نیویارک سے دولت مندوں کی نقل مکانی پر گورنر سے سخت سوالات، مالی مستقبل پر نئی بحث چھڑ گئی
نیویارک سے دولت مندوں کی نقل مکانی پر گورنر سے سخت سوالات، مالی مستقبل پر نئی بحث چھڑ گئی
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل کو ایک حالیہ تحقیق کے تناظر میں اس سوال کا سامنا کرنا پڑا کہ کیا ریاست سے دولت مند افراد کی مسلسل نقل مکانی رک رہی ہے یا صورتِ حال مزید خراب ہو رہی ہے۔
شہری بجٹ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2022 کے دوران امریکہ میں رہنے والے کروڑ پتی افراد میں نیویارک کا حصہ 12.7 فیصد سے کم ہو کر 8.7 فیصد رہ گیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ بڑی تعداد میں صاحبِ حیثیت افراد ریاست چھوڑ رہے ہیں۔
فاکس 5 کے پروگرام “گڈ ڈے نیویارک” میں میزبان روزانا اسکاٹو نے گورنر سے کہا کہ تازہ رپورٹ کے مطابق نہ صرف دولت مند افراد بلکہ بہت سے خاندان بھی نیویارک چھوڑ رہے ہیں، جبکہ اکیلے رہنے والے نسبتاً کم آمدنی والے افراد شہر کا رخ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کو اس سال کے بجٹ میں نیویارک شہر کی مالی مدد کے لیے 8 ارب ڈالر فراہم کرنا پڑے، جبکہ اندازہ ہے کہ شہر کو مستقبل میں 10 ارب ڈالر کے بجٹ خسارے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس پس منظر میں انہوں نے گورنر سے پوچھا کہ اس رجحان کو کیسے روکا جا سکتا ہے اور ریاست کی معاشی کشش کیسے بحال کی جائے۔
یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیویارک کو بلند ٹیکسوں، مہنگی رہائش، بڑھتی زندگی کی لاگت اور مالی دباؤ کے باعث آبادی اور سرمایہ کاری کو برقرار رکھنے کے چیلنجز کا سامنا ہے


