وسکونسن کی گورنر شپ کی امیدوار فرانسسکا ہانگ کا پرانا بیان دوبارہ منظرِ عام پر، نسلی شناخت سے متعلق ریمارکس پر نئی سیاسی بحث چھڑ گئی
وسکونسن کی گورنر شپ کی امیدوار فرانسسکا ہانگ کا پرانا بیان دوبارہ منظرِ عام پر، نسلی شناخت سے متعلق ریمارکس پر نئی سیاسی بحث چھڑ گئی
امریکی ریاست وسکونسن سے گورنر شپ کی ڈیموکریٹ سوشلسٹ امیدوار Francesca Hong ایک بار پھر اپنے 2021 کے ایک انٹرویو کے باعث سیاسی تنازع کا مرکز بن گئی ہیں، جس میں انہوں نے “سفید فام شناخت” اور اپنی خاندانی صورتحال سے متعلق گفتگو کی تھی۔
انٹرویو میں فرانسسکا ہانگ نے کہا تھا کہ ان کی “سفید فام شناخت سے قربت” اب بھی ان کی زندگی کا حصہ ہے کیونکہ ان کا بیٹا نصف سفید فام اور نصف کوریائی نژاد ہے۔ ان کے بقول وہ اکثر اس بات پر غور کرتی ہیں کہ معاشرہ ان کے بیٹے کی شناخت کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور اس کی نسلی شناخت اس کی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ بیان حالیہ دنوں میں دوبارہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس کے بعد قدامت پسند سیاسی حلقوں نے ہانگ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ان کے ریمارکس سفید فام شناخت کے بارے میں متنازع تصور کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ بعض مبصرین نے اسے غیر ضروری نسلی تقسیم کو ہوا دینے کے مترادف قرار دیا۔
دوسری جانب ہانگ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کا مقصد مخلوط نسلی خاندانوں کو درپیش سماجی حقائق اور شناخت کے مسائل پر روشنی ڈالنا تھا، نہ کہ کسی نسل یا طبقے کے خلاف تعصب کا اظہار۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وسکونسن میں گورنر کے انتخابی معرکے کی تیاریاں زور پکڑ رہی ہیں اور نسلی شناخت، سماجی انصاف اور امیگریشن جیسے موضوعات امریکی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں حیثیت اختیار کر گئے ہیں


