ترقی پسند سیاست وائٹ ہاوس تک بنا رکاوٹ پہنچ سکتی ہے، ٹرمپ کی مخالفت کی بجائے عوام سے کیے وعدوں کی تکمیل پر کام کیا جائے، ممدانی کا تہلکہ خیز انٹرویو
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ڈیموکریٹک پارٹی میں ترقی پسند تحریک کے مستقبل اور 2028 کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ صدارتی انتخاب میں ترقی پسند امیدوار کے لیے کامیابی کا راستہ بالکل موجود ہے،این بی سی نیوز کے پروگرام ’’میٹ دی پریس ناؤ‘‘ میں کرسٹن ویلکر کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں ممدانی نے کہا ہے کہ حالیہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ملک گیر کامیابی کو صرف اعتدال پسند امیدواروں کی فتح قرار دینا درست نہیں، کیونکہ کامیاب ہونے والے متعدد امیدواروں کے انتخابی وعدے درحقیقت ترقی پسند سیاست کے بنیادی اصولوں سے مطابقت رکھتے ہیں
میزبان نے گفتگو کے دوران ممدانی کے سامنے یہ سوال رکھا کہ عبدال السید کے علاوہ ڈیموکریٹس کی بیشتر بڑی ریاستی کامیابیاں ایسے امیدواروں نے حاصل کی ہیں جنہیں نسبتاً معتدل سیاست دان سمجھا جاتا ہے،کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ترقی پسند تحریک کو قومی سطح پر وہ حمایت حاصل نہیں جو اس کے رہنما دعویٰ کرتے ہیں؟
ممدانی نے اس تجزیے سے اختلاف کیا اور کہا کہ امیدواروں کو صرف ان کے سیاسی تعارف یا لیبل سے نہیں بلکہ ان کے انتخابی پروگرام اور عوام سے کیے گئے وعدوں کی بنیاد پر بھی پرکھنا چاہیے،انہوں نے کہا ہے ڈیموکریٹس کے لیے صرف ٹرمپ کی مخالفت کافی نہیں
ممدانی کے اس مؤقف کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی سیاست کو محض صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت تک محدود رکھنے کے حق میں نہیں ہیں،ان کے مطابق پارٹی کو عوام کے سامنے اپنا مثبت معاشی اور سماجی پروگرام رکھنا ہوگا
ان کی سیاسی سوچ میں چند بنیادی ترجیحات نمایاں ہیں
عام امریکیوں کے لیے رہائش کے اخراجات کم کرنا۔
بچوں کی تعلیم اور یونیورسل پری کنڈرگارٹن کی سہولت فراہم کرنا
بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات کم کرنا
مسلسل جنگوں اور غیر ضروری فوجی اخراجات کے بجائے عوامی ضروریات کو ترجیح دینا
سستے مکانات کی تعمیر اور سرکاری رکاوٹوں میں کمی
محنت کش طبقے کے معاشی مسائل کو سیاسی ایجنڈے کا مرکز بنانا، ممدانی نے ٹیکساس کے جیمز ٹالاریکو، جنوبی کیرولائنا کی اینی اینڈریوز اور جارجیا کی کیشا لانس باٹمز کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ان امیدواروں نے ایسے پروگراموں کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا جو ترقی پسند طرز حکمرانی کی نمایاں خصوصیات ہیں
ممدانی کے مطابق جیمز ٹالاریکو نے تمام بچوں کے لیے یونیورسل پری کنڈرگارٹن تعلیم کی فراہمی کا وعدہ کیا، جس کا مقصد بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے معیاری تعلیمی سہولتیں فراہم کرنا ہے،جنوبی کیرولائنا کی اینی اینڈریوز نے اپنی انتخابی مہم میں مسلسل جنگوں کے خاتمے اور امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ جارجیا کی کیشا لانس باٹمز نے سستے مکانات کی تعمیر میں حائل سرکاری رکاوٹیں اور پیچیدگیاں کم کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا
ممدانی نے کہا کہ یہ تمام وعدے ترقی پسند حکومت کے بنیادی تصورات کی عکاسی کرتے ہیں،ان کے نزدیک ملک کے مختلف حصوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابیوں کے پیچھے ایک مشترکہ مقصد موجود ہے، اور وہ یہ ہے کہ عوام کو ایسی تبدیلی فراہم کی جائے جس کے اثرات وہ اپنی روزمرہ زندگی اور اپنی جیب میں محسوس کر سکیں،ان کا کہنا تھا کہ انتخابی کامیابیوں کا جائزہ لیتے وقت اس مشترکہ مقصد کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے
انٹرویو کا سب سے اہم مرحلہ اس وقت آیا جب کرسٹن ویلکر نے ممدانی سے براہ راست پوچھا کہ کیا ان کے خیال میں 2028 کے صدارتی انتخابات میں ترقی پسند نظریات رکھنے والے امیدوار کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے اور قومی سطح پر انتخاب لڑنے کا راستہ موجود ہے؟ ممدانی نے کسی طویل وضاحت کے بغیر جواب دیا: ’’بالکل”
اس جواب کے ذریعے انہوں نے واضح کیا کہ وہ ترقی پسند سیاست کو صرف نیویارک یا چند مخصوص ریاستوں تک محدود تحریک نہیں سمجھتے بلکہ اسے قومی سطح پر ڈیموکریٹک پارٹی کے مستقبل کا ایک اہم حصہ قرار دیتے ہیں،تاہم انہوں نے انٹرویو میں 2028 کے لیے کسی مخصوص صدارتی امیدوار کا نام پیش نہیں کیا
ممدانی کی گفتگو کا ایک بنیادی نکتہ یہ بھی تھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کو انتخابی کامیابی کے بعد اپنی توجہ ان مسائل پر مرکوز رکھنی چاہیے جن کا سامنا عام امریکی شہریوں کو ہے،ان کے مطابق صرف انتخابات جیتنا کافی نہیں، بلکہ اقتدار کو ایسے اقدامات کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے جن سے لوگوں کی معاشی مشکلات کم ہوں اور انہیں اپنی زندگی میں حقیقی تبدیلی محسوس ہو
ان کے پیش کردہ انتخابی وعدوں میں بچوں کی ابتدائی تعلیم، سستے مکانات کی فراہمی، تعمیراتی منصوبوں میں سرکاری رکاوٹوں کا خاتمہ اور مسلسل جنگوں سے نجات جیسے معاملات شامل تھے،ان مثالوں کے ذریعے ممدانی نے یہ مؤقف پیش کیا کہ ترقی پسند سیاست کا بنیادی مقصد عام شہریوں کے معاشی اور سماجی مسائل کو حکومتی پالیسیوں کا مرکز بنانا ہے
اس انٹرویو میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر موجود اس اختلاف کی بھی عکاسی ہوئی کہ مستقبل میں پارٹی کو کس سیاسی راستے پر چلنا چاہیے،ایک طرف وہ رہنما اور حلقے ہیں جو انتخابی کامیابی کے لیے اعتدال پسند مؤقف اور وسیع تر ووٹر اتحاد کو اہم سمجھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ترقی پسند دھڑا چاہتا ہے کہ پارٹی معاشی انصاف، عوامی سہولتوں، محنت کش طبقے کے حقوق اور سماجی تحفظ کے معاملات پر زیادہ واضح اور مضبوط پروگرام پیش کرے،ممدانی نے اپنی گفتگو میں دوسرے مؤقف کی حمایت کی
این بی سی کے انٹرویو کے بعد ممدانی نے نیویارک سٹی ہال کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں بھی اسی مؤقف کو مزید واضح کیا،انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کو اپنی رفتار کم کرنے کے بجائے مزید آگے بڑھنا چاہیے،ان کے الفاظ میں یہ وقت ہے کہ ترقی پسند تحریک اپنی رفتار برقرار رکھے، کیونکہ ملک بھر میں ووٹر ایسی سیاست کی حمایت کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی آ سکے
ممدانی نے کہا کہ وہ اکثر یہ سنتے ہیں کہ نیویارک میں جن پالیسیوں کی حمایت کی جا رہی ہے، انہیں شہر سے باہر ملک کے دوسرے حصوں میں نافذ کرنا ممکن نہیں،لیکن ان کے نزدیک حالیہ انتخابات نے ثابت کیا ہے کہ محنت کش طبقہ ملک کی اکثریت ہے اور سیاست میں اسی طبقے کو ترجیح دی جانی چاہیے،انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے اور اب ڈیموکریٹس کے سامنے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ عوام کی طرف سے دیے گئے اس موقع کو عملی نتائج میں تبدیل کریں
ممدانی سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا ترقی پسند تحریک کو تیزی سے آگے بڑھانے سے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اختلافات اور تقسیم پیدا ہونے کا خطرہ نہیں؟ انہوں نے اس خدشے کے مقابلے میں اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ اس وقت رفتار کم کرنے کا نہیں بلکہ آگے بڑھنے کا وقت ہے،ان کے مطابق عوام نے انتخابات میں جس سیاسی تبدیلی کی حمایت کی ہے، اس کا جواب عملی اقدامات سے دینا ضروری ہے
کانگریس میں نئی ڈیموکریٹک قیادت کے حوالے سے گفتگو میں ممدانی نے ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز اور سینیٹ میں چک شومر کے کردار پر بھی بات کی،ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ توقع کرتے ہیں کہ ترقی پسند امیدواروں کی حمایت سے منتخب ہونے والے ارکان کانگریس، حکیم جیفریز کو اسپیکر منتخب کرنے کی حمایت کریں گے؟ ممدانی نے کہا کہ وہ دوسروں کے فیصلے خود نہیں کرنا چاہتے،نومنتخب ارکان کو اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار حاصل ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ ہر مرحلے پر محنت کش طبقے کو ترجیح دیں گے
انہوں نے حکیم جیفریز کے ساتھ اپنے اچھے ورکنگ ریلیشن شپ کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ان کی جیفریز سے بات ہوئی تھی اور انہوں نے انہیں ڈیموکریٹس کی مختلف کامیابیوں پر مبارکباد دی تھی
ممدانی نے نیویارک میں انتخابی نتائج کے حوالے سے گورنر کیتھی ہوکل اور ریاستی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا،انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں ڈیموکریٹس کو ایسی انتخابی برتری حاصل ہوئی جو ایک عرصے سے دیکھنے میں نہیں آئی تھی،انہوں نے ریپبلکن گورنر امیدوار بروس بلیک مین کی انتخابی پیش گوئیوں پر بھی طنز کیا، جنہوں نے مہم کے دوران اپنی کامیابی کے امکانات کے بارے میں 52 کے مقابلے میں 48 فیصد کا دعویٰ کیا تھا
ممدانی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران قائم کیے گئے کمیشن برائے حکومتی کارکردگی کے پانچ بیلٹ تجاویز کی منظوری کو بھی کامیابی قرار دیا،ان پانچوں تجاویز کو ووٹروں نے کم از کم 61 فیصد حمایت کے ساتھ منظور کیا
مجموعی طور پر ممدانی کے انٹرویو اور انتخابی نتائج کے بعد ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی آئندہ سیاست میں ترقی پسند تحریک کو زیادہ نمایاں کردار دلوانا چاہتے ہیں،ان کا اصرار ہے کہ پارٹی کی انتخابی کامیابی کو صرف اعتدال پسند سیاست سے منسوب کرنے کے بجائے ان عوامی معاشی وعدوں کو بھی تسلیم کیا جائے جنہوں نے مختلف ریاستوں میں ووٹروں کی حمایت حاصل کی،2028 کے صدارتی انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر یہ بحث مزید اہمیت اختیار کر سکتی ہے کہ پارٹی اپنی آئندہ قیادت اور انتخابی منشور کے لیے کس سیاسی راستے کا انتخاب کرتی ہے






