جنوبی افریقہ میں چار پاکستانیوں کا قتل: ٹارگٹ کلنگ، ڈکیتی یا کاروباری دشمنی؟ پولیس ہر پہلو سے تحقیقات میں مصروف
جنوبی افریقہ میں چار پاکستانیوں کا قتل: ٹارگٹ کلنگ، ڈکیتی یا کاروباری دشمنی؟ پولیس ہر پہلو سے تحقیقات میں مصروف
جنوبی افریقہ کے صوبہ گوٹنگ کے علاقے سیبینزا (Sebenza)، کیمپٹن پارک میں ہفتے کی شام نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے چار پاکستانی نژاد دکاندار ہلاک ہو گئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ ایک منظم اور منصوبہ بند حملہ معلوم ہوتا ہے، تاہم پولیس نے ابھی تک حملے کے محرکات یا ذمہ داروں کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا۔
جنوبی افریقی پولیس کے مطابق مقتولین ٹیمبیسا کے علاقے میں چھوٹی دکانیں (اسپازا شاپس) چلاتے تھے اور ہفتے کی شام اپنی گاڑی میں گھر واپس جا رہے تھے۔ جب ان کی گاڑی زورفونٹین روڈ پر ٹریفک سگنل پر رکی تو ایک سفید رنگ کی سیڈان گاڑی ان کے قریب آ کر رکی۔ اس میں سوار دو سے تین مسلح افراد گاڑی سے اترے اور دونوں اطراف سے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ شدید فائرنگ کے بعد متاثرین کی گاڑی بے قابو ہو کر سڑک کے کنارے رکاوٹ سے جا ٹکرائی۔ امدادی اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر چاروں افراد کی موت کی تصدیق کی جبکہ جائے وقوع سے 9 ملی میٹر پستول کے متعدد خول برآمد ہوئے۔
جنوبی افریقہ کے مقامی میڈیا، خصوصاً نیوز 24، دی سٹیزن اور کیمپٹن ایکسپریس کی رپورٹس میں اس حملے کو بظاہر ٹارگٹ کلنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور سیدھا متاثرین کی گاڑی تک پہنچے، فائرنگ کی اور فوری طور پر فرار ہو گئے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملہ پہلے سے منصوبہ بند تھا۔ تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس مرحلے پر کسی ایک محرک کو درست قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
واقعے کے بعد جنوبی افریقہ کے پاکستانی اور دیگر تارکین وطن کے حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ بعض افراد اسے کاروباری رقابت، بھتہ خوری یا غیر ملکی دکانداروں کے خلاف سرگرم جرائم پیشہ گروہوں سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اسے حالیہ مہینوں میں غیر ملکی تاجروں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کے تناظر میں دیکھا ہے۔ تاہم اب تک پولیس نے ان میں سے کسی بھی دعوے کی تصدیق نہیں کی اور کہا ہے کہ تحقیقات تمام ممکنہ پہلوؤں سے جاری ہیں۔
جنوبی افریقہ میں پاکستانی تاجروں پر حملے کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ برسوں میں متعدد پاکستانی دکاندار ڈکیتی، مسلح حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔ صرف گزشتہ ماہ ایک پاکستانی دکاندار کے قتل کے مقدمے میں تین ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے جرائم ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
تاحال مقتولین کی شناخت سرکاری طور پر مکمل طور پر جاری نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ جنوبی افریقی پولیس نے چار افراد کے قتل کا مقدمہ درج کر کے شواہد جمع کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ تفتیش کار سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات کی مدد سے حملہ آوروں کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس وقت دستیاب شواہد کی بنیاد پر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ حملہ ایک منصوبہ بند مسلح کارروائی دکھائی دیتا ہے، لیکن آیا اس کے پیچھے ڈکیتی، ذاتی دشمنی، کاروباری تنازع، بھتہ خوری یا کوئی اور وجہ تھی، اس کا فیصلہ پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ فی الحال سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختلف قیاس آرائیوں کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔


