Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگمناسب سطح اختیار، صوابدید اور چودھراہٹ کے بیچ پاکستان کی حکمرانی کا...

ٹرینڈنگ

مناسب سطح اختیار، صوابدید اور چودھراہٹ کے بیچ پاکستان کی حکمرانی کا مسئلہ اور اس کا حل

مناسب سطح
اختیار، صوابدید اور چودھراہٹ کے بیچ پاکستان کی حکمرانی کا مسئلہ اور اس کا حل

تحریر: برگئیڈئر عتیق الرحمان
پہلا حصہ: مسئلہ کہاں ہے
پاکستان کی خراب حکمرانی پر بات ہوتی ہے تو انگلی اکثر غلط سمت اٹھتی ہے۔ کوئی کہتا ہے صوبے بہت بڑے ہیں، کوئی کہتا ہے قوم بددیانت ہے، کوئی کہتا ہے وسائل کم ہیں۔ یہ تینوں تشخیصیں آدھی ہیں، اور آدھی تشخیص پورے علاج کو ناکام کر دیتی ہے۔

پہلی غلط فہمی دور کر لیں: جسامت مرض نہیں ہے۔ جرمنی کا صوبہ شمالی رائن-ویسٹ فیلیا ایک کروڑ اسی لاکھ کا ہے، امریکہ کی کیلیفورنیا چار کروڑ کی، چین کے کئی صوبے دس کروڑ سے اوپر — سب “بڑے” ہیں اور کام کرتے ہیں۔ پاکستان میں دو الگ بیماریاں ہیں، انہیں گڈمڈ نہ کریں۔

ایک تو حد سے زیادہ غالب اکائی ہے۔ کسی کام کرنے والے وفاق میں ایک صوبہ پوری آبادی پر غالب نہیں ہوتا — کیلیفورنیا امریکہ کا بارہ فیصد ہے، اتر پردیش بھارت کا سترہ فیصد، مگر پنجاب پاکستان کا تریپن فیصد۔ یہ وفاق نہیں، ایک صوبہ اور تین ضمیمے ہیں۔ یہی وہ ساخت ہے جس سے بلوچستان اور سندھ کی محرومی کا نصف جنم لیتا ہے۔ مگر یہ اس مضمون کا موضوع نہیں۔

اصل مرض دوسرا ہے، اور زیادہ خاموشی سے کام کرتا ہے: اختیار کا ارتکاز اور اس کا مقصد۔ اٹھارہویں ترمیم نے وفاق سے صوبے کو اختیار دیا، مگر صوبے نے وہ اختیار ضلع اور تحصیل تک جانے نہیں دیا۔ آئین کا آرٹیکل ایک سو چالیس-اے مقامی حکومت کو لازم کہتا ہے، مگر بے دانت ہے — صوبے اس کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہیں اور کوئی سزا نہیں۔ نتیجہ یہ کہ انتقالِ اختیار صوبائی دارالحکومت پر آ کر رک گیا۔ ایک نئی مرکزیت پیدا ہوئی — کم نظر آنے والی، زیادہ گہری۔

اور جو خلا نیچے رہ گیا، اسے نوآبادیاتی ڈھانچے نے پُر کیا۔ تعینات شدہ ڈپٹی کمشنر — جو انگریز کا محصول اور مجسٹریسی کا نظام ہے، قابو اور کشید کے لیے بنایا گیا، خدمت کے لیے نہیں — آج بھی ضلع چلاتا ہے۔ یہی بنیادی تضاد ہے: ہم حکمرانی نہیں، انتظام کر رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ حکمرانی میں شہری اصل مالک ہے، انتظام میں رعایا۔

