Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ٹرمپ کا عدلیہ کو قدامت پسند ججوں سے بھرنے کا منصوبہ خطرے میں پڑگیا

سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ٹرمپ کا عدلیہ کو قدامت پسند ججوں سے بھرنے کا منصوبہ خطرے میں پڑگیا

امریکی وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ کا کنٹرول کھونے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے وفاقی عدلیہ کی تشکیل اپنی قدامت پسند نظریاتی ترجیحات کے مطابق جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوجائے گا،ریپبلکنز کی شکست نے نہ صرف کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل کیا ہے بلکہ ٹرمپ کے اس منصوبے کو بھی بڑا دھچکا پہنچایا ہے جس کے تحت وہ وفاقی عدالتوں میں قدامت پسند ججوں کی تقرریوں کے ذریعے عدالتی نظام کی سمت تبدیل کرنا چاہتے تھے
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے ٹرمپ ریپبلکن اکثریت والی سینیٹ کی مدد سے 56 نئے وفاقی ججوں کی تقرریوں کی منظوری حاصل کرچکے ہیں،ان ججوں کو تاحیات عہدے حاصل ہوتے ہیں،اس طرح ان کی دوسری مدت کے ابتدائی عرصے میں ہونے والی تقرریوں کے علاوہ پہلی صدارتی مدت کے دوران مقرر کیے گئے 234 جج بھی وفاقی عدلیہ میں موجود ہیں
لیکن 3 جنوری 2027 سے سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو کم از کم 54 نشستوں کی اکثریت حاصل ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس کے لیے اپنے پسندیدہ قدامت پسند ججوں کی منظوری حاصل کرنا آسان نہیں رہے گا،اس تبدیلی کے اثرات مستقبل میں سپریم کورٹ کی ممکنہ خالی آسامیوں پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں، کیونکہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کی منظوری بھی سینیٹ ہی دیتی ہے
یونیورسٹی آف رچمنڈ کے قانون کے پروفیسر کارل ٹوبیاس، جو عدالتی تقرریوں کے معاملات پر نظر رکھتے ہیں، نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ڈیموکریٹس ٹرمپ کی دوسری مدت کے دوران نامزد کیے جانے والے ججوں جیسے امیدواروں کی تقرریوں میں تعاون کرنے سے گریز کریں گے
سینیٹ کی عدالتی امور کی کمیٹی میں بھی تبدیلی متوقع ہے،اس کے موجودہ اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ رکن، الینوائے کے سینیٹر ڈک ڈربن، ریٹائر ہونے والے ہیں،ڈیموکریٹس کے سینیٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد کمیٹی کی سربراہی بھی ان کے پاس آجائے گی، جس سے عدالتی نامزدگیوں کی جانچ پڑتال اور منظوری کے عمل پر پارٹی کا اثرورسوخ بڑھ جائے گا
اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ اپنی باقی صدارتی مدت میں وفاقی عدلیہ میں تقرریوں کے معاملے پر پہلے جیسا اختیار استعمال نہیں کرسکیں گے،تاہم ڈیموکریٹک اکثریت کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے سے مقرر کیے گئے جج اپنے عہدے کھو دیں گے،تاحیات تقرریوں کے باعث ان ججوں کا عدالتی اثرورسوخ آنے والی کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے
یوں سینیٹ کا کنٹرول تبدیل ہونے سے ٹرمپ کے لیے عدلیہ میں مزید قدامت پسند جج مقرر کرنے کا راستہ محدود ہونے جا رہا ہے، جبکہ ان کی پہلی اور دوسری مدت کے دوران کی گئی مجموعی 290 تقرریاں وفاقی عدالتی نظام میں طویل المدت اثرات چھوڑیں گی

قومی خبریں سے مزید