ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو سیکیورٹی کیس میں 10، 10 سال قید کی سزا
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حذیر اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو سیکیورٹی انتظامات میں مبینہ مداخلت کے مقدمے میں 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے عدالت نے دونوں پر جرمانے بھی عائد کیے ہیں۔ یہ فیصلہ 29 اکتوبر کو اڈیالہ جیل میں قائم عدالت میں سنایا گیا، جہاں اس مقدمے کی سماعت جاری تھی
عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزمان کو 3 مختلف قانونی دفعات کے تحت سزا دی مقدمے کی سماعت مکمل ہونے اور فریقین کے حتمی دلائل سننے کے بعد عدالت نے 27 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ فیصلہ 29 اکتوبر کو سنایا جائے گا استغاثہ نے مقدمے میں 7 گواہ پیش کیے جبکہ عدالت نے دفاع کے لیے سرکاری وکیل مقرر کیا تھا
یہ مقدمہ 2024 میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی کے لیے مختص راستے میں مبینہ مداخلت اور عوام کو بدامنی پر اکسانے کے الزامات سے متعلق ہے استغاثہ کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر الزام تھا کہ انہوں نے کرکٹ ٹیم کی آمدورفت کے لیے لگائی گئی رکاوٹیں ہٹائیں، جس سے سیکیورٹی انتظامات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا دونوں وکلا پر 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی، تاہم انہوں نے الزامات تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے اپنے بیانات میں الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے، مظلوم افراد کو مفت قانونی معاونت فراہم کرنے اور جبری گمشدگیوں سمیت مختلف معاملات پر آواز اٹھانے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ایمان مزاری نے الزام عائد کیا کہ مقدمے کی کارروائی کے دوران ان کے منصفانہ ٹرائل، قانونی تقاضوں اور انسانی وقار سے متعلق آئینی حقوق متاثر ہوئے ان کے مطابق جیل میں قائم عدالت میں انہیں اور ان کے شوہر کو پنجرے میں پیش کیا جاتا تھا، جس سے اپنے وکلا اور عدالت کے ساتھ مؤثر رابطے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ یہ الزامات ملزمان کے اپنے بیانات پر مبنی ہیں
دونوں وکلا نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ استغاثہ کے گواہوں کے بیانات مبینہ طور پر غلط اور ایک دوسرے سے متضاد تھے ایمان مزاری کے مطابق واقعے کی ویڈیو بھی ان کے مؤقف کی تائید کرتی ہے انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے راستہ بند کیے جانے کے قانونی حکم کی نقل پیش نہیں کی گئی تھی تاہم عدالت نے مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے بعد انہیں سزا سنا دی ہے
اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پہلے ہی ایک دوسرے مقدمے میں سزا اور گرفتاری کا سامنا کر چکے ہیں دونوں کو 23 جنوری 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا اس مقدمے میں ان پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے الزامات بھی شامل تھے گرفتاری کے اگلے روز ایک سیشن عدالت نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں دونوں کو مختلف الزامات کے تحت مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی اس فیصلے پر وکلا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین کی جانب سے تنقید کی گئی تھی
17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں ان کی سزائیں معطل کرتے ہوئے اپیلوں کے حتمی فیصلے تک رہائی کا حکم دیا تھا تاہم رہائی کا امکان چند گھنٹوں ہی تک برقرار رہا اور اسلام آباد پولیس نے انہیں سیکیورٹی سے متعلق دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد سے دونوں جیل میں ہیں
حالیہ سزا سے قبل بھی دونوں نے مقدمے کی کارروائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا ان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ الزامات عائد کرنے اور دہشت گردی سے متعلق قانونی دفعات شامل کرنے کے فیصلے پر اعلیٰ عدالتوں میں درخواستیں زیر سماعت ہیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 19 اکتوبر کو ٹرائل روکنے کی درخواست منظور نہیں کی تھی، جس کے خلاف دونوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اس کے باوجود انسداد دہشت گردی عدالت نے 29 اکتوبر کو فیصلہ سنا دیا
ایمان مزاری پاکستان میں انسانی حقوق کے مقدمات کی پیروی کے حوالے سے جانی جاتی ہیں وہ جبری گمشدگیوں کے متاثرین، بلوچ اور پشتون کارکنوں اور مختلف قانونی مقدمات میں پھنسے افراد کی وکالت کرتی رہی ہیں ان کے اور ان کے شوہر کے خلاف مقدمات نے پاکستان میں منصفانہ ٹرائل، اظہار رائے کی آزادی، انسانی حقوق کے کارکنوں کے تحفظ اور دہشت گردی سے متعلق قوانین کے استعمال پر ایک بار پھر بحث کو نمایاں کر دیا ہے دونوں کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف کارروائی ان کی قانونی اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ عدالت نے سیکیورٹی سے متعلق مقدمے میں انہیں سزا سنائی ہے






