Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو شکست ہوئی تو ٹرمپ کینیڈا کو ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں، سابق سفیر کا اہم تجزیہ

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک نئے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے امریکی وسط مدتی انتخابات میں اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچتا ہے تو خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ اس کا الزام کینیڈا پر عائد کر سکتے ہیں تاہم کینیڈا کے سابق سفیر ڈیرک برنی نے اس امکان کو زیادہ اہمیت دینے سے گریز کیا ہے اور کہا ہے کہ کینیڈا کو امریکی سفیر کے بیانات کو حتمی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ کے کینیڈا میں سفیر پیٹ ہوئسٹرا کے بارے میں اطلاعات سامنے آئیں کہ انہوں نے اوٹاوا میں ایک نجی کاروباری اجلاس کے دوران کہا تھا کہ اگر مشی گن اور مین جیسی اہم ریاستوں میں ریپبلکن امیدواروں کو شکست ہوئی تو ٹرمپ اس کا ذمہ دار کینیڈا کو ٹھہرا سکتے ہیں
سابق سفیر ڈیرک برنی نے سی ٹی وی کے پروگرام پاور پلے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں ہوگی کہ واشنگٹن میں سیاسی حالات کے باعث کینیڈا کے ساتھ تجارتی معاملات مزید پیچیدہ ہو جائیں، لیکن کینیڈا کو امریکی سفیر کے اس بیان سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں
برنی نے کہا کہ کسی بھی کینیڈین شہری کو امریکی سفیر کی باتوں کو من و عن درست نہیں سمجھنا چاہیے ان کے خیال میں امریکی سیاست میں داخلی اختلافات اور انتخابی دباؤ بہت زیادہ ہیں اور ان تمام مسائل کا ذمہ دار کینیڈا کو قرار دینا درست نہیں ہوگا
انہوں نے اس امکان پر بھی بات کی کہ اگر انتخابات کے نتیجے میں امریکی کانگریس کے ایوانوں پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ہو جاتا ہے جبکہ صدارت ریپبلکن پارٹی کے پاس رہتی ہے تو واشنگٹن میں قانون سازی کا عمل مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے اس صورتحال میں دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات بڑھنے اور اہم معاملات پر فیصلے رکنے کا خدشہ ہے
برنی کے مطابق یہ سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا کہ اگر ڈیموکریٹس انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو کینیڈا کے لیے تجارتی معاہدہ خود بخود آسان ہو جائے گا دونوں امریکی سیاسی جماعتوں کے اپنے تجارتی مفادات اور ترجیحات ہیں اور کینیڈا کو ان تمام عوامل کو سامنے رکھ کر مذاکرات کرنے ہوں گے
انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے پر اعتماد کے مسئلے کی طرف بھی توجہ دلائی ان کے مطابق اصل سوال صرف یہ نہیں کہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان معاہدہ ہو سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ اس معاہدے کی شرائط پر مستقل طور پر قائم رہے گی
برنی نے امریکی کمپنیوں کی جانب سے ٹرمپ کے درآمدی محصولات کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ خود امریکہ کے اندر بھی ان محصولات کے خلاف قانونی اور کاروباری مزاحمت موجود ہے
دوسری جانب امریکی سفارت خانے نے پیٹ ہوئسٹرا سے منسوب بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے تبصروں کو اصل گفتگو کے تناظر سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ سفارت خانے کے مطابق امریکی انتخابات کا فیصلہ امریکی شہری اپنے داخلی مسائل اور ترجیحات کی بنیاد پر کریں گے
کینیڈا کے لیے اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ امریکہ اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے دونوں ممالک کے درمیان محصولات کی جنگ نے گاڑیوں، اسٹیل، زراعت اور دیگر صنعتوں کو متاثر کیا ہے مشی گن اور مین میں انتخابی مقابلے بھی اس تجارتی تنازع سے متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ وہاں کے کاروباری حلقے امریکی محصولات کے اثرات پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں
برنی کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ کینیڈا کو امریکی انتخابی سیاست کے دباؤ میں آ کر جلد بازی میں کوئی معاہدہ نہیں کرنا چاہیے ان کے خیال میں ٹرمپ کو اپنے ملک کے اندر سیاسی اور معاشی مسائل کے علاوہ عالمی سطح پر بھی کئی بڑے معاملات کا سامنا ہے اور کینیڈا کے ساتھ تجارتی تعلقات ان کے لیے واحد ترجیح نہیں ہیں
اس طرح سابق سفیر نے کینیڈا کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکی انتخابی نتائج یا ٹرمپ کے ممکنہ ردعمل سے گھبرانے کے بجائے اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر تجارتی مذاکرات جاری رکھنے چاہئیں

قومی خبریں سے مزید