امیگریشن اہلکاروں نے 500 سے زائد امریکی شہریوں کو حراست میں لیا، 40 ڈیموکریٹک ارکان کانگریس نے ٹرمپ انتظامیہ سے جواب طلب کرلیا
واشنگٹن:امریکا میں امیگریشن حکام کی جانب سے امریکی شہریوں کو بھی حراست میں لینے کا معاملہ کانگریس میں پہنچ گیا ہے،ایوان نمائندگان کے 40 ڈیموکریٹک ارکان نے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وضاحت کرے کہ امیگریشن کارروائیوں کے دوران سیکڑوں امریکی شہریوں کو ان کی مرضی کے خلاف کیوں حراست میں رکھا گیا اور حکام شہریوں کی امریکی شہریت کی تصدیق کس طریقے سے کرتے ہیں
تحقیقاتی صحافتی ادارے پروپبلکا (ProPublica) کی حالیہ تحقیق کے مطابق امیگریشن اہلکاروں نے 500 سے زائد امریکی شہریوں کو حراست میں لیا،ادارے کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ حکومت ایسے واقعات کا شفاف اور مکمل ریکارڈ نہیں رکھ رہی
کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹک رکن کانگریس لوئی کوریا اور 39 دیگر ارکان نے اکتوبر میں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر مارک وین مولن کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ حکومت بتائے کہ امیگریشن اہلکاروں نے کتنے امریکی شہریوں کو حراست میں لیا، ایسے واقعات کا ریکارڈ کیسے مرتب کیا جا رہا ہے اور اہلکاروں کو امریکی شہریت اور قانونی امیگریشن حیثیت کی تصدیق کے لیے کس نوعیت کی تربیت دی جاتی ہے
ارکان کانگریس نے انتظامیہ سے یہ بھی پوچھا ہے کہ امیگریشن کارروائیوں کے دوران امریکی شہریوں کو غلط شناخت کی بنیاد پر حراست میں لینے سے روکنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات موجود ہیں
یہ معاملہ اس لیے اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ امریکی شہریوں کو بھی امیگریشن کارروائیوں کے دوران حراست میں لیے جانے کے واقعات شہری آزادیوں، آئینی حقوق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں





