یقین اور عقیدت کے نام پر خطرناک تجربات، ہریانہ میں تبلیغی اجتماع کے لیے دریائے یمنا عبور کرتے ہزاروں افراد کی ویڈیوز وائرل، 1983 میں کراچی کے سمندر میں کربلا جانے کے عقیدے پر 18 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے تھے
بھارت کی ریاست ہریانہ کے ضلع پانی پت میں ممتاز تاریخی شہر پانی پت کے ایک دیہی علاقے میں دریائے یمنا کے کنارے واقع گاؤں رانا ماجرا میں اکتیس اکتوبر سے دو نومبر تک ہونے والے تبلیغی جماعت کے تین روزہ اجتماع کے دوران دریائے یمنا عبور کرکے آنے والے ہزاروں افراد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں،ان مناظر میں لوگوں کو کم پانی والے دریائی راستوں سے پیدل گزرتے دیکھا جا سکتا ہے،بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں ٹریکٹروں، موٹر سائیکلوں اور کشتیوں کے ذریعے لوگوں اور گاڑیوں کو دریا پار کرانے کے مناظر بھی شیئر کیے جا رہے ہیں
آج تک کی 3 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ اجتماع پانی پت کے گاؤں رانا ماجرا میں منعقد ہوا، جہاں اتر پردیش کی جانب سے بڑی تعداد میں مسلمان دریائے یمنا عبور کرکے ہریانہ پہنچے،اجتماع کے مرکزی مقرر مولانا محمد سعد کاندھلوی تھے،منتظمین نے تقریباً 180 ایکڑ اراضی پر انتظامات کیے تھے، جس میں 60 ایکڑ پر وسیع خیمہ بستی قائم کی گئی تھی،پانی، وضو، کھانے اور قیام کے انتظامات بھی کیے گئے تھے
اجتماع میں 10 لاکھ مسلمانوں کی شرکت کا دعویٰ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، تاہم اس تعداد کی کسی سرکاری یا آزاد ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی،بھارتی میڈیا نے لاکھوں افراد کی شرکت کا ذکر ضرور کیا ہے، لیکن حتمی تعداد جاری نہیں کی
ان مناظر پر ایک بھارتی ہندو بلاگر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا اللہ پر یقین اور عقیدہ انہیں اس قدر مشکل راستوں سے گزرنے پر آمادہ کرتا ہے،تاہم اس واقعے کو محض مذہبی عقیدت کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے انسانی جانوں کی حفاظت اور عقل و شعور کے بنیادی تقاضوں کے حوالے سے بھی جانچنے کی ضرورت ہے،مذہبی اجتماع میں شرکت اپنی جگہ، لیکن اگر کسی راستے میں ڈوبنے، گاڑی الٹنے یا انسانی جان ضائع ہونے کا خطرہ موجود ہو تو اسے ایمان یا عقیدت کا امتحان قرار دینا مناسب نہیں
پاکستان کی تاریخ میں اس نوعیت کا ایک المناک واقعہ فروری 1983 میں کراچی کے ہاکس بے ساحل پر پیش آ چکا ہے، واقعہ کے مطابق چکوال کے علاقے سے تعلق رکھنے والے 38 شیعہ مسلمانوں کا ایک گروہ ایک مذہبی رہنما سید ولایت حسین شاہ کی قیادت میں سمندر میں داخل ہوا تھا،ان کا عقیدہ تھا کہ سمندر میں معجزانہ طور پر راستہ کھل جائے گا اور وہ عراق کے شہر کربلا پہنچ جائیں گے،اس گروہ میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے،انہیں بڑے صندوقوں میں بٹھایا گیا تھا،چند گھنٹوں بعد اس واقعے کا انجام انتہائی المناک ہوا اور 38 میں سے 18 افراد سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے
اس واقعے کے بارے میں تحقیقی تحریروں میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ گروہ کے بعض افراد کو مذہبی الہامات اور خوابوں کے ذریعے اس سفر پر آمادہ کیا گیا تھا،اس سانحے نے پاکستان میں مذہبی عقیدے، اندھی تقلید، انسانی جان کی حرمت اور غیر معمولی مذہبی دعووں پر ایک بڑی بحث کو جنم دیا تھا
دونوں واقعات میں بنیادی فرق کے باوجود ایک سوال مشترک ہے،کیا مذہبی عقیدت کے نام پر انسانی جان کو خطرے میں ڈالنا قابل قبول ہو سکتا ہے؟ مذہب پر یقین اور خدا پر توکل اپنی جگہ، لیکن قدرتی قوانین کو نظرانداز کرنا، خطرات کو معجزے کی امید پر قبول کرنا اور دوسروں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈالنا عقیدت کے بجائے غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے
دریائے یمنا عبور کرنے والے افراد کے حالیہ مناظر نے ایک مرتبہ پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ مذہبی جذبے اور اندھی تقلید کے درمیان حد فاصل کہاں قائم ہونی چاہیے،عقیدہ انسان کو اخلاق، احتیاط اور زندگی کی قدر سکھانے کے لیے ہے، نہ کہ اسے ایسے خطرات میں دھکیلنے کے لیے جن کا انجام کسی بڑے سانحے کی صورت میں نکل سکتا ہے






