Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

گوجرانوالہ میں ولیمے سے واپسی پر دلہن قتل، رشتے سے انکار کی رنجش میں فائرنگ کا الزام، 3 افراد نامزد

گوجرانوالہ میں ولیمے سے واپسی پر دلہن قتل، رشتے سے انکار کی رنجش میں فائرنگ کا الزام، 3 افراد نامزد

پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں شادی کی خوشیاں اس وقت ماتم میں بدل گئیں جب ولیمے کی تقریب سے واپسی پر نئی نویلی دلہن صبا طفیل کو گاڑی میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق قتل کا الزام ایک ایسے شخص پر ہے جس کا رشتہ صبا کے گھر والوں نے مسترد کر دیا تھا واقعے کے بعد پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے 3 مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں
پولیس ذرائع کے مطابق صبا طفیل کا تعلق نیو گلشن کالونی، گوجرانوالہ سے تھا ان کی شادی جمعہ کے روز سفیان نامی نوجوان سے ہوئی تھی، جبکہ ہفتے کو جی ٹی روڈ پر شالیمار ٹاؤن کے ایک شادی ہال میں ولیمے کی تقریب منعقد کی گئی تقریب کے بعد صبا اپنے شوہر کے ہمراہ گاڑی میں گھر واپس جا رہی تھیں کہ چونگی نمبر 10 کے قریب موٹر سائیکل پر سوار 2 افراد نے ان کی گاڑی روک لی
پولیس کے مطابق ملزم سرفراز مبینہ طور پر گاڑی میں داخل ہوا اور صبا پر پستول سے فائرنگ کر دی۔ گولی ان کے سینے میں لگی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے صبا کو تشویش ناک حالت میں گوجرانوالہ ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور شواہد جمع کیے ڈاکٹروں نے پوسٹ مارٹم کے بعد لاش اہل خانہ کے حوالے کر دی
مقتولہ کے بھائی اعجاز احمد کی شکایت پر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے سرفراز، اس کی کزن عروب اور ایک نامعلوم ساتھی کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے عروب کا تعلق وزیرآباد سے بتایا گیا ہے مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302، 311، 109 اور 34 شامل کی گئی ہیں پولیس تفتیش کر رہی ہے کہ مبینہ قتل میں ہر نامزد شخص کا کیا کردار تھا
ابتدائی تحقیقات کے مطابق صبا اور عروب ایک فیکٹری میں کام کرتی تھیں اور ایک دوسرے کے گھروں بھی آتی جاتی تھیں اسی تعلق کے باعث سرفراز کی صبا سے ملاقات ہوئی اور مبینہ طور پر وہ ان سے شادی کرنا چاہتا تھا اس نے صبا کے والدین کو رشتے کا پیغام بھیجا، تاہم اہل خانہ نے اسے قبول نہیں کیا پولیس ذرائع کے مطابق سرفراز اس انکار پر صبا اور ان کے خاندان سے ناراض تھا شکایت کنندہ کے مطابق عروب بھی ولیمے کی تقریب میں شریک ہوئی تھی
یہ واقعہ خواتین کی مرضی، شادی کے انتخاب اور رشتے سے انکار کے بعد تشدد کے سنگین مسئلے کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے کسی خاتون کی جانب سے شادی کی پیشکش قبول نہ کرنا کسی بھی شخص کو دھمکی دینے یا تشدد کرنے کا حق نہیں دیتا اس نوعیت کے واقعات میں صرف ملزم کی گرفتاری ہی نہیں بلکہ مکمل تفتیش، عدالتی کارروائی اور خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات بھی اہم ہیں
تاہم مقدمے میں نامزد افراد کے خلاف الزامات ابھی عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے پولیس کی تحقیقات سے یہ طے ہونا باقی ہے کہ قتل کی منصوبہ بندی کس نے کی، حملے میں کون کون شریک تھا اور نامزد افراد کے خلاف دستیاب شواہد کیا ہیں صبا کے قتل نے ان کے خاندان کو شادی کے پہلے ہی دن شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا اب تفتیشی اداروں کی ذمہ داری ہے

قومی خبریں سے مزید