امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور کینیڈا ایک نئے تجارتی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، جبکہ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی حالیہ گفتگو کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی ٹیمیں آئندہ چند ہفتوں میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کریں گی
مارک کارنی نے یکم نومبر کو سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کینیڈا اور امریکہ کے مستقبل کے تجارتی تعلقات پر اچھی گفتگو ہوئی ہے ان کے مطابق یہ بات چیت دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تعمیری مذاکرات کا تسلسل ہے، جن کا مقصد ایسا تجارتی معاہدہ کرنا ہے جس سے دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچے
کارنی نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے ذریعے کینیڈین کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، خاندانوں کے اخراجات میں کمی اور اشیا کی قیمتوں میں بہتری آئے گی اور کینیڈا کی زبان، ثقافت اور خودمختاری کا مکمل احترام کیا جائے گا
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ریاست آئیووا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک بہت اچھے معاہدے کا خاکہ تیار ہو چکا ہے اور وہ معاہدے کے بہت قریب ہیں ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ امریکی کسانوں اور امریکی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگا اور کینیڈا کے لیے بھی قابل قبول ہوگا
تجارتی مذاکرات میں ایک اہم معاملہ تیل کی ترسیل کے لیے مجوزہ کی اسٹون ایکس ایل پائپ لائن منصوبہ بھی ہے ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے پر بھی بات ہو رہی ہے اور ان کے مطابق کینیڈا اس کی تعمیر کے اخراجات برداشت کرے گا یہ پائپ لائن البرٹا سے امریکہ تک روزانہ 830,000 بیرل تیل پہنچانے کی صلاحیت رکھتی تھی سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے 2021 میں اس منصوبے کا اہم اجازت نامہ منسوخ کر دیا تھا، جس کے بعد منصوبہ ختم ہو گیا تھا۔ تاہم اس کی بحالی کے طریقہ کار اور حتمی شرائط ابھی واضح نہیں ہیں
کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی کشیدگی رواں سال اگست میں اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب دونوں ممالک کے مذاکرات آخری مرحلے میں ناکام ہو گئے۔ وزیر اعظم کارنی نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے آخری وقت میں پیش کی جانے والی شرائط کو کینیڈا کی خودمختاری، فرانسیسی زبان کے تحفظ اور کینیڈا کی گاڑیوں کی صنعت کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا کی بعض مصنوعات پر 50 فیصد تک درآمدی محصولات عائد کیے، جبکہ کینیڈا نے بھی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات لگائے
دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں اسٹیل اور گاڑیوں سمیت مختلف صنعتی مصنوعات پر عائد امریکی محصولات میں کمی بھی زیر بحث ہے امریکہ اور کینیڈا کی باہمی تجارت پر ان محصولات کے باعث دونوں طرف کاروباری اداروں، صنعت کاروں، کسانوں اور صارفین کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے
اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ امریکہ میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں کینیڈا کے ساتھ تجارتی تنازع امریکی سرحدی ریاستوں مشی گن اور مین میں بھی انتخابی بحث کا حصہ بن چکا ہے، جہاں تجارتی محصولات کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں ٹرمپ کے لیے یہ معاملہ سیاسی طور پر بھی اہمیت رکھتا ہے
دوسری جانب کینیڈا کی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ ضرور چاہتی ہے، لیکن ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گی جو ملکی مفادات، صنعتوں اور خودمختاری کو نقصان پہنچائے کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پولیور نے بھی کارنی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ جلد معاہدہ کرے کیونکہ عام کینیڈین شہری تجارتی تنازع کے باعث مزید غیر یقینی صورتحال برداشت نہیں کر سکتے
اگرچہ دونوں رہنماؤں کے حالیہ بیانات سے مذاکرات میں بہتری کے اشارے ملتے ہیں، لیکن ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے اور نہ ہی اس کی مکمل شرائط سامنے آئی ہیں دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیمیں آئندہ چند ہفتوں میں اس سلسلے میں مزید کام کریں گی اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا امریکہ اور کینیڈا اپنے اختلافات ختم کرکے ایسا معاہدہ کر پاتے ہیں جو دونوں ممالک کی معیشتوں، صنعتوں، کسانوں اور عام شہریوں کے لیے قابل قبول ہو





