کراچی: کے ایم سی کی اندھیر نگری، 11 سال بیرونِ ملک مقیم افسر کو ساڑھے چار کروڑ کی تنخواہ، جہاں ایک طرف گھوسٹ ملازمین کے خلاف کارروائی
کراچی: کے ایم سی کی اندھیر نگری، 11 سال بیرونِ ملک مقیم افسر کو ساڑھے چار کروڑ کی تنخواہ، جہاں ایک طرف گھوسٹ ملازمین کے خلاف کارروائی
(KMC) میں ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے جس نے پورے ادارے میں ہلچل مچا دی ہے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی سید فیصل رضوی ، جو 11 سال بیرون ملک مقیم رہے انہیں غیر حاضری کی پوری مدت کی تنخواہ اور الاونسز تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے جاری کر دیے گئے یہ معاملہ اس وقت اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب KMC انتظامیہ گھوسٹ ملازمین کے خلاف بھرپور ایکشن کا دعویٰ کر رہی ہے۔
11 سال کی غیر حاضری ایک دن کی تنخواہ کم نہیں
فیصل رضوی کی ریکارڈ فائل کے مطابق ، وہ 8 فروری 2011 سے 21 اکتوبر 2021 تک بیرون ملک مقیم رہے اس عرصے کے دوران انہیں نہ صرف تنخواہیں دی گئیں بلکہ ان کی ترقی بھی ہوتی رہی۔ وہ لب اسٹنٹ (گریڈ 14) کے عہدے سے ڈپٹی ڈائریکٹر (گریڈ 17) اور پھر گریڈ 18 میں ترقی پا گئے جبکہ وہ ملک سے باہر تھے
اعداد و شمار کے مطابق فیصل رضوی کو 659 دنوں کی مکمل تنخواہوں کے طور پر 2 کروڑ 17 لاکھ 52 ہزار 372 روپے، جبکہ مجموعی الاونسز 2 کروڑ 33 لاکھ 24 ہزار 536 روپے ادا کیے گئے یوں انہیں کل 4 کروڑ 50 لاکھ 76 ہزار 908 روپے سے زائد کی ادائیگی کر دی گئی ان کی ماہانہ تنخواہ 2 لاکھ 83 ہزار 674 روپے ہے
دوہرا معیار : ایک طرف گھوسٹ ملازمین کے خلاف دوسری طرف گھوسٹ افسر کو انعام
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے حال ہی میں KMC میں ایک جدید ڈیجیٹل پے رول سسٹم (SAP) متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے 101 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی جو ڈبل تنخواہیں وصول کر رہے تھے۔ میئر نے اس نظام کو گھوسٹ ملازمین کے خاتمے کے لیے اہم قرار دیا اور بتایا کہ اس سے شفافیت آئے گی
تاہم، جہاں ایک طرف گھوسٹ ملازمین کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہیں فیصل رضوی جیسے افسر کو 11 سال کی غیر حاضری کے باوجود تمام مراعات دینا دوہرے معیار کی واضح مثال ہے۔ سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) نے بھی KMC میں گھوسٹ ملازمین کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے اور نوٹ کیا کہ 12,000 سے زائد ملازمین کی حاضری کا کوئی بائیو میٹرک نظام موجود نہیں
PAC اجلاس میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ کچھ KMC ملازمین “ویزا” سسٹم پر بیرون ملک مقیم ہیں، جبکہ وہ تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔
فیصل رضوی کا معاملہ بھنی اسی نوعیت کا ہے
کیا قواعد اجازت دیتے ہیں ؟
سابق سینئر ہیومین ریسورسز آفیسر جمیل فاروقی کے مطابق، بلدیہ عظمیٰ کراچی کو چار سال سے زائد کی رخصت منظور کرنے کا اختیار حاصل نہیں اس سے زائد رخصت کے لیے سندھ حکومت کی منظوری ضروری ہے۔ سندھ لوکل کونسل ایمپلائز (سروس) رولز اور رخصت قواعد کے مطابق، غیر معمولی رخصت (Extraordinary Leave) صرف مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری سے اور بغیر تنخواہ دی جا سکتی ہے
قواعد میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں کہ کوئی ملازم 11 سال تک غیر حاضر رہے اور بعد میں اس پوری مدت کو “آن ڈیوٹی” تصور کروا کر تنخواہ وصول کر سکے۔ یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آخر کیسے یہ تمام غیر قانونی کارروائی کو قانونی بنا دیا گیا ؟
ملوث افسران کے دستخط
فیصل رضوی کو تنخواہ جاری کرنے کے حکم نامے پر ڈائریکٹر اکاؤنٹس، ڈائریکٹر ویٹرنری، اور سینئر ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز سمیت اعلیٰ افسران کے دستخط موجود ہیں۔ یہ سرٹیفیکٹ مارچ 2026 میں جاری کیے گئے جبکہ بجٹ 2024 میں پاس کر دیا گیا تھا
فیصل رضوی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ادارے کے قوانین پر عمل کیا ہے اور ان کی تنخواہ منظور تو ہوئی تھی لیکن انہیں ملے نہیں تھے تاہم، ان کی گریڈ 18 میں ترقی اور بیرون ملک قیام کے حوالے سے وہ کچھ بتانے سے قاصر ہیں
اس بارے میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے دیگر افسران کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور اس معاملے کی سنگینی کو تسلیم کیا ہے تاہم، عوام اور سول سوسائٹی کی جانب سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ جب ایک طرف KMC سے گھوسٹ ملازمین کو نکالنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف اس طرح کے بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانی کے واقعات کیسے رونما ہو رہے ہیں ؟