مگر سب سے گہری تہہ اس سے بھی نیچے ہے۔

— سطح پر دکھنے والا مسئلہ: گلی کی نالی خراب ہے، سکول ویران ہے۔
— اس کے نیچے نظام: پیسہ اور اختیار اوپر جمع ہے، یونین کونسل خالی ہے۔
— اس کے نیچے عالمی نظریہ: طاقت کو روکنا اور صوابدید کے لیے سنبھالنا معیوب نہیں سمجھا جاتا؛ شہری کو حق دار نہیں، سائل سمجھا جاتا ہے۔
— اور سب سے نیچے کہانی اور استعارہ: یہاں چودھراہٹ بیٹھی ہے — مالک اور منت کرنے والے کا رشتہ، “مائی باپ” کی کہانی، وہ گہرا استعارہ کہ طاقت کسی کی ذات میں ہوتی ہے، قاعدے یا عہدے میں نہیں۔
چودھراہٹ اسی چوتھی تہہ کی پیداوار ہے۔ اور یہ کوئی ثقافتی قسمت نہیں کہ ہماری مٹی میں گندھی ہو۔ یہ تین ستونوں پر کھڑی ہے، اور تینوں ریاست کی غیر موجودگی سے بنے ہیں: وہ ریاست اور شہری کے بیچرابطہ ہے (تھانہ، پٹواری، تحصیل — سب اس کے ذریعے)؛ وہ وسائل کا واحد راستہ ہے (ترقیاتی فنڈ، نوکری، رعایت)؛ اور وہ ووٹ کا بیوپاری ہے (برادری کا ووٹ اکٹھا کر کے اوپر بیچتا ہے)۔ غور کریں تو یہ تینوں ستون وہی ہیں جن پر اوپر کی صوابدیدی طاقت کھڑی ہے۔ چودھراہٹ اسی مرض کا نچلا سرا ہے — وہی بیماری، گاؤں کی سطح پر۔

یہ ہے پورا مسئلہ، جڑ سے سطح تک: ایک ایسا ڈھانچہ جو اختیار کو اوپر روکتا ہے تاکہ صوابدید قائم رہے، اور یہ صوابدید ہر سطح پر ایک سودا کروانے والا پیدا کرتی ہے جو مسئلے اور حل کے بیچ کھڑا ہو کر قیمت وصولتا ہے۔

دوسرا حصہ: حل کیا ہے
حل کا آغاز ایک اصول سے ہوتا ہے جسے دنیا subsidiarity کہتی ہے: ہر کام اُس سب سے چھوٹی اکائی کو دو جو اُسے ٹھیک سے کر سکے۔ سوال “بڑی اکائی یا چھوٹی اکائی” نہیں — یہ جھوٹا مقابلہ ہے۔ کچھ کام بڑے پیمانے پر بہتر ہوتے ہیں (دفاع، کرنسی، قومی بجلی کا نظام، وبا پر قابو)، اور کچھ چھوٹی سطح پر (سکول، صفائی، مقامی امن، گلی کی نالی)۔ خرابی تب آتی ہے جب یہ مطابقت بگڑ جائے — اور پاکستان کی خرابی یہی ہے کہ خدمت کے کام بھی اوپر روک لیے گئے ہیں۔

مگر صرف “اختیار نیچے دو” کہنا وہی نعرہ ہے جو پاکستان پہلے آزما چکا ہے اور ناکام رہا۔ اصل حل چار شرطوں کا مجموعہ ہے، جو اکٹھی نہ ہوں تو ہر ایک بے کار ہے۔

پہلی شرط — مال ساتھ جائے- اختیار بغیر بجٹ کے دینا سب سے بڑا دھوکا ہے۔ اور بجٹ اگر ہر سال اوپر کی مہربانی سے آئے، تو نچلی سطح اوپر کو خوش رکھے گی، عوام کو نہیں۔ اصل تبدیلی تب آتی ہے جب یونین کونسل اپنے علاقے سے کوئی محصول خود وصول کرے — چھوٹا پراپرٹی ٹیکس، مقامی فیس، کچھ بھی۔ جس دن گلی کا پیسہ گلی والوں کی جیب سے آئے گا، اُسی دن وہ حساب مانگیں گے۔

دوسری شرط — صوابدید ختم نہ کرو، اسے روشنی میں لاؤ۔ یہاں ایک باریک تضاد ہے۔ اگر آپ ہر سطح سے صوابدید مکمل ختم کر دیں، تو ناظم بھی محض ایک قاعدے پر چلنے والی مشین بن جاتا ہے — پھر مقامی علم کا فائدہ ہی ختم ہو گیا، حالانکہ نیچے اختیار دینے کا مقصد ہی وہ علم تھا۔ سو جو ختم کرنی ہے وہ ہر صوابدید نہیں، بلکہ بے حساب، خفیہ، غیر جوابدہ صوابدید ہے۔ ناظم فیصلہ کرے کہ کون سی گلی پہلے بنے — یہ اس کا جائز اختیار ہے۔ مگر یہ فیصلہ کھلا ہو، ریکارڈ پر ہو، اور اگلے انتخاب میں اس کا حساب ہو۔ فرق “صوابدید ہے یا نہیں” کا نہیں، “صوابدید روشنی میں ہے یا اندھیرے میں” کا ہے۔

تیسری شرط — جوابدہی اوپر نہیں، نیچے اور اطراف کی طرف ہو۔ یہ سب سے زیادہ نظرانداز ہونے والی شرط ہے۔ ناظم کو صوبہ نہ پکڑے؛ ناظم کو مقامی ووٹر، مقامی کونسل، مقامی عدالت اور کھلا ریکارڈ پکڑے۔ جس دن نگرانی اوپر چلی گئی، اُسی دن انتقالِ اختیار جھوٹا ہو گیا، کیونکہ اصل طاقت پھر اوپر بیٹھے نگران کے پاس چلی گئی۔ یہیں خالص “چیک اینڈ بیلنس” کے حامی ٹھوکر کھاتے ہیں — وہ اوپر نگرانی کے ادارے بڑھاتے چلے جاتے ہیں اور نادانستہ مرکزیت بڑھا دیتے ہیں، کیونکہ ہر نگران خود ایک نیا صوابدیدی مالک بن جاتا ہے۔

چوتھی شرط — واپسی کا راستہ آئینی طور پر بند ہو۔ اگر اوپر والی سطح جب چاہے اختیار واپس کھینچ سکتی ہے، تو نیچے والی سطح کبھی حقیقی فیصلہ نہیں کرے گی — وہ ہمیشہ اوپر کی ناراضی سے ڈرے گی۔ اسی لیے یہ تحفظ عام قانون میں نہیں، آئین میں ہونا چاہیے، اور اس کے ساتھ سزا کا ڈھانچہ بھی، ورنہ وہی ہوگا جو ایک سو چالیس-اے کے ساتھ ہوا۔

اور ان چار شرطوں کے اوپر ایک پانچویں، سب سے گہری چیز ہے، جس کے بغیر باقی سب کاغذی رہ جاتا ہے: کہانی کے مقابل کہانی۔ چودھراہٹ چوتھی تہہ پر بیٹھی ہے، اس لیے اسے تیسری تہہ کے قانون سے نہیں مارا جا سکتا۔ اسے صرف ایک مخالف استعارہ مار سکتا ہے۔ اگر نیچے کی کہانی “مائی باپ” کی رہی، تو لوگ نئے نظام میں بھی مائی باپ ڈھونڈ لیں گے — منتخب ناظم بھی چودھری بن جائے گا۔ خوش قسمتی سے یہ متبادل استعارہ ہمارے پاس موجود ہے، دبا ہوا سہی: مذہبی روایت کہتی ہے مالک صرف اللہ ہے، انسان سب برابر بندے — یہ “مائی باپ” کے بالکل اُلٹ کھڑا ہے۔ اقبال نے اسی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔ اور شہری کاری ایک نیا استعارہ لاتی ہے: آدمی “کسی کا آدمی” نہیں، اپنا آدمی ہے۔

تیسرا حصہ: دنیا کیا کہتی ہے
یہ اصول نظری نہیں۔ دنیا بھر میں یہی ماڈل چلتا ہے، اور ہر ملک اس کا ایک الگ پہلو روشن کرتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ subsidiarity کی انتہا ہے۔ جو کام کمیون (بلدیہ) کر سکتا ہے وہ کینٹن نہیں کرتا، جو کینٹن کر سکتا ہے وہ وفاق نہیں کرتا۔ تین ہزار لوگوں کی وادی اپنے سکول اور ٹیکس کے فیصلے خود کرتی ہے۔ یہاں کا بلدیاتی افسر پاکستانی افسر سے پیدائشی طور پر زیادہ ایماندار نہیں — فرق نسل یا مذہب کا نہیں۔ فرق یہ ہے کہ اس کے نظام میں چوری کا راستہ بند ہے، پکڑ قریب ہے، جوابدہی فوری۔ یہی اس مضمون کا مرکزی سبق ہے: ایمانداری سبب نہیں، ڈھانچے کا نتیجہ ہے۔

فرانس سب سے سبق آموز ہے، کیونکہ یہ کبھی مرکزیت کی مثال تھا — پیرس سب کچھ چلاتا تھا۔ مگر 1982 کی اصلاحات نے کمیونوں اور محکموں کو اختیار منتقل کیا۔ یعنی سب سے زیادہ مرکزیت پرست ریاست بھی اختیار نیچے دے سکتی ہے۔ یہ ثقافتی مجبوری نہیں، سیاسی فیصلہ ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں “ہماری قوم اس قابل نہیں”، فرانس ان کا جواب ہے۔

جرمنی کا اصل ہتھیار مالی برابری کا نظام (Finanzausgleich) ہے — امیر صوبے غریب صوبوں کو سہارا دیتے ہیں تاکہ کوئی علاقہ خدمات میں نہ گرے۔ پاکستان کا این ایف سی اسی کا کمزور، سیاست زدہ ورژن ہے۔ سبق یہ کہ انتقالِ اختیار کے ساتھ مالی توازن کا ڈھانچہ نہ ہو تو امیر علاقے آگے نکل جاتے ہیں اور غریب پیچھے رہ جاتے ہیں۔

جاپان ثابت کرتا ہے کہ اس سب کے لیے وفاق ضروری نہیں۔ جاپان مرکزی ریاست ہے، مگر انتظامی طور پر منتشر — سینتالیس prefectures اور بلدیات عملدرآمد کرتی ہیں، ٹوکیو صرف framework دیتا ہے۔ یعنی صوبے توڑنے یا نہ توڑنے کی بحث سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اصل کھیل اختیار کی تقسیم کا ہے، نقشے کی لکیروں کا نہیں۔

امریکہ کا خاص سبق special districts ہیں — پانی، سکول، ٹرانسپورٹ کے لیے الگ الگ منتخب بورڈ۔ ایک کام کے لیے ایک جوابدہ اکائی۔ شہری بالکل جانتا ہے کہ سکول خراب ہے تو کس کو ووٹ سے ہٹانا ہے۔ جوابدہی جتنی مخصوص ہو، اتنی مؤثر ہوتی ہے۔

ان پانچ مثالوں کا مشترکہ اصول ایک ہی ہے: جہاں شہری ریاست سے ملتا ہے، وہاں پیسہ اور ووٹ دونوں موجود ہیں۔ یہی پاکستان میں غائب ہے۔

چوتھا حصہ: اسے عملی جامہ کون پہنائے گا
یہ سب سے کٹھن سوال ہے، اور یہیں زیادہ تر اصلاحی سوچ دم توڑ دیتی ہے۔ کیونکہ ایک بے رحم دائرہ سامنے آتا ہے: جو ڈھانچہ بدل سکتا ہے، وہی اُس ڈھانچے کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ہے۔ رکن اسمبلی ہی وہ قانون بنائے گا جو رکن اسمبلی کی طاقت کاٹے۔ ترقیاتی فنڈ اس کی سیاست کا ایندھن ہے؛ یونین کونسل کو بااختیار کرنا اسے بے اختیار کرنا ہے۔ اور چودھری بلدیاتی نظام کا سب سے بڑا دشمن ہے، کیونکہ بااختیار یونین کونسل اس کا سب سے بڑا حریف ہے۔ کوئی طبقہ رضاکارانہ خودکشی نہیں کرتا۔

اسی لیے یہ اصلاح کبھی محض نیک نیتی سے نہیں آتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اختیار کبھی محبت یا دلیل سے نیچے نہیں اترا — یہ ہمیشہ دباؤ سے اترا، تین شکلوں میں، اور پاکستان کا راستہ بھی انہی تین میں سے کسی ایک یا سب کے ملاپ سے کھلے گا۔

پہلا: بحران۔ جب اوپر والا نظام اتنا ناکام ہو جائے کہ اس کا اپنا وجود خطرے میں پڑ جائے، تو وہ مجبوراً اختیار چھوڑتا ہے — بچنے کے لیے، نیکی کے لیے نہیں۔ پاکستان میں بحران موجود ہے، مگر ابھی تک وہ اصلاح میں نہیں بدلا، کیونکہ اشرافیہ کے پاس بحران کو ٹالنے کے سہارے (قرض، بیرونی مدد) باقی ہیں۔ یہ سہارے جتنے کم ہوں گے، دباؤ اتنا بڑھے گا۔

دوسرا: منظم نیچے کا دباؤ۔ بکھرے ہوئے شہری کمزور ہوتے ہیں، مگر منظم شہری اوپر والے کو رعایت دینے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ بلدیاتی حق کی تحریک، مقامی سطح پر منظم مطالبہ — یہی وہ قوت ہے جو اوپر کے ہاتھ سے اختیار کھینچتی ہے۔ پاکستان میں یہ دباؤ منظم نہیں ہو پاتا، اور اس کی ایک بڑی وجہ خود چودھراہٹ ہے، جو نچلی سطح کے شہریوں کو منظم ہونے سے پہلے ہی برادری میں بانٹ دیتی ہے۔

تیسرا: اشرافیہ کے اندر پھوٹ۔ جب اوپر والے طبقے کا ایک حصہ حساب لگائے کہ اختیار بانٹنے میں اُس کا اپنا فائدہ ہے — زیادہ استحکام، کم بغاوت، زیادہ جائز حیثیت — تو تبدیلی اندر سے آتی ہے۔ تاریخ میں بیشتر بڑی اصلاحات اسی راستے سے آئیں: پورے طبقے نے نہیں، اس کے ایک دور اندیش حصے نے۔

اور ان تینوں کے پیچھے ایک چوتھی، سست مگر فیصلہ کن قوت کام کرتی ہے: متبادل راستوں کا کھلنا۔ چودھراہٹ اور جاگیر ہر سماج میں وہاں سب سے پہلے ٹوٹی جہاں شہری کے پاس متبادل راستے کھلے — شہر میں چودھراہٹ گاؤں جتنی مضبوط نہیں، کیونکہ شہر میں ریاست، روزگار اور معلومات تک متبادل رسائی ہے۔ شہری کاری، تعلیم، اور براہِ راست رسائی — یہی تین چیزیں تاریخ میں چودھراہٹ کو کھا گئیں۔ آج ایک نئی چیز ان تینوں کو تیز اور سستا کر رہی ہے: وہ ٹیکنالوجی جو شہری کو دلال کے بغیر ریاست تک پہنچاتی ہے، جو محصول کی وصولی اور خرچ کو کھلے ریکارڈ پر لاتی ہے، اور جو مقامی جوابدہی کو ممکن بناتی ہے۔ جہاں شہری موبائل سے اپنا کاغذ خود نکال لے، وہاں پٹواری اور چودھری دونوں کا ستون کمزور ہوتا ہے۔

تو آخر میں یہ ذمہ داری تین ہاتھوں میں بٹتی ہے۔

ریاست کا دور اندیش حصہ — عدلیہ، وہ سیاسی قیادت جو اپنی بقا کو استحکام میں دیکھے، اور وہ ادارے جو بحران کی قیمت سب سے پہلے چکاتے ہیں — قانون اور آئینی تحفظ فراہم کرے۔

منظم شہری — نچلی سطح پر مقامی حق کا مطالبہ اٹھائے، تاکہ اوپر پر دباؤ رہے اور اختیار ملنے کے بعد اس کا حساب بھی مانگا جائے۔

اور وہ جو کہانی بدلتے ہیں — لکھنے والے، اساتذہ، مبلغ، فنکار — سب سے گہری تہہ پر لڑیں۔ کیونکہ جب تک نیچے کی کہانی “مائی باپ” کی ہے، اوپر کا ہر قانون اسی کہانی میں ڈھل جائے گا۔ یہ لڑائی صرف قانون سازی کی نہیں، بیانیے کی بھی ہے — اور شاید سب سے پہلے بیانیے کی ہے، کیونکہ عناایت اللہ کا اصل سبق یہی ہے: جو تہہ سب سے گہری ہے، وہی سب سے زیادہ لیوریج رکھتی ہے۔ اوپر کی تہوں پر زور لگاؤ تو تھوڑا ہلتا ہے؛ سب سے نیچے کی کہانی بدل دو تو اوپر کی چاروں تہیں خودبخود ہل جاتی ہیں۔

خلاصہ
مسئلہ صوبوں کی جسامت نہیں، اختیار کا ارتکاز ہے — اور یہ ارتکاز صوابدید کے لیے قائم رکھا گیا ہے، جو ہر سطح پر ایک دلال پیدا کرتی ہے، اور اس کی سب سے گہری شکل چودھراہٹ ہے۔ حل یہ نہیں کہ “سوچ بدلو، ایمانداری اپناؤ” — یہ مایوسی کا راستہ ہے، کیونکہ ایمانداری سبب نہیں نتیجہ ہے۔ حل یہ ہے کہ اختیار اس کی مناسب سطح پر منتقل کرو، ساتھ مال اور خرچ کا حق، صوابدید کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لاؤ، جوابدہی اوپر نہیں نیچے کی طرف بناؤ، واپسی کا راستہ آئینی طور پر بند کرو، اور سب سے گہری تہہ پر مائی باپ کی کہانی کے مقابل شہری برابری کی کہانی کھڑی کرو۔ یہ سب اکٹھے چلیں تو نظام خودبخود ایمانداری کی طرف دھکیلتا ہے، بغیر کسی کا دل بدلے۔

اور اسے عملی جامہ کوئی ایک نجات دہندہ نہیں پہنائے گا۔ یہ بحران کے دباؤ، منظم شہری مطالبے، اشرافیہ کے دور اندیش حصے، اور بدلتی ہوئی کہانی کے ملاپ سے ہوگا — اور آج پہلی بار ٹیکنالوجی اس ملاپ کو ممکن بنا رہی ہے، کیونکہ وہ شہری کو دلال کے بغیر ریاست تک پہنچاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کیا کرنا ہے؛ وہ معلوم ہے۔ سوال یہ ہے کہ جسے اپنی طاقت کاٹنی ہے، اُس سے یہ کیسے کروایا جائے — اور اس کا جواب دباؤ اور کہانی میں ہے، دلیل اور نیک خواہش میں نہیں۔

مزید پڑھیں