ایک سرکاری ادارے کو سبق سکھانے کیلئے حکومت نے کروڑوں کا نقصان اٹھایا،وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی انوکھی منطق
حیدر آباد سندھ میں صوبائی حکومت نے ایک ایسی سڑک تعمیر کر دی جسکے بیچوں بیچ بجلی کے درجنوں کھمبے استادہ ہیں،میڈیا پر نو تعمیرشدہ سڑک پر گاڑیوں موٹر سائیکلوں کا ان کھمبوں میں سے زگ زیگ گزرتے دیکھ لوگوں کو گمان ہوا شاید عوام کو پاکستان کی ٹریفک کے اصول سمجھانے کیلئے یہ سڑک تعمیر کی گئی ہے یا پھر ڈاجم کار نامی بچوں کے کھیل کیلئے یہ ٹریک بنایا گیا ہے۔ مگر اب وزیر اعلیٰ سندھ نے اس راز سے پردہ اٹھایا کہ سرکاری بجلی فراہم کرنے والے ادارے حیسکو کو سبق سیکھانے کیلئے رکاوٹیں ہٹائے بغیر نئی سڑک تعمیر انکی صوبائی حکومت کے متعلقہ محکمے کا گرینڈ پلان تھا، توہم حیبکو نے وزیراعلی کے الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے ، حکومت نے سڑک بنانے سے پہلے کوئ رابطہ نہیں کیا جبکہ ایسا کرنا ضروری بھی تھا اور کسی بھی تعمیرات سے قبل کیا بھی جاتا ہے ، واضع رہے پاکستان میں ترقیاتی کاموں میں تاخیر سے کمیشن فوری ملنے کا امکان کم ہو جاتا ہے اور فنڈز لیپس ہونے کا بھی خدشہ ہوتا ہے اسلئے سیاستدانوں ، سرکاری ملازمین اور ٹھکیداروں کی کوشش ہوتی ہے کہ ڈویلپمنٹ کاموں میں تاخیر نہ ہو تاکہ سب کا حصہ بروقت ان تک پہنچ جائے۔






