پنجاب میں پولیس مقابلوں پر سابق آئی جی کے اعتراضات کے ساتھ پنجاب حکومت کی رضامندی کے دعوے ،آٹھ ماہ میں گیارہ سو زائد ملزمان ہلاک، عدالتی تحقیقات کا مطالبہ
لاہور :پنجاب میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے نام پر پولیس مقابلوں میں مسلسل ہلاکتوں نے قانون کی حکمرانی، ملزمان کے حقِ زندگی اور نظامِ انصاف پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں،انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق، پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی کارروائیوں میں ابتک کے آٹھ ماہ کے دوران کم از کم 924 سے گیارہ سو سے زائد مشتبہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسی عرصے میں صرف دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی،کمیشن نے ان واقعات کو محض انفرادی بے ضابطگیوں کے بجائے مبینہ طور پر ایک منظم طریقۂ کار قرار دیتے ہوئے اعلیٰ سطح کی عدالتی تحقیقات اور پولیس مقابلوں کی آزادانہ نگرانی کا مطالبہ کیا ہے
سابق آئی جی اسلام آباد پولیس طاہر عالم خان اس سے قبل پولیس مقابلوں کے رجحان، ان کے پس منظر اور فوجداری نظامِ انصاف کی کمزوریوں پر اظہارِ خیال کر چکے ہیں،ان کے مطابق، پولیس مقابلوں کے پیچھے ایک اہم وجہ یہ تصور ہے کہ اس طریقے سے جرائم پیشہ عناصر میں خوف پیدا کیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری بڑی وجہ فوجداری نظامِ انصاف کی کمزوریاں، مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر اور سنگین جرائم کے ملزمان کا اعلیٰ عدالتوں سے ضمانت پر رہا ہو جانا ہے،ان