امریکی سیاست میں مسلمان نمائندگی کی نئی تصویر، ایک سینیٹر اور سات ارکانِ کانگریس کامیاب، مگر کوئی پاکستانی نہ ہونے کے باوجود پاکستانی اُمہ ڈرامہ دیکھ کے خوش
واشنگٹن: امریکہ کے 2026 کے مڈٹرم انتخابات میں مسلمان امریکیوں نے وفاقی مقننہ میں اپنی نمائندگی بڑھا دی ہے،مشیگن سے ڈاکٹر عبدالسید سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب ہوئے، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں 7 مسلمان امیدواروں نے کامیابی حاصل کی،یوں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مسلمان نمائندوں کی مجموعی تعداد 8 ہو گئی ہے،ان کامیاب امیدواروں کی فہرست میں ایک بھی پاکستانی نژاد امریکی شامل نہیں،ان کے خاندانی اور ثقافتی پس منظر مصر، افغانستان، صومالیہ، فلسطین، ڈومینیکن ریپبلک اور افریقی امریکی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں،یہ افراد مختلف ریاستوں اور انتخابی حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کے سیاسی سفر، ترجیحات اور مقامی مسائل بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں، مگر پاکستانی امریکن کامیاب ہونے والے مسلمان امریکی قانون سازوں کی تصاویر پر مشتمل سوشل میڈیا پوسٹس اُس “اُمہ “ڈرامے کے مائنڈ سیٹ کے تابع لگانے میں مصروف ہیں جو مسلم ممالک کے نناوے فیصد جابر ظالم فاشسٹ حکمرانوں کے تاریخی پروپیگنڈے کے نتیجے میں قائم ہوا ہے
مشیگن سے 42 سالہ ڈاکٹر عبدالسید نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست جیتی،وہ مشیگن میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی، جبکہ ان کے والد مصر سے ہجرت کرکے امریکہ آئے تھے،عبدالسید ڈاکٹر، وبائی امراض اور صحت عامہ کے ماہر ہیں،وہ ڈیٹرائٹ کے محکمہ صحت کے سربراہ اور وین کاؤنٹی کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں،2018 میں انہوں نے مشیگن کے گورنر کا انتخاب لڑا تھا، لیکن ڈیموکریٹک پرائمری میں کامیاب نہیں ہو سکے،2026 کی کامیابی کے ساتھ وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن گئے ہیں
نیو جرسی کے 12ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے 56 سالہ ڈاکٹر آدم حمّاوی نے کامیابی حاصل کی، وہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پیدا ہوئے اور صرف 7 ماہ کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ منتقل ہو گئے تھے،نیو جرسی میں پرورش پانے والے حمّاوی پلاسٹک سرجن اور امریکی فوج کے سابق فوجی ڈاکٹر ہیں،انہوں نے عراق جنگ کے دوران خدمات انجام دیں اور 2024 میں غزہ کے یورپی ہسپتال میں رضاکارانہ طبی خدمات فراہم کیں،وہ نیو جرسی سے کانگریس کے پہلے مسلمان رکن بنے ہیں،ان کی کامیابی نے انہیں ایک ایسے امیدوار کے طور پر قومی سطح پر نمایاں کیا ہے جس نے انتخابی سیاست میں آنے سے پہلے طب اور فوجی خدمات کے شعبوں میں کام کیا
نیویارک کے 13ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈاریالیزا آویلا شیولیئر منتخب ہوئیں،وہ فلوریڈا میں پیدا ہوئیں اور ان کے والدین ڈومینیکن ریپبلک سے امریکہ آئے تھے،انہوں نے بچپن کا ابتدائی ڈیڑھ سال ڈومینیکن ریپبلک میں گزارا، بعد میں خاندان فلوریڈا منتقل ہوا اور وہ کچھ عرصہ وینزویلا میں اپنی دادی کے ساتھ بھی رہیں،انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کیا،وہ نیویارک میں امیگریشن کے معاملات پر سرگرم رہی ہیں اور سٹی یونیورسٹی آف نیویارک میں ڈاکٹریٹ کی طالبہ ہیں،انہوں نے ڈیموکریٹک پرائمری میں طویل عرصے سے کانگریس کے رکن ایڈریانو ایسپائیات کو شکست دی تھی،ان کا تعلق ڈومینیکن امریکی خاندان سے ہے اور وہ اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمان ہوئیں
کیلیفورنیا کے 14ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے عائشہ وہاب نے بھی اپنی کانگریسی نشست برقرار رکھی،وہ نیویارک کے علاقے کوئنز میں افغان پناہ گزین والدین کے گھر پیدا ہوئیں اور کیلیفورنیا کے شہر فریمونٹ میں پرورش پائی،بچپن میں والدین کی وفات کے بعد وہ اپنی بہن کے ساتھ foster care یعنی سرکاری سرپرستی کے نظام میں رہیں اور بعد میں ایک خاندان نے انہیں گود لے لیا،انہوں نے سان ہوزے اسٹیٹ یونیورسٹی، کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی ایسٹ بے اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سے تعلیم حاصل کی،وہ 2018 سے 2022 تک ہیورڈ سٹی کونسل کی رکن اور 2022 سے 2026 تک کیلیفورنیا کی ریاستی سینیٹر رہیں،اگست 2026 میں خصوصی انتخاب جیت کر کانگریس میں پہنچیں اور نومبر کے انتخاب میں بھی مکمل مدت کے لیے اپنی نشست برقرار رکھنے کی پوزیشن میں آگے رہیں،وہ کانگریس میں پہنچنے والی پہلی افغان نژاد امریکی خاتون ہیں
انڈیانا کے ساتویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے آندرے کارسن نے بھی دوبارہ کامیابی حاصل کی،وہ 1974 میں انڈیاناپولس میں پیدا ہوئے اور اسی شہر میں پرورش پائی،ان کا تعلق افریقی امریکی خاندان سے ہے،وہ 2007 سے 2008 تک انڈیاناپولس کی سٹی کاؤنٹی کونسل کے رکن رہے اور 2008 میں اپنی نانی، سابق رکن کانگریس جولیا کارسن کی وفات کے بعد ہونے والے خصوصی انتخاب میں نویں بار کامیاب ہو کر ایوانِ نمائندگان میں پہنچے،اس کے بعد سے وہ مسلسل اپنی نشست جیتتے آئے ہیں،2026 کی کامیابی کے بعد کانگریس میں ان کی نمائندگی کا عرصہ تقریباً 18 سال ہو چکا ہے
مینیسوٹا کے پانچویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے الہان عمر نے کانگریس میں پانچویں بار کامیابی حاصل کی، وہ صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں پیدا ہوئیں،صومالی خانہ جنگی کے دوران ان کا خاندان پہلے کینیا کے پناہ گزین کیمپ میں رہا اور پھر 1990 کی دہائی میں امریکہ منتقل ہوا،1997 میں ان کا خاندان مینیسوٹا کے شہر منیاپولس میں آباد ہوا،وہ 2016 میں مینیسوٹا کی ریاستی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اور 2019 میں کانگریس میں پہنچیں،وہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی پہلی صومالی نژاد رکن اور مسلمان خواتین میں کانگریس کی ابتدائی دو ارکان میں شامل ہیں
