واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ کے 76 سالہ قدامت پسند جج سیموئل ایلیٹو نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت اور ری پبلکن اکثریت والی سینیٹ کے دوران ریٹائر نہ ہو کر اپنی جماعت کے لیے ممکنہ مشکل پیدا کر دی ہے،اگر 2026 کے مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس سینیٹ کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو وہ ٹرمپ کے نامزد کردہ نئے سپریم کورٹ جج کی منظوری روک سکتے ہیں
اس کی وجہ 2016 کی مثال ہے، جب ری پبلکن سینیٹ کے سربراہ مچ میک کونل نے صدر اوباما کے نامزد جج میرک گارلینڈ کو ووٹنگ تک پہنچنے ہی نہیں دیا تھا،اب ڈیموکریٹ سینیٹرز بھی واضح کر چکے ہیں کہ وہ ٹرمپ کے کسی نئے نامزد جج کی منظوری روکنے کے لیے یہی حکمت عملی اپنا سکتے ہیں
ایلیٹو نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ سیاسی حالات کے بجائے ذاتی اور عدالتی عوامل پر منحصر ہوگا، لیکن نیویارکر کے ایک تجزیے کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں میں سپریم کورٹ کے بیشتر قدامت پسند یا لبرل ججوں نے اسی وقت ریٹائرمنٹ لی جب وائٹ ہاؤس میں ان کے نظریات سے ہم آہنگ صدر موجود تھا
اب ایلیٹو کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ ڈیموکریٹس کے سینیٹ سنبھالنے کے بعد ریٹائر ہوتے ہیں تو ٹرمپ کے لیے اپنے جانشین کی منظوری حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے،اور اگر وہ 2028 تک انتظار کرتے ہیں تو یہ یقینی نہیں کہ اس وقت ری پبلکنز کے پاس وائٹ ہاؤس اور سینیٹ دونوں ہوں گے،مضمون نگار ایلی ہونگ کا بنیادی نکتہ ہے کہ ایلیٹو کے ریٹائر نہ ہونے کا فیصلہ ری پبلکنز کو آنے والے کئی برسوں تک مہنگا پڑ سکتا ہے
جسٹس سیموئل ایلیٹو نے خود بتایا ہے کہ انہوں نے اس سال جون میں عدالتی مدت ختم ہونے پر ریٹائرمنٹ کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا تھا، لیکن ان کے بقول وہ اب بھی سپریم کورٹ میں ایک مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ آئین اور ملک کے مفاد میں ابھی ان کی خدمات کی ضرورت ہے اور جب تک وہ یہ ذمہ داری نبھانے کے قابل ہیں، اسے چھوڑنا آسان فیصلہ نہیں،انہوں نے یہ بھی کہا کہ 76 سال کی عمر میں ہر سال ریٹائرمنٹ پر غور کرنا ضروری ہے، مگر وہ اپنی ذہنی یا جسمانی صلاحیت کو کمزور محسوس نہیں کرتے،اس لیے ان کے اپنے بیان کے مطابق ریٹائر نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ابھی کام جاری رکھنا چاہتے ہیں،یہ کہنا درست نہیں کہ انہوں نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ صرف ٹرمپ یا ری پبلکنز کے سیاسی فائدے کے لیے کیا





