ایران جنگ ریپبلکن پارٹی کے انتخابی زوال کا سبب بنی، جے ڈی وینس نے ٹرمپ سے اختلاف کرتے ہوئے شکست کی ذمہ داری جنگ پر ڈال دی
واشنگٹن: وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بڑی شکست کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ کے دفاع سے کھل کر اختلاف کرتے ہوئے انتخابی نتائج کی بنیادی وجہ ایران کے ساتھ جنگ کو قرار دیا ہے،وینس کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کرکے ریپبلکن پارٹی سے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول چھین لیا ہے،سیاسی مبصرین کے نزدیک وینس کا یہ مؤقف انہیں ٹرمپ کی غیر مقبول جنگی پالیسی سے الگ دکھانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے، خصوصاً اس پس منظر میں کہ وہ 2028 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے امکان پر غور کر رہے ہیں
وینس نے بدھ کو سوشل میڈیا پر ایک طویل بیان میں کہا کہ ریپبلکن پارٹی کی شکست کی اصل وجہ تقریباً ہر شخص کو معلوم ہے،ان کے بقول، ’’ہم اس لیے ہارے کیونکہ جنگ ہوئی،صدر نے خود گزشتہ رات یہی بات کہی تھی” ،انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایران جنگ اس قیمت پر بھی درست فیصلہ تھی کہ اگلے 6 برس تک سینیٹ ریپبلکن پارٹی کے ہاتھ سے نکل گئی، تو وہ اس کا دفاع کرے،وینس نے لکھا کہ کم از کم اس بات پر کھل کر بحث ہونی چاہیے کہ آیا انتخابی شکست کی قیمت پر جنگ جاری رکھنا درست تھا یا نہیں،
یہ بیان صدر ٹرمپ کے مسلسل مؤقف سے مختلف ہے،ٹرمپ نے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد بھی ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے ، انہوں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ ’’بہت دانشمندانہ‘‘ تھا، جبکہ پولیٹیکو سے گفتگو میں اسے ’’بالکل درست‘‘ قرار دیا،اس سے ایک روز قبل انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل سے بھی تسلیم کیا تھا کہ ایران جنگ نے ریپبلکن پارٹی کے انتخابی نتائج پر اثر ڈالا، تاہم کہا تھا کہ انہیں جنگ شروع کرنے پر کوئی افسوس نہیں اور وہ دوبارہ بھی یہی فیصلہ کرتے
وینس نے اپنی پوسٹ میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کی دیگر وجوہات بھی بیان کیں،ان کے مطابق پارٹی کو ایران جنگ ختم کرنے، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات پر توجہ دینے، امریکہ کے مفادات کو اولین ترجیح دینے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے،اسرائیل کے معاملے پر بھی وینس کا مؤقف ٹرمپ سے مختلف دکھائی دیا ہے،انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی دوبارہ انتخابی مہم کی حمایت نہیں کی اور اس سے پہلے اسرائیلی حکومت کے ان ارکان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا جو ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کی مخالفت کر رہے تھے
ایران جنگ کے بارے میں عوامی رائے کے جائزے سے بھی ریپبلکن قیادت کے لیے مشکل صورت حال سامنے آئی ہے،ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک لاکھ سے زیادہ ووٹروں پر مشتمل انتخابی سروے کے مطابق تقریباً 10 میں سے 6 ووٹروں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو غلط فیصلہ قرار دیا،ڈیموکریٹک امیدواروں کو ووٹ دینے والوں کی بھاری اکثریت جنگ کی مخالف تھی، جبکہ ریپبلکن امیدواروں کے حامیوں میں تقریباً 10 میں سے 8 نے فوجی کارروائی کو درست قرار دیا،تاہم سروے کے مطابق جنگ ہر ووٹر کے لیے سب سے اہم انتخابی مسئلہ نہیں تھی،تقریباً ایک تہائی ووٹروں نے کہا کہ ایران جنگ ان کے کانگریسی انتخاب میں فیصلہ کن اہمیت رکھتی تھی، جبکہ مہنگائی اور حکومتی بدعنوانی کو تقریباً نصف ووٹروں نے اہم مسئلہ قرار دیا
سابق میرین فوجی جے ڈی وینس عراق جنگ میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور ماضی میں بیرون ملک طویل فوجی مداخلتوں کے ناقد رہے ہیں،نائب صدر بننے کے بعد بھی وہ کہتے رہے تھے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکہ کو ماضی کی طرح غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی جنگوں میں نہیں الجھائے گی،لیکن رواں سال موسم بہار میں جب ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تو وینس اس معاملے پر نسبتاً خاموش رہے،اس موسم گرما میں انہوں نے قدامت پسند میزبان میگن کیلی کو انٹرویو دیتے ہوئے جنگ کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال تبدیل ہو جاتی ہے تو یہ جنگ اپنی قیمت کے اعتبار سے درست ثابت ہو سکتی ہے
وینس نے اپنی تازہ پوسٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی پر بھی جزوی نظرثانی کا عندیہ دیا،انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم افراد کے خلاف کارروائی کے بجائے ایسے کاروباروں پر زیادہ توجہ دینے کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے جو غیر قانونی کارکنوں کو ملازمت دیتے ہیں،تاہم انہوں نے غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم افراد کو قانونی حیثیت دینے کے لیے عام معافی کی تجویز کو مسترد کر دیا
جے ڈی وینس نے پہلے کہا تھا کہ وہ وسط مدتی انتخابات کے بعد فیصلہ کریں گے کہ 2028 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینا ہے یا نہیں،ریپبلکن پارٹی کی بڑی انتخابی شکست کے فوراً بعد ایران جنگ پر ان کا یہ سخت بیان پارٹی کی آئندہ قیادت اور ٹرمپ کے سیاسی ورثے کے بارے میں ممکنہ اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے،وائٹ ہاؤس نے بدھ کو وینس کے بیان پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا






