Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں زرعی زمینیں سکڑنے لگیں، 59 فیصد کھیت ڈھائی ایکڑ سے بھی کم رہ گئے

پاکستان میں زرعی زمینیں سکڑنے لگیں، 59 فیصد کھیت ڈھائی ایکڑ سے بھی کم رہ گئے

پاکستان میں زرعی زمینوں کی مسلسل تقسیم اور کھیتوں کے چھوٹے ہونے سے زراعت کی پیداواری صلاحیت، کسانوں کی آمدنی اور دیہی معیشت کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ 2024 کی زرعی مردم شماری کے مطابق ملک میں کھیتوں کی تعداد بڑھ کر 1 کروڑ 11 لاکھ ہو گئی، جبکہ اوسط کھیت کا رقبہ 2010 کے 6.4 ایکڑ سے کم ہو کر 5.3 ایکڑ رہ گیا ہے
اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں پاکستان کے 59 فیصد کھیت 2.5 ایکڑ سے بھی کم رقبے پر مشتمل تھے، جبکہ 2010 میں ایسے کھیتوں کا تناسب 43.5 فیصد تھا اسی طرح 5 ایکڑ سے کم رقبے والے کھیتوں کا تناسب بڑھ کر 78 فیصد ہو گیا، جو 2010 میں 64.7 فیصد تھا۔ ملک کے 95 فیصد سے زیادہ کھیت 12.5 ایکڑ سے کم رقبے پر مشتمل ہیں
زرعی زمینوں کی تقسیم کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بہت سے کسانوں کی زمین ایک ہی جگہ پر واقع ہونے کے بجائے مختلف مقامات پر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے ایسی زمین پر ٹریکٹر اور جدید زرعی مشینری استعمال کرنا مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔ آبپاشی، فصلوں کی نگرانی، بیج بونے اور کٹائی کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں
2010 میں ملک میں ایسی تقسیم شدہ زمینوں والے کھیتوں کی تعداد 28 لاکھ 30 ہزار تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 49 لاکھ 80 ہزار ہو گئی۔ اس طرح ان کی تعداد میں 76 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہر ایسے کھیت کے زمین کے الگ الگ ٹکڑوں کی اوسط تعداد بھی 3 سے بڑھ کر 7 ہو گئی
اوکاڑہ کے 3 ایکڑ زمین رکھنے والے کسان محمد ندیم کی مثال اس مسئلے کو واضح کرتی ہے وہ اپنی زمین پر گندم، سبزیاں اور مویشیوں کے لیے چارہ اگاتے ہیں، لیکن پیداوار سے اتنی آمدنی نہیں ہوتی کہ خاندان کے اخراجات اور اگلی فصل پر سرمایہ کاری کی ضروریات پوری ہو سکیں مہنگی کھاد اور قرض حاصل کرنے میں مشکلات نے ان کے لیے کاشت کاری کو مزید مشکل بنا دیا ہے وہ اور ان کے بھائی اضافی آمدنی کے لیے شہر میں مزدوری کرتے ہیں، جبکہ ان کی بہن ایک نجی اسکول میں پڑھاتی ہیں
سابق صوبائی وزیر آبپاشی اور جنوبی پنجاب کے کسان محسن لغاری کے مطابق 5 ایکڑ زمین اگر ایک ہی جگہ ہو تو اس پر کاشت کاری کے اخراجات اور انتظامات نسبتاً آسان ہوتے ہیں، لیکن یہی رقبہ مختلف مقامات پر بٹا ہو تو مشینری کے استعمال، نگرانی اور وقت پر زرعی کام مکمل کرنے میں مشکلات بڑھ جاتی ہیں
زرعی ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا حل صرف زمینوں کو یکجا کرنے میں نہیں، بلکہ چھوٹے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی، مناسب زرعی مشینری، آسان قرضوں اور مشترکہ کاشت کاری کی سہولتیں فراہم کرنے میں بھی ہے کسان مل کر مشینری استعمال کریں یا کرائے پر حاصل کرنے کا مؤثر نظام بنایا جائے تو چھوٹے رقبے پر بھی اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں
پاکستان میں زرعی زمینوں کی تقسیم محض زمین کی ملکیت کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ غذائی تحفظ، دیہی غربت اور شہروں کی طرف نقل مکانی سے بھی جڑی ہوئی ہے اگر چھوٹے کسان اپنی زمین سے مناسب آمدنی حاصل نہ کر سکے تو زراعت میں سرمایہ کاری، پیداوار میں اضافہ اور ملکی غذائی ضروریات پوری کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید