پاکستان کی معیشت کب تک بیرون ملک پاکستانیوں کے بھیجے گئے ڈالروں کے سہارے چلے گی؟ ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، برآمدات اور سرمایہ کاری پیچھے
پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے مالی سال 2025 اور 2026 کے دوران ترسیلات زر میں اضافے نے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا، درآمدات کی ادائیگی میں مدد کی اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کیا لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی شدت اختیار کر رہا ہے کہ کیا پاکستان طویل مدت تک اپنے معاشی استحکام کے لیے بیرون ملک کام کرنے والے شہریوں کی کمائی پر انحصار کرتا رہے گا، یا ملک کے اندر ایسی معیشت قائم کر سکے گا جو اپنی برآمدات، صنعت اور سرمایہ کاری سے مطلوبہ زرمبادلہ خود پیدا کرے؟
مالی سال 2025 اور 2026 میں پاکستان کو بیرون ملک مقیم کارکنوں سے مجموعی طور پر 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں اس کے مقابلے میں اشیا کی برآمدات 30.8 ارب ڈالر رہیں، جبکہ خالص براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری صرف 1.67 ارب ڈالر تھی اس طرح بیرون ملک پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقم اشیا کی برآمدات سے تقریباً 10.8 ارب ڈالر زیادہ رہی اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے مقابلے میں تقریباً 25 گنا تھی یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے بیرونی مالی استحکام میں سمندر پار پاکستانیوں کی اہمیت کتنی بڑھ چکی ہے
ترسیلات زر صرف حکومت کے لیے ڈالر حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی روزمرہ زندگی کا سہارا بھی ہیں ان رقوم سے گھروں کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، علاج، رہائش اور دیگر ضروریات پوری کی جاتی ہیں بہت سے خاندانوں کے لیے بیرون ملک کام کرنے والے رشتہ داروں کی آمدنی غربت سے بچنے اور بہتر زندگی گزارنے کا اہم ذریعہ ہے اس کے علاوہ یہ رقوم ملک میں ڈالر کی دستیابی بڑھاتی ہیں اور درآمدات کے بل کی ادائیگی میں مدد دیتی ہیں
تاہم ماہرین معاشیات کے نزدیک ترسیلات زر اور برآمدات میں بنیادی فرق ہے بیرون ملک پاکستانی اپنی محنت سے کمائی گئی رقم وطن بھیجتے ہیں، لیکن یہ رقم خود بخود ملک میں نئی فیکٹریاں قائم نہیں کرتی، جدید ٹیکنالوجی نہیں لاتی اور صنعتی پیداوار میں اضافہ نہیں کرتی اگر ان رقوم کا زیادہ تر حصہ گھریلو اخراجات یا غیر پیداواری سرگرمیوں پر خرچ ہو تو اس سے خاندانوں کو فائدہ ضرور ہوتا ہے، لیکن ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے الگ اقدامات ضروری رہتے ہیں
پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا مسئلہ اشیا کی درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق بھی ہے مالی سال 2026 میں اشیا کی درآمدات اور برآمدات کے درمیان تجارتی خسارہ تقریباً 39.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اس فرق کو پورا کرنے میں ترسیلات زر نے اہم کردار ادا کیا۔ اسی مالی سال میں جاری کھاتے کا خسارہ صرف 304 ملین ڈالر رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والی رقوم نے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دی تاہم جاری کھاتے کا کم خسارہ بذات خود اس بات کی ضمانت نہیں کہ ملکی صنعت اور برآمدات بھی مضبوط ہو رہی ہیں۔ 
پاکستان کے لیے ایک اور تشویش کا پہلو براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی کم سطح ہے۔ مالی سال 2026 میں خالص براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 1.67 ارب ڈالر رہی اس کے مقابلے میں حصص اور دیگر مالی اثاثوں میں ہونے والی سرمایہ کاری کے خالص بہاؤ میں 1.19 ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں طویل مدتی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اسے صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی اور برآمدات میں تبدیل کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے
غیر ملکی سرمایہ کاری کی اہمیت صرف اس رقم تک محدود نہیں جو ملک میں آتی ہے اگر سرمایہ کار ایسی صنعتوں میں سرمایہ لگائیں جو عالمی منڈیوں کے لیے مصنوعات تیار کریں، مقامی کارکنوں کو ہنر سکھائیں اور جدید ٹیکنالوجی منتقل کریں تو ان کے ذریعے مستقبل میں مسلسل برآمدی آمدنی پیدا ہو سکتی ہے اس کے برعکس ایسی سرمایہ کاری جو زیادہ تر مقامی منڈی پر انحصار کرے، ضروری نہیں کہ ملک کے لیے اسی تناسب سے نیا زرمبادلہ پیدا کرے
پاکستان کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات کا شعبہ ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے مالی سال 2026 میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات تقریباً 4.6 ارب ڈالر رہیں جولائی 2026 میں اس شعبے کی برآمدات 417 ملین ڈالر تک پہنچیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 17.8 فیصد زیادہ تھیں ڈیجیٹل خدمات کی برآمدات میں روایتی صنعتوں کے مقابلے میں بعض اوقات خام مال اور نقل و حمل پر کم خرچ آتا ہے، اس لیے یہ شعبہ ملک کے لیے خالص زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے
اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آئی ٹی کمپنیوں کو قابل اعتماد انٹرنیٹ، مستحکم ٹیکس پالیسی، ہنرمند کارکنوں، ادائیگیوں کے مؤثر نظام اور بیرونی منڈیوں تک رسائی فراہم کی جائے اسی طرح ٹیکسٹائل، چاول، کھیلوں کا سامان، جراحی کے آلات اور دیگر روایتی برآمدی شعبوں میں بھی مصنوعات کے معیار، جدید مشینری، توانائی کی قیمتوں اور کاروباری اخراجات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے
ایک اور راستہ یہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو اپنی بچت کا کچھ حصہ رضاکارانہ طور پر پاکستان کے پیداواری منصوبوں میں لگانے کے مواقع دیے جائیں اس مقصد کے لیے شفاف سرمایہ کاری فنڈز، سمندر پار پاکستانیوں کے لیے تجارتی منافع دینے والی اسکیمیں اور قابل اعتماد صنعتی منصوبے متعارف کرائے جا سکتے ہیں لیکن ایسی اسکیموں کی کامیابی کے لیے واضح قواعد، سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ اور مالی حسابات کی شفافیت ضروری ہوگی صرف حب الوطنی کی اپیل پر سرمایہ کاری حاصل کرنے کے بجائے لوگوں کو قابل اعتماد کاروباری مواقع فراہم کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے
پاکستان کی معاشی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی یہ بھی ہونی چاہیے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کو صرف اس رقم سے نہ ناپا جائے جو ملک میں آ رہی ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ وہ رقم کس ذریعے سے حاصل ہوئی برآمدات سے کمایا گیا ڈالر، بیرون ملک سے بھیجی گئی رقم، طویل مدتی سرمایہ کاری اور سود کے ساتھ واپس کیا جانے والا قرض اپنی نوعیت اور مستقبل کے اثرات کے لحاظ سے مختلف ہیں اس لیے ان تمام ذرائع کا الگ الگ جائزہ لینا ضروری ہے
مجموعی طور پر بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر پاکستان کے لیے ایک قیمتی معاشی سہارا ہیں اور ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا مسئلہ ترسیلات زر کا زیادہ ہونا نہیں بلکہ ملکی معیشت کی جانب سے اپنی برآمدات، صنعت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ذریعے مناسب زرمبادلہ پیدا نہ کر پانا ہے پاکستان کو ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو سمندر پار پاکستانیوں کی محنت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر روزگار اور پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ کریں
پاکستان کی معیشت اس وقت زیادہ پائیدار ہو سکے گی جب بیرون ملک پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوم خاندانوں کی خوش حالی اور مالی استحکام میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں، لیکن ملک کی بیرونی ادائیگیوں کا بنیادی بوجھ بتدریج مضبوط برآمدات، جدید صنعت، آئی ٹی خدمات اور طویل مدتی سرمایہ کاری اٹھانے لگے اصل کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ بیرون ملک پاکستانی کتنے زیادہ ڈالر بھیجتے ہیں، بلکہ یہ ہوگی کہ پاکستان اپنے ملک کے اندر کتنی دولت، کتنی ملازمتیں اور کتنی برآمدی آمدنی پیدا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے






