کیا تھراپسٹ بالغ بچوں کے والدین سے تعلق توڑنے کے بڑھتے رجحان میں کردار ادا کر رہے ہیں؟
کیا تھراپسٹ بالغ بچوں کے والدین سے تعلق توڑنے کے بڑھتے رجحان میں کردار ادا کر رہے ہیں؟
نیویارک: امریکہ میں بالغ افراد کی جانب سے اپنے والدین سے مکمل تعلق ختم کرنے کے بڑھتے رجحان پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جس میں بعض حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا جدید تھراپی کا طریقہ کار بھی اس تبدیلی میں کوئی کردار ادا کر رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برسوں میں ایسے بالغ افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو اپنے والدین سے رابطہ ختم کرنے یا طویل فاصلے اختیار کرنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ بعض خاندانوں کا مؤقف ہے کہ تھراپسٹ بعض اوقات افراد کو خاندانی تنازعات کے حل کے بجائے تعلق ختم کرنے کی طرف زیادہ مائل کر دیتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض تھراپی طریقوں میں ماضی کے منفی تجربات، جذباتی تکلیف اور ذاتی حدود پر زیادہ زور دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کچھ افراد والدین کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے بجائے مکمل قطع تعلق کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔
تاہم ماہرینِ نفسیات اس الزام کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک ذمہ دار تھراپسٹ کا مقصد خاندان توڑنا نہیں بلکہ افراد کو صحت مند فیصلے کرنے، تنازعات سمجھنے اور بہتر تعلقات قائم کرنے میں مدد دینا ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتے فاصلے کے پیچھے صرف تھراپی نہیں بلکہ نسلوں کے درمیان اقدار کا فرق، خاندانی رویے، ذہنی صحت کے بارے میں بڑھتی آگاہی اور سوشل میڈیا کے اثرات سمیت کئی عوامل شامل ہیں۔
یہ بحث اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ میں خاندانی تعلقات، والدین کے کردار اور ذاتی حدود کے تصور پر معاشرتی سطح پر ایک بڑی تبدیلی جاری ہے


