ٹرمپ کے زرعی خوشحالی کے وعدے پر سوالات، آئیووا کے کسان اب بھی انتظار میں
ٹرمپ کے زرعی خوشحالی کے وعدے پر سوالات، آئیووا کے کسان اب بھی انتظار میں
آئیووا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے زراعت کے لیے “سنہری دور” کے وعدے کے باوجود آئیووا کے کسانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک وہ معاشی بہتری نظر نہیں آئی جس کی توقع کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق کسانوں کو بڑھتے ہوئے اخراجات، فصلوں کی گرتی ہوئی قیمتوں اور بعض غیر ملکی خریداروں کے ختم ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں عائد کیے گئے وسیع تجارتی محصولات اور ایران جنگ کے اثرات نے زرعی شعبے پر اضافی دباؤ ڈالا ہے۔
امریکی کسان عمومی طور پر ریپبلکن پارٹی کے مضبوط حامی سمجھے جاتے ہیں، تاہم موجودہ معاشی مشکلات کے باعث دیہی علاقوں میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کے اشارے سامنے آ رہے ہیں، جس سے 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
آئیووا کے پولک سٹی کے کسان ایرون لیہمن نے بتایا کہ رواں سال کے آغاز سے ان کے ہیلتھ انشورنس کے اخراجات دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں، جبکہ ایران جنگ کے باعث ڈیزل، کھاد اور دیگر زرعی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
کسانوں کے مطابق ایک طرف پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے اور دوسری جانب فصلوں کی قیمتیں کمزور ہیں، جس سے آمدنی پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی پالیسی، عالمی منڈیوں کی صورتحال اور توانائی کی قیمتیں امریکی کسانوں کے مستقبل پر گہرا اثر ڈال رہی ہیں، جبکہ دیہی ووٹرز کا معاشی رویہ آئندہ انتخابات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے


