Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

وفاوی اپیل عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ، زیرِ حراست تارکینِ وطن کے ضمانتی سماعت کے حق پر نئی بحث

وفاوی اپیل عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ، زیرِ حراست تارکینِ وطن کے ضمانتی سماعت کے حق پر نئی بحث

وفاق کی پانچویں سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے جمعہ کو ایک اہم فیصلے میں قرار دیا کہ ایسے تارکینِ وطن جنہیں کبھی باضابطہ طور پر امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، ملک بدری کے انتظار میں حراست کے دوران آئینی طور پر ضمانتی سماعت کے حق دار نہیں ہیں،یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں کے لیے اہم قانونی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے اور سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہونے والے ایک متعلقہ مقدمے پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے
عدالت نے مقدمہ اگناسیو سوسناوا روڈریگز بنام سلویسٹر ایم اورٹیگا میں تین زیرِ حراست تارکینِ وطن کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا،تینوں افراد کو لازمی حراست سے متعلق وفاقی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا،عدالت نے قرار دیا کہ امریکی آئین کی پانچویں ترمیم میں شامل قانونی کارروائی کے منصفانہ حق کی شق انہیں ضمانتی سماعت کا حق نہیں دیتی
فیصلے کے مطابق، امریکہ میں کئی برس یا حتیٰ کہ کئی دہائیوں تک رہائش، مقامی برادریوں سے تعلقات اور ملک میں خاندانی و سماجی روابط بذاتِ خود ضمانتی سماعت کا آئینی حق پیدا نہیں کرتے،اس مؤقف کے تحت، متعلقہ افراد کو ملک بدری کی کارروائی کے دوران حراست سے رہائی کے لیے معمول کی ضمانتی سماعت کا حق حاصل نہیں ہوگا
یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی سپریم کورٹ رواں عدالتی مدت میں رونی بنام باربوسا دا کونہا مقدمے کی سماعت کرنے والی ہے،اس مقدمے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا لازمی حراست سے متعلق وفاقی قانون ان تارکینِ وطن پر بھی لاگو ہوتا ہے جنہیں امریکہ میں طویل عرصے سے رہائش کے بعد ملک کے اندر گرفتار کیا گیا ہو،سپریم کورٹ کا فیصلہ پانچویں سرکٹ کے مؤقف کو مزید تقویت دے سکتا ہے یا اس کے قانونی دائرے کو محدود کر سکتا ہے
عدالتی فیصلے کے مطابق، یہ تنازعہ خاص طور پر ان تارکینِ وطن سے متعلق ہے جو سرحد عبور کرکے امریکہ میں داخل ہوئے، انہیں باضابطہ داخلے کی اجازت نہیں ملی اور بعد میں ملک کے اندر گرفتار کر لیا گیا،پانچویں سرکٹ کا فیصلہ 10 کے مقابلے میں 7 ججوں کی اکثریت سے آیا اور اس کا اطلاق ٹیکساس، لوزیانا اور مسیسیپی پر ہوتا ہے
عدالت میں اختلاف کرنے والے ججوں نے خبردار کیا کہ اس تشریح سے حکومت کو تارکینِ وطن کو مؤثر عدالتی نظرثانی کے بغیر طویل مدت تک حراست میں رکھنے کے وسیع اختیارات مل سکتے ہیں،امیگریشن حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انفرادی ضمانتی سماعت کے ذریعے یہ جانچنا ضروری ہے کہ آیا کسی شخص کو حراست میں رکھنا واقعی ناگزیر ہے یا نہیں
سپریم کورٹ کے سامنے زیرِ غور مقدمے میں بنیادی سوال وفاقی قانون کی تشریح کا ہے، جبکہ پانچویں سرکٹ نے یہ بھی فیصلہ دیا ہے کہ متعلقہ تارکینِ وطن کو آئین کے تحت ضمانتی سماعت کا حق حاصل نہیں،اسی فرق کے باعث سپریم کورٹ کا آئندہ فیصلہ اس بات پر اثرانداز ہو سکتا ہے کہ ان افراد کو ضمانت کی درخواست دینے کا قانونی راستہ میسر ہوگا یا نہیں

قومی خبریں سے مزید