مشیگن کے 12ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے فلسطینی نژاد امریکی رکن کانگریس رشیدہ طلیب نے بھی اپنی نشست برقرار رکھی،وہ ڈیٹرائٹ میں پیدا ہوئیں اور ان کے والدین فلسطینی تارکین وطن تھے،وہ 2008 میں مشیگن کی ریاستی اسمبلی کی رکن منتخب ہونے والی پہلی مسلمان خاتون بنیں،2019 میں پہلی مرتبہ کانگریس میں پہنچیں اور اب مسلسل پانچویں مدت کے لیے کامیاب ہوئی ہیں،ان کی سیاست میں ڈیٹرائٹ کے محنت کش طبقے، رہائش، صحت عامہ، فلسطینی حقوق اور خارجہ پالیسی کے معاملات نمایاں رہے ہیں
کیلیفورنیا کے 12ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے لطیفہ سائمن نے بھی دوبارہ کامیابی حاصل کی ہے، وہ 1977 میں سان فرانسسکو میں پیدا ہوئیں اور بے ایریا میں پرورش پائی،وہ طویل عرصے سے شہری حقوق اور سماجی انصاف کے شعبے میں سرگرم رہی ہیں،انہوں نے 2016 میں بے ایریا ریپڈ ٹرانزٹ، یعنی BART کے بورڈ کا انتخاب جیتا اور 2020 سے 2024 تک اس کی صدر بھی رہیں،2025 میں سابق رکن کانگریس باربرا لی کی خالی کردہ نشست پر پہلی مرتبہ ایوانِ نمائندگان میں پہنچیں،2026 کے انتخاب میں انہوں نے دوبارہ اپنی نشست جیت لی
ان آٹھ کامیاب مسلمان قانون سازوں میں سے 7 ایوانِ نمائندگان کے ارکان اور ایک سینیٹر ہیں،ان میں کوئی پاکستانی نژاد امریکی نہیں،چار ارکان، عبدالسید، عائشہ وہاب، آندرے کارسن اور لطیفہ سائمن، امریکہ میں پیدا ہوئے، جبکہ آدم حمّاوی مصر میں پیدا ہوئے اور بچپن ہی میں امریکہ آگئے،الہان عمر صومالیہ میں پیدا ہوئیں، ڈاریالیزا آویلا شیولیئر فلوریڈا میں ڈومینیکن تارکین وطن کے گھر پیدا ہوئیں، جبکہ رشیدہ طلیب ڈیٹرائٹ میں فلسطینی تارکین وطن والدین کے ہاں پیدا ہوئیں،ان کی مشترکہ مذہبی شناخت کے باوجود ان کی قومیت، خاندانی تاریخ، زبان، ثقافتی ماحول اور سیاسی حلقے الگ الگ ہیں،ہر ایک کی انتخابی کامیابی اپنے علاقے کے ووٹروں، مقامی مسائل اور سیاسی حالات سے جڑی ہوئی ہے
مینیسوٹا کے سابق مسلمان رکن کانگریس کیتھ ایلیسن کا معاملہ بھی قابل ذکر ہے،وہ 2007 سے 2019 تک ایوانِ نمائندگان کے رکن رہے اور امریکی کانگریس کے پہلے مسلمان رکن بنے تھے،2018 میں انہوں نے کانگریس کی نشست چھوڑ کر مینیسوٹا کے اٹارنی جنرل کا انتخاب جیتا،اس کے بعد وہ اس عہدے پر برقرار رہے اور 2026 کے انتخابات میں بھی ریپبلکن امیدوار رون شوٹز کو شکست دے کر تیسری مدت کے لیے اٹارنی جنرل منتخب ہو گئے ہیں،اس طرح ایلیسن کانگریس میں واپس نہیں آئے بلکہ ریاستی سطح پر اپنے قانونی عہدے پر کام جاری رکھیں گے
یہ انتخابی نتائج ایک اہم حقیقت بھی سامنے لاتے ہیں کہ امریکہ میں مسلمان شہری کسی ایک ملک، نسل یا ثقافت سے تعلق نہیں رکھتے،ان کی خاندانی جڑیں مختلف خطوں میں ہیں، ان کی زبانیں اور معاشرتی تجربات مختلف ہیں اور ان کے انتخابی حلقوں کے مسائل بھی ایک دوسرے سے الگ ہیں،مذہبی شناخت اپنی جگہ، لیکن امریکی سیاست میں ان کی کامیابی کا تعلق انفرادی سیاسی جدوجہد، مقامی ووٹروں کی حمایت اور اپنے اپنے حلقوں کے مسائل سے ہے






