Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںمحسن نقوی کا نظام کی ناکامی کا اعتراف، ریاستی ہرکارے فرار کی...

ٹرینڈنگ

محسن نقوی کا نظام کی ناکامی کا اعتراف، ریاستی ہرکارے فرار کی تیاری کررہے یا پھر مرضی کا نیا نظام لانے کی راہ ہموار کی جارہی ؟

محسن نقوی کا نظام کی ناکامی کا اعتراف، ریاستی ہرکارے فرار کی تیاری کررہے یا پھر مرضی کا نیا نظام لانے کی راہ ہموار کی جارہی ؟

تجزیاتی رپورٹ آفاق فاروقی
وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے ملک کے موجودہ سیاسی، انتظامی اور حکومتی نظام پر غیر معمولی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل صرف وقتی اقدامات یا حکومتوں کی تبدیلی میں نہیں بلکہ بنیادی اصلاحات میں ہے، کیونکہ موجودہ نظام 70، 80 سال سے چلتے چلتے اپنی صلاحیت کھو چکا ہے
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وہ تقریباً ساڑھے 3 سال سے سیاست کے ایوانوں میں آئے ہیں اور آج وہ سیاسی بات کرنا چاہتے ہیں، جس پر تنقید بھی ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا
محسن نقوی نے کہا
“میں آپ کو صرف یہ بتا سکتا ہوں کہ آپ 10 سال بعد بھی یہی بیٹھے ہوں گے، اور اسی طرح تقریر کر رہے ہوں گے، اور اسی طرح اپنے مسئلے بیان کر رہے ہوں گے۔ اس نے ایسے کا ایسا رہنا ہے، کیونکہ یہ سسٹم جس کے اندر ہم رہ رہے ہیں، یہ کولیپس کر چکا ہے، آپ مانیں نہ مانیں
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے نظام کو مسلسل چلا رہا ہے جس کے بارے میں اب دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے
محسن نقوی نے کہا
“آپ ایک چیز جو 70 سال سے گھسیٹ رہے ہیں، میں آج بھی کہوں گا، جمہوریت ہم سب چاہتے ہیں، ہو، اور میں اس کا سب سے بڑا سپورٹر ہوں اور رہوں گا۔ لیکن جمہوریت کے اندر بھی تو 3، 4، 5 قسم کے نظام ہیں، خالی ایک نظام تو موجود نہیں ہے؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ دنیا میں جمہوریت کے مختلف ماڈلز موجود ہیں، لیکن پاکستان نے ایک ہی طرز کے نظام کو مسلسل جاری رکھا ہوا ہے، چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں
انہوں نے کہا
“لیکن ہم کہتے ہیں نہیں، جو مرضی ہو جائے، جس طرح کا مرضی ہو جائے، ہم نے اسی کو گھسیٹنا ہے، اسی کو چلانا ہے۔ چاہے ہم 14 بلین کی باہر سے ایگریکلچر پراڈکٹس لے آئیں، چاہے ہم اپنا ایگریکلچرل ملک ہوتے ہوئے بھی گندم باہر سے لے آئیں، چاہے جو مرضی آپ کہہ لیں
محسن نقوی نے کہا کہ ملک کی ترقی کے دعوے اپنی جگہ، لیکن بنیادی مسائل پر توجہ دینا ضروری ہے
انہوں نے کہا
“ساروں نے کہا کہ پاکستان بہت ترقی کر رہا ہے، انٹرنیشنل حالات کے لحاظ سے پاکستان کا نام بہت زیادہ… اللہ تعالیٰ نے کرم کیا ہے اور دیا ہے
انہوں نے ان افراد کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جو ملک کا نام عالمی سطح پر بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں، تاہم ساتھ ہی کہا کہ صرف کامیابیوں کے اعلانات کافی نہیں
محسن نقوی نے کہا
“وہ شخص جو 20، 20 گھنٹے جاگ کے پاکستان کے لیے وہ نام لے کے آتے ہیں، میں ان کو بھی آج کہوں گا کہ یہ فائر فائٹنگ صرف فائر فائٹنگ ہے
انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کی بنیادی چیزوں کو جمہوریت کی روح میں رہتے ہوئے درست نہیں کیا جائے گا، مسائل برقرار رہیں گے
ان کے الفاظ تھے
“جب تک آپ اس ملک کی بیسک چیز کو جمہوریت کی روح میں رہ کے ٹھیک نہیں کریں گے، یہ اسی کی طرح، اسی طرح رہے گا
محسن نقوی نے کہا کہ نظام کی بہتری کے لیے صرف حکومت یا سیاست دان کافی نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کو کردار ادا کرنا ہوگا
انہوں نے تقریب میں موجود کاروباری اور سیاسی افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
“اس نظام کو چلانے والے بھی یہ سارے اس ہال میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ تقریباً پاکستان کے سارے چیمبرز موجود ہیں، سارے ایسوسی ایشن موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سیاسی نظام کو چلانے اور انتخابات میں کردار ادا کرنے والے افراد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں
محسن نقوی نے کہا
“کوئی 50 کروڑ کی فنڈنگ دیتا ہے الیکشن سے پہلے، کوئی 10 کروڑ کی دیتا ہے، کوئی 5 کروڑ کی دیتا ہے۔ اس ہال میں بیٹھے ہوئے ہیں یا کسی نہ کسی طریقے سے اس سیاسی نظام کو چلا رہے ہیں
انہوں نے کہا کہ جس دن تمام فریق یہ فیصلہ کر لیں گے کہ نظام کو درست کرنا ہے، تبدیلی ممکن ہو جائے گی
ان کے الفاظ تھے
“جس دن آپ لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ ہم نے اس نظام کو ٹھیک کرنا ہے، یہ نظام ٹھیک ہو جائے گا
محسن نقوی نے کہا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور ملک کے مسائل کا ایک حل یہ بھی ہے کہ مزید صوبے یا انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں
انہوں نے کہا کہ ایک عام آدمی کو اپنے مسائل کے حل کے لیے ریاست تک آسان رسائی ملنی چاہیے
ان کے مطابق
“اس نظام میں ہر چیز بری نہیں ہے، لیکن ایک عام آدمی جو پاکستان کے کسی کونے میں بیٹھا ہوا ہے، اس کو اپنی بیسک فیسلٹی چاہیے۔ اس کو اپنی گورنمنٹ کے ساتھ ایک انٹریکشن چاہیے، جو ہم نہیں دے پاتے۔”
انہوں نے عدالتی نظام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کے باوجود عام شہری کو اب بھی مشکلات کا سامنا ہے
انہوں نے کہا:
“آج بھی 8، 8، 10، 10 گھنٹے کا سفر کر کے لوگ عدالتوں میں جاتے ہیں۔ کیا یہ اس کا رائٹ نہیں ہے کہ اس کو اس کے گھر کے قریب انصاف مل سکے؟ لیکن یہ نہیں ہے
انہوں نے کہا کہ اسی لیے انتظامی تقسیم اور نئے یونٹس کے معاملے پر سوچنے کی ضرورت ہے
محسن نقوی نے نوجوانوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر نوجوانوں کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو ان کی اجتماعی طاقت بڑے سیاسی اثرات پیدا کر سکتی ہے
انہوں نے کہا:
“نوجوانوں سے پوچھیں کہ انہیں کیا چاہیے؟ اگر کاکروچ اکٹھا ہو گیا تو یہ ہر چیز کو الٹ سکتا ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی جماعت یا تحریک کی حمایت نہیں بلکہ نوجوانوں کے جذبات اور مایوسی کی نشاندہی کرنا ہے
انہوں نے کہا کہ جب نوجوان خود کو نظر انداز، بے روزگار اور نظام سے دور محسوس کرتے ہیں تو وہ کسی بھی علامت یا تحریک کے گرد جمع ہو سکتے ہیں
محسن نقوی کے مذکورہ بیان نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں
سیاسی مبصرین کے مطابق محسن نقوی کی تقریر کو محض انتظامی اصلاحات کی بات قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ملک کے موجودہ حالات پر ایک گہری تشویش کا اظہار بھی ہے
بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کے بیان سے یہ تاثر لیا جا رہا ہے کہ ریاست کے اندر موجود طاقتور حلقوں کو بھی اندازہ ہو چکا ہے کہ موجودہ نظام شدید دباؤ کا شکار ہے
ان کے مطابق لندن میں کشمیریوں کا بڑا مظاہرہ، کشمیر کے معاملے پر بڑھتی ہوئی عالمی توجہ، معاشی دباؤ، بلوچستان میں مسلسل بدامنی، خیبرپختونخوا میں شدت پسندی اور تحریک انصاف ، عمران خان کی مسلسل اسیری ریاستی رٹ کے سوالات ایسے عوامل ہیں جنہوں نے حکومت اور ریاستی اداروں کے سامنے بڑے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں
ناقدین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ جس نظام پر محسن نقوی تنقید کر رہے ہیں، وہ خود بھی اسی نظام کے اہم عہدیدار اور بینیفشیری رہے ہیں
ان کے مطابق محسن نقوی ساڑھے 3 سال سے اہم حکومتی ذمہ داریوں پر موجود ہیں۔ وہ وزیر داخلہ ہیں، چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ ہیں، سفارتی معاملات میں بھی فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں اور دیگر بڑے فیصلوں میں شامل رہے ہیں
ناقدین سوال کرتے ہیں کہ اگر نظام اتنا ہی ناکام تھا تو پھر اس کے اندر رہتے ہوئے اس کی اصلاح کی ذمہ داری کس کی تھی؟
وزارت داخلہ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ ماضی میں بلوچستان کے مسائل کو محدود کارروائیوں سے حل کرنے کی باتیں کی جاتی رہیں، لیکن آج بھی وہاں سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی ہلاکتیں، حملے اور مقابلے جاری ہیں
اسی طرح کرکٹ کے شعبے میں بھی محسن نقوی کو تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کے مطابق ان کے دور میں قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں شدید گراوٹ آئی، کئی کپتان تبدیل ہوئے، صرف گزشتہ چند ماہ میں آٹھ ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل شکستیں سامنے آئیں اور عالمی درجہ بندی میں پاکستان ٹیم نچلے نمبروں پر جس حالت پر ہے وہ انتہائ شرمناک ہے کہ ایک تو عالمی ریٹنگ میں نمبر نو پھر نمبر ون ٹیم آسٹریلیا 88 نمبروں کے ساتھ تو اٹھویں نمبر کی ٹیم ویسٹ انڈیز چھبیس نمبرووں کے ساتھ تو نویں نمبر کی ٹیم پاکستان کے پاس صرف چھ نمبر مگر ، محسن نقوی دعوے وعدوں کے ساتھ عہدے پر ڈٹے ہوئے ہیں
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جب کوئی شخصیت ایک سے زیادہ بڑے عہدوں پر موجود ہو تو اسے کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ناکامیوں کی ذمہ داری بھی قبول کرنا پڑتی ہے
بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق محسن نقوی کا یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ حکمران طبقے کو آنے والے وقت کے خطرات کا احساس ہو رہا ہے
ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں واقعی بنیادی تبدیلیاں آئیں گی، یا پھر ایک بار پھر وقتی اقدامات سے کام چلانے کی کوشش کی جائے گی
کیونکہ موجودہ حالات میں بہت سے مبصرین کے مطابق ملک ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں فیصلہ کرنا ہوگا کہ بحران کا حل اصلاحات کے ذریعے نکالا جائے گا یا حالات مزید سنگین رخ اختیار کریں گے، خیال رہے محسن نقوی نے نہایت سیاسی انداز میں اداروں کی مداخلت انکے کنٹرول کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے پارلیمانی جمہوریت کو ناکام قرار دیا جس کا مطلب واضع ہے فوجی حکمران اشرافیہ نظام کی ناکامی کا بوجھ بھی سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی جمہوریت میں موجود خامیوں کو قرار دیکر نہ صرف بری الزمہ ہونا چاہتی ہے بلکہ ایک بار پھر ملک میں صدارتی نظام کی راہ ہموار کررہی ہے جو ہر فوجی طالع آزما کے دور میں نافذ کرکے اس ریاست کو لوٹا گیا اور عوام کو تباہ و برباد کردیا گیا ، ادھر ملک کے بعض سینئیر سیاست دان اور دانشور سمجھتے ہیں محسن نقوی جیسے فرنٹ مینوں کی گفتگو اب اس حکمران اشرافیہ کو کسی طور سہارا نہیں دے سکتی نہ ہی عوام میں حکمران اشرافیہ کے وقار کو بحال کرسکتی ہے ، اب ملک کو بچانا کے لیے اس نظام کے سربراہ اور اسکے ساتھیوں کی بڑی قربانی سے ہی معاملات درست ہوں تو ہوں ورنہ ملک کے جغرافیے کی قربانی سامنے کھڑی نہ صرف موجود حکمراں اشرافیہ کا بلکہ پچیس کروڑ عوام کا بھی منہ چڑاتی صاف دیکھی جاسکتی ہے

مزید پڑھیں