Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ماؤ زے تنگ سے متعلق تبصرے پر چین میں ایمباپے، ریئل میڈرڈ اور ہسپانوی فٹ بال لیگ مشکلات میں گھر گئے، معافی کے باوجود نشریات اور کاروبار خطرے میں

ماؤ زے تنگ سے متعلق تبصرے پر چین میں ایمباپے، ریئل میڈرڈ اور ہسپانوی فٹ بال لیگ مشکلات میں گھر گئے، معافی کے باوجود نشریات اور کاروبار خطرے میں

فرانس کے معروف فٹ بالر کیلین ایمباپے کے چین کے سابق رہنما ماؤ زے تنگ سے متعلق ایک تبصرے نے عالمی فٹ بال میں نیا تنازع کھڑا کردیا ہے ایمباپے، ان کے کلب ریئل میڈرڈ اور ہسپانوی فٹ بال لیگ لا لیگا کی جانب سے معافی مانگے جانے کے باوجود چین میں ردعمل کم نہیں ہوا چینی کمپنیوں نے ایمباپے کے ساتھ تجارتی معاہدے ختم کردیے ہیں جبکہ ہسپانوی لیگ کے میچز کی سرکاری ٹیلی وژن پر نشریات بھی متاثر ہونے لگی ہیں اس صورت حال سے کھلاڑی، کلب اور لیگ تینوں کے مالی مفادات اور ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے
تنازع اس وقت شروع ہوا جب انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ایمباپے ایک ایسی مزاحیہ تصویر یا میم کا ذکر کرتے دکھائی دیے جس میں ان کے چہرے کو ماؤ زے تنگ کی تصویر پر لگا دیا گیا تھا ویڈیو میں انہوں نے ماؤ کو چین کا ایک آمر قرار دینے کے انداز میں بات کی اس ویڈیو کی صداقت کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں ہوسکی، تاہم اس کے پھیلنے کے بعد چین میں شدید ردعمل سامنے آیا
ماؤ زے تنگ چین کے کمیونسٹ انقلاب کے بانی رہنما اور عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی اہم ترین شخصیت سمجھے جاتے ہیں وہ 1949 سے 1976 میں اپنی وفات تک ملک کے رہنما رہے اگرچہ مؤرخین ان کی حکومت کے دوران بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں اور تباہ کن پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں، لیکن چین میں سرکاری سطح پر ان کی تاریخی حیثیت برقرار ہے اور ان کا مذاق اڑانا ایک حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے
چینی مشروبات بنانے والی بڑی کمپنی ڈونگ پینگ اور دودھ کی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی مینگ نیو نے ایمباپے کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا اس سے پہلے ایمباپے چین میں اشتہارات، مشروبات کی تشہیر اور کھیلوں سے متعلق مہمات کا نمایاں چہرہ تھے بعد ازاں شنگھائی ملک گراؤنڈ اور ایسٹروک بیوریج سمیت دیگر کمپنیوں کی جانب سے بھی ان کے ساتھ تعاون ختم کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں اس طرح تنازع محض سوشل میڈیا کی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ براہ راست ان کے کاروباری مفادات تک پہنچ گیا
ریئل میڈرڈ نے بھی چینی عوام سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ کلب چین، اس کی تاریخ، ثقافت اور شہریوں کا احترام کرتا ہے لا لیگا نے بھی ایمباپے کے تبصرے سے خود کو الگ کرتے ہوئے معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کی لیگ کے صدر خاویر تیبا نے صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی ٹیم قائم کی اور چین کے سفیر یاؤ جِنگ سے ملاقات بھی کی چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ حکومت ایمباپے کی معافی کو سنجیدگی سے لے رہی ہے، تاہم اس بیان سے یہ واضح نہیں ہوا کہ نشریاتی پابندیاں کب ختم ہوں گی
چین میں ہسپانوی فٹ بال کے لیے سب سے بڑا خطرہ نشریاتی آمدنی اور تجارتی معاہدوں کو لاحق ہے اطلاعات کے مطابق چین کی سرکاری نشریاتی سروس کے تحت لا لیگا کے میچز دکھانے کا سلسلہ متاثر ہوا ہے چین کی ڈیجیٹل نشریاتی کمپنی میگو نے ریئل میڈرڈ اور ریسنگ سانتاندیر کے درمیان اتوار کو ہونے والا میچ نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ اسی ہفتے لا لیگا کے دیگر 9 میچ دکھانے کا شیڈول تھا اگر یہ صورت حال طویل ہوئی تو ہسپانوی فٹ بال کو چین میں ناظرین، اشتہارات اور اسپانسرشپ کے شعبوں میں نقصان ہوسکتا ہے
چین ریئل میڈرڈ کے لیے ایک اہم تجارتی منڈی ہے کلب سے وابستہ اخبار مارکا کے اندازے کے مطابق ریئل میڈرڈ کی شرٹس اور دیگر مصنوعات کی فروخت کا 10 سے 15 فیصد حصہ چین سے آتا ہے کلب کے نمایاں تجارتی شراکت داروں میں چینی کمپنیاں بھی شامل ہیں دوسری جانب لا لیگا کے بین الاقوامی نشریاتی حقوق کی مالیت 2024 اور 2025 کے سیزن میں 748 ملین یورو، یعنی تقریباً 834 ملین امریکی ڈالر تھی لیگ سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق چین اور امریکا مل کر بین الاقوامی نشریاتی آمدنی کا بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں
یہ پہلا موقع نہیں کہ چین میں سیاسی یا تاریخی طور پر حساس معاملے پر کسی عالمی کھیل کی شخصیت کے بیان نے تجارتی تنازع پیدا کیا ہو۔ 2019 میں امریکی باسکٹ بال لیگ این بی اے کے اس وقت کے ہیوسٹن راکٹس کے جنرل منیجر ڈیرل موری نے ہانگ کانگ کے مظاہرین کی حمایت میں پیغام جاری کیا تھا اس کے بعد چین میں این بی اے کی نشریات ایک سال سے زیادہ عرصے تک متاثر رہیں اور لیگ کے کمشنر ایڈم سلور کے مطابق اس تنازع سے لیگ کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا چین میں این بی اے کے نمائشی میچز دوبارہ گزشتہ سال ہی منعقد ہوئے
مبصرین کے مطابق موجودہ تنازع سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی بڑی صارف منڈی میں عالمی کھیلوں کی شخصیات کی مقبولیت کے ساتھ سیاسی اور ثقافتی حساسیت کو سمجھنا بھی ضروری ہے سوشل میڈیا پر غصے کی لہر، سرکاری ذرائع ابلاغ کی تنقید اور کمپنیوں کے تجارتی فیصلے مل کر کسی کھلاڑی یا ادارے کے لیے بحران کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں تاہم یہ اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے کہ ایمباپے اور ریئل میڈرڈ کی معافی سے حالات کتنی جلد بہتر ہوں گے
ایمباپے اور ریئل میڈرڈ کے لیے اب اصل امتحان صرف معافی مانگنا نہیں بلکہ چینی شائقین کا اعتماد بحال کرنا، تجارتی شراکت داروں سے تعلقات بہتر بنانا اور نشریاتی پابندیوں کے خاتمے کے لیے راستہ نکالنا ہے اگر تنازع طویل ہوا تو اس کے اثرات ایک کھلاڑی کی تشہیری مہمات سے آگے بڑھ کر لا لیگا کی عالمی تجارتی حکمت عملی اور ریئل میڈرڈ کی چین میں کاروباری سرگرمیوں تک پہنچ سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید