وہ بائیس سالہ طالبہ جو فرانس کے ہنگاموں کا نمایاں چہرہ بن گئی، اب برطانوی نوجوانوں کو انقلاب کے لیے سڑکوں پر دیکھنے کی خواہشمد ہے
پیرس کی سڑکوں پر احتجاج میں حصہ لینے کے بعد 22 سالہ طالبہ اور سماجی کارکن لولا فلور وٹیکر برطانوی نوجوانوں پر بھی اپنی تحریک شروع کرنے کے لیے زور دے رہی ہیں
بہت سے طلبہ کی طرح لولا فلور وٹیکر بھی مثالی تصورات اور اس یقین سے سرشار ہیں کہ ان کی نسل دنیا کو بدل سکتی ہے،اکثر طلبہ کے لیے یہ خواب شراب خانے میں دوستوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو تک محدود رہتے ہیں، لیکن پیرس میں یہی خواب کبھی کبھی صدارتی محل پر دھاوا بولنے کی کوششوں تک پہنچ جاتے ہیں
22 سالہ فرانسیسی نژاد برطانوی طالبہ اور سماجی کارکن وٹیکر فرانس میں جاری احتجاجی مظاہروں کی نمایاں شخصیات میں شامل ہو گئی ہیں،اب وہ چاہتی ہیں کہ برطانیہ کے نوجوان بھی فرانسیسی نوجوانوں کی طرح بغاوت کی راہ اختیار کریں
مانچسٹر یونیورسٹی سے فارغ التحصیل وٹیکر ان دنوں پیرس کے ممتاز سیاسی مطالعاتی ادارے سائنسز پو میں یورپی امور میں ماسٹرز کر رہی ہیں،وہ سوشل میڈیا پر طلبہ کے مسائل اور شکایات اجاگر کرتی رہی ہیں اور احتجاجی تحریک کی نمائندہ آواز کے طور پر انہیں ٹیلی ویژن پروگراموں میں بھی مدعو کیا گیا ہے
وہ بائیں بازو کی سخت گیر جماعت فرانس اَن بوومیز کی حامی ہیں اور اس مہم میں بھی سرگرم رہی ہیں جس میں مزید 10 ارب یورو مختص کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے






