Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزام میں مزید 5 کینیڈین شہریوں پر فرد جرم عائد، ٹرمپ انتظامیہ کی غیر ملکی ووٹرز کے خلاف کارروائیاں تیز

امریکی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزام میں مزید 5 کینیڈین شہریوں پر فرد جرم عائد، ٹرمپ انتظامیہ کی غیر ملکی ووٹرز کے خلاف کارروائیاں تیز

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر امریکی شہریوں کی جانب سے انتخابی عمل میں مبینہ غیر قانونی شرکت کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں تازہ کارروائی میں مزید 5 کینیڈین شہریوں پر امریکی انتخابات میں غیر قانونی ووٹنگ اور انتخابی دھوکا دہی کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے اس پیش رفت کے بعد امریکی انتخابات میں مبینہ طور پر غیر قانونی ووٹنگ کے مقدمات کا سامنا کرنے والے کینیڈین شہریوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکی شہریت نہ رکھنے والے افراد کو وفاقی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا قانونی حق حاصل نہیں اور جو لوگ اپنی شہریت کے بارے میں غلط معلومات دے کر ووٹر کے طور پر رجسٹریشن کرواتے یا ووٹ ڈالتے ہیں، ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی جا سکتی ہے
امریکی محکمہ انصاف نے حالیہ مہینوں میں ایسے مقدمات کی تحقیقات اور گرفتاریوں میں اضافہ کیا ہے ان کارروائیوں میں کینیڈین شہریوں کے علاوہ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مستقل رہائشی بھی شامل ہیں بعض افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ووٹر رجسٹریشن کے دوران خود کو امریکی شہری ظاہر کیا، جبکہ بعض کے خلاف امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے الزامات ہیں
اس مہم کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بعض ملزمان کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ ووٹ ڈالنے کے اہل نہیں ہیں کچھ افراد کے مطابق انہیں ڈرائیونگ لائسنس بنواتے یا اس کی تجدید کرواتے وقت انتخابی فہرستوں میں شامل کر لیا گیا، جبکہ بعض کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے غلط فہمی کی بنیاد پر خود کو ووٹ دینے کا اہل سمجھا
کینیڈین شہری رابرٹ ہیرالڈ کاربیٹ کا معاملہ بھی اس حوالے سے سامنے آیا ہے۔ وہ کینیڈا میں پیدا ہوئے تھے لیکن بچپن سے امریکہ میں پرورش پائی ان کے مطابق انہیں 51 سال کی عمر میں معلوم ہوا کہ انہیں گود لیا گیا تھا اور وہ امریکی شہری نہیں ہیں امریکی حکام کا الزام ہے کہ انہوں نے 1998 سے 6 انتخابات میں ووٹ ڈالے ان پر امریکی شہریت کا جھوٹا دعویٰ کرنے اور غیر شہری ہونے کے باوجود ووٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں
اسی طرح کینیڈین شہری پیج ایڈمسن کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ہے، جو واشنگٹن ریاست کے قریب امریکی علاقے پوائنٹ رابرٹس میں مستقل رہائشی کے طور پر تقریباً 14 سال سے مقیم ہیں۔ امریکی سرحدی حکام نے ستمبر میں انہیں مبینہ غیر قانونی ووٹنگ کے معاملے پر کئی گھنٹے پوچھ گچھ کے لیے روکے رکھا ان کا مؤقف ہے کہ انہیں یاد نہیں کہ انہوں نے کبھی امریکہ میں ووٹ ڈالا ہو
انتخابی امور کے ماہرین کے مطابق امریکہ میں غیر شہریوں کی جانب سے غیر قانونی ووٹنگ کے واقعات انتہائی کم ہیں۔ غیر جماعتی ادارے سینٹر فار الیکشن انوویشن اینڈ ریسرچ کے سربراہ ڈیوڈ بیکر کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو وسیع پیمانے پر انتخابی دھاندلی قرار دینے کے لیے شواہد موجود نہیں
ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انتخابات سے پہلے اس نوعیت کی گرفتاریوں اور مقدمات پر غیر معمولی توجہ دینے سے ووٹروں میں انتخابی نظام کے بارے میں شکوک پیدا ہو سکتے ہیں
رائٹرز کی ستمبر میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق امریکہ کی 12 ریاستوں میں سافٹ ویئر کی خرابیوں اور انتظامی غلطیوں کے نتیجے میں 2000 سے اب تک 30 ہزار سے زائد ایسے افراد انتخابی فہرستوں میں شامل ہو سکتے ہیں جنہوں نے خود کو غیر امریکی شہری ظاہر کیا تھا
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض معاملات میں ووٹر رجسٹریشن کا نظام بھی غیر شہریوں کو انتخابی فہرستوں میں شامل کرنے کا سبب بن سکتا ہے اس لیے ہر مقدمے میں یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ متعلقہ شخص نے جان بوجھ کر اپنی شہریت کے بارے میں غلط معلومات دیں اور غیر قانونی طور پر ووٹ ڈالا
گرفتاری، قید اور ملک بدری کا خطرہ
ان الزامات کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں ٹرمپ انتظامیہ ایسے غیر شہریوں کو ملک بدر کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے جنہیں غیر قانونی ووٹنگ کے مقدمات میں سزا ہو جائے
شمالی کیرولائنا میں مقیم ایک اور کینیڈین شہری ڈینس بوچارڈ کو جون میں اس نوعیت کے مقدمے میں 2 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی
دوسری جانب فلوریڈا میں ایک عدالت نے اگست میں کینیڈین شہری گینیل جیفریز کو غیر قانونی ووٹنگ کے الزام سے بری کر دیا تھا ان کا مؤقف تھا کہ انتخابی عملے کے ایک اہلکار نے انہیں غلط بتایا تھا کہ مستقل رہائشی بھی ووٹ ڈال سکتے ہیں
امریکی انتخابات میں غیر شہریوں کی شرکت کے خلاف کارروائیوں کے باعث مستقل رہائشیوں اور امریکی شہریت حاصل کرنے کے خواہش مند افراد میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات میں سزا کے علاوہ مستقبل میں امریکی شہریت حاصل کرنے اور ملک میں رہائش برقرار رکھنے کے امکانات بھی متاثر ہو سکتے ہیں
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور صدر ٹرمپ کی انتظامیہ انتخابی نظام میں غیر ملکی مداخلت اور غیر قانونی ووٹنگ کے خلاف کارروائیوں کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے
کینیڈا اور امریکہ کے درمیان پہلے ہی تجارتی محصولات، سیاسی بیانات اور انتخابی معاملات پر کشیدگی موجود ہے امریکی سفارت خانے نے اس سے قبل کینیڈین سیاست دانوں پر امریکی سیاسی معاملات پر اثر انداز ہونے کے الزامات بھی عائد کیے تھے، جنہیں کینیڈین حکام نے مسترد کیا ہے
اس صورتحال میں مزید 5 کینیڈین شہریوں کے خلاف مقدمات دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی تناؤ میں ایک نیا پہلو شامل کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ فرد جرم عائد ہونے کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں۔ تمام ملزمان کو عدالت میں اپنا دفاع کرنے اور بے گناہی ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیے جانے کا قانونی حق حاصل ہے

قومی خبریں سے مزید