہرینِ نفسیات کے مطابق ایسے شریکِ حیات کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے جو اپنے غصے، ناراضی یا اختلاف کو براہِ راست ظاہر کرنے کے بجائے خاموشی، طنز، تاخیر یا بالواسطہ رویوں کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔
تھراپسٹس کا کہنا ہے کہ ایسے رویے کا سامنا کرتے وقت سب سے پہلے جذباتی ردِعمل کے بجائے پرسکون انداز اختیار کرنا ضروری ہے۔ الزام تراشی یا فوری جھگڑے کے بجائے گفتگو کو مسئلے کے حل کی طرف لے جانا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ شریکِ حیات کے رویے کو ذاتی حملہ سمجھنے کے بجائے واضح اور کھلے انداز میں بات کی جائے۔ مثال کے طور پر یہ پوچھنا کہ “کیا کوئی بات ہے جس سے آپ ناراض ہیں؟” یا “ہم اس مسئلے کو بہتر طریقے سے کیسے حل کر سکتے ہیں؟” بات چیت کے دروازے کھول سکتا ہے۔
تھراپسٹس کے مطابق حدود کا تعین بھی اہم ہے۔ اگر مسلسل خاموشی، طنز یا جذباتی دباؤ تعلق کو نقصان پہنچا رہا ہو تو اپنے احساسات اور توقعات واضح کرنا ضروری ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک صحت مند رشتے میں دونوں افراد کو اپنے جذبات کا اظہار کرنے اور مسائل پر براہِ راست بات کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ اگر غیر براہِ راست جارحانہ رویہ مستقل مسئلہ بن جائے تو پیشہ ورانہ مشاورت تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے


