امریکہ میں 3 نومبر 2026 کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات ملک کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں،ان انتخابات میں کانگریس کے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اقتدار کا توازن تبدیل ہونے کا امکان ہے، جس کے باعث ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کے لیے یہ انتخابی معرکہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے
برطانوی اخبار گارڈین نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران امریکی ووٹرز کے ساتھ مختلف موضوعات پر خصوصی نشستوں اور سوال و جواب کے سلسلے منعقد کیے، جن میں امیگریشن، معیشت، سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی اور انتخابی مہمات پر ہونے والے بھاری اخراجات جیسے اہم معاملات زیر بحث آئے
رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹک اور ریپبلکن ووٹرز ملک بھر کے اہم انتخابی حلقوں میں اپنے امیدواروں کا انتخاب کر چکے ہیں اور اب ان مقابلوں کے نتائج کانگریس میں دونوں جماعتوں کی طاقت کا تعین کریں گے
گارڈین نے اپنی انتخابی کوریج میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ترقی پسند بائیں بازو کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بھی اہم سوال قرار دیا ہے،بنیادی بحث یہ ہے کہ اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور ممکنہ طور پر سینیٹ میں بھی کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو پارٹی کی ترقی پسند قیادت اور اس کے نظریات امریکی سیاست کی سمت پر کس حد تک اثر انداز ہوں گے،
اخبار نے ان موضوعات پر قارئین کے اہم سوالات اور اپنی گزشتہ ایک ماہ کی انتخابی رپورٹنگ کو یکجا کیا ہے تاکہ ووٹرز پولنگ سے پہلے ان معاملات کو بہتر طورپر سمجھ سکیں
گارڈین کے مطابق امریکی انتخابی مہم میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن امیدواروں کو کتنا سیاسی نقصان پہنچا سکتی ہے،جنگ اپنے نویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے اثرات امریکی شہریوں کے اخراجات، حکومتی بجٹ اور خارجہ پالیسی پر نمایاں ہو رہے ہیں
اخبار نے نشاندہی کی ہے کہ مشی گن میں ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیک راجرز اور آئیووا کی ریپبلکن رکن کانگریس ایشلے ہنسن نے ایران جنگ کے معاملے پر ٹرمپ سے اختلاف کا اظہار کیا ہے،سیاسی تجزیہ کار لارین گیمبینو کے مطابق دونوں امیدوار سخت انتخابی مقابلوں سے گزر رہے ہیں اور وہ ایسی جنگ کی حمایت کرتے ہوئے دکھائی نہیں دینا چاہتے جسے ان کے ممکنہ ووٹرز ناپسند کرتے ہیں،خصوصاً آئیووا میں جنگ کے باعث ڈیزل اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے نے کسانوں کے اخراجات بڑھا دیے ہیں، جبکہ ٹرمپ کی تجارتی جنگ پہلے ہی امریکی کسانوں کو مالی دباؤ میں ڈال چکی ہے،ڈیموکریٹک امیدوار بھی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کو بنیاد بنا کر ان ریپبلکن امیدواروں کو نشانہ بنا رہے ہیں
گارڈین کے مطابق امریکی ووٹرز کے لیے معیشت سب سے اہم انتخابی موضوعات میں شامل ہے،اشیائے خورونوش اور پٹرول کی قیمتیں بلند ہیں، روزگار کی منڈی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور صارفین میں معاشی حالات کے حوالے سے بے چینی بڑھ رہی ہے،اسی سال فیڈرل ریزرو کے نئے سربراہ کیون وارش نے بھی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں
اخبار نے امریکی محکمہ شماریات کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ قدرتی گیس کی گھریلو خدمات کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ 4.4 فیصد رہا،اس کے مقابلے میں ٹرمپ کے پہلے سال کے ستمبر میں گیس کی قیمتوں میں سالانہ اضافہ 11.7 فیصد اور بجلی کی قیمتوں میں 5.1 فیصد تھا
تاہم گھروں اور دفاتر کو گرم رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے فیول آئل کی قیمت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 74.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ستمبر 2025 کی رپورٹ میں اس کی قیمتوں میں اضافہ صرف 4.1 فیصد تھا،اخبار کے مطابق توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکی خاندانوں کے مجموعی اخراجات پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہیں
گارڈین کے مطابق ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت کے آغاز کے بعد امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی گرفتاریاں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں،امیگریشن کارروائیوں کے دوران ہلاکت خیز واقعات پیش آئے ہیں، سیاست دانوں کے گھروں تک چھاپے مارے گئے ہیں اور حراستی مراکز میں تارکین وطن کے ساتھ سخت سلوک کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں
اخبار نے اس سوال کا جائزہ لیا کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں دوبارہ اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو امیگریشن کے معاملے پر ان کی اپنی پالیسی کیا ہوگی؟ میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک قاری نے سوال اٹھایا کہ ڈیموکریٹک پارٹی امیگریشن، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر اہم معاملات پر اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے رکھنے سے کیوں گریز کرتی ہے؟
گارڈین کے صحافی سیم لیون کے مطابق انتخابی مہم کے دوران متعدد ڈیموکریٹک امیدواروں نے امیگریشن کو اپنی نمایاں انتخابی ترجیح نہیں بنایا،ان کے بقول ڈیموکریٹس کی اکثریت نے ٹرمپ کی سخت گیر کارروائیوں کی مخالفت تو کی ہے اور سرحدوں پر کنٹرول کی ضرورت بھی تسلیم کی ہے، لیکن پارٹی کے اندر اس بات پر اتفاق نہیں کہ اقتدار میں واپسی کی صورت میں وہ موجودہ پالیسی سے مختلف کیا اقدامات کریں گے۔
گارڈین نے واضح کیا کہ امیگریشن کے معاملے پر ڈیموکریٹس ابھی تک کوئی متفقہ، واضح اور پیشگی حکمت عملی پیش نہیں کر سکے





