Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

عبدال السید نے تاریخ کیسے رقم کی؟ ٹرمپ کی مخالفت، نسلی حملوں اور سخت انتخابی مہم کے باوجود مشی گن سے مسلمان امیدوار کی تاریخی کامیابی

عبدال السید نے تاریخ کیسے رقم کی؟ ٹرمپ کی مخالفت، نسلی حملوں اور سخت انتخابی مہم کے باوجود مشی گن سے مسلمان امیدوار کی تاریخی کامیابی

مشی گن میں امریکی سینیٹ کی نشست پر عبدال السید کی کامیابی محض ایک انتخابی فتح نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی اہم سیاسی اور سماجی عوامل کارفرما دکھائی دیتے ہیں،مصری تارکین وطن کے گھرانے میں پیدا ہونے والے اور مشی گن ہی میں پرورش پانے والے عبدال السید نے ریپبلکن امیدوار اور سابق رکن کانگریس مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی مسلمان کے سینیٹ کا رکن منتخب ہونے کی راہ ہموار کر دی ہے،وہ جنوری 2027 میں نئی کانگریس کے آغاز کے ساتھ اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے
ان کی کامیابی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ انتخابی مہم کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے خلاف نسلی اور مذہبی بنیادوں پر تضحیک آمیز زبان استعمال کی اور انہیں دہشت گرد قرار دینے جیسے بے بنیاد الزامات لگائے،اس سخت مہم کے باوجود عبدال السید کی کامیابی نے ظاہر کیا کہ انتخابی میدان میں امیدوار کی مذہبی اور نسلی شناخت کے بجائے ووٹروں کی حمایت فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے
ڈئیر بورن میں قائم عرب امریکن نیوز کے بانی اور پبلشر اسامہ سبلانی نے اس کامیابی کو امریکی جمہوریت کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ جمہوریت زندہ اور متحرک ہے،Dearborn ملک کے ان شہروں میں شامل ہے جہاں عرب اور مسلمان آبادی کی بڑی تعداد آباد ہے،رپورٹ کے مطابق عبدال السید نے اس شہر میں 82 فیصد ووٹ حاصل کیے
ان کی کامیابی امریکی سینیٹ میں مذہبی اور نسلی تنوع کے حوالے سے ایک نئی تاریخ ہے،اس کا اثر صرف عرب اور مسلم امریکی برادریوں کی سیاسی نمائندگی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ بھی ظاہر کرے گا کہ اقلیتی پس منظر رکھنے والے امیدوار قومی سیاست کے اعلیٰ ترین منتخب ایوان تک پہنچ سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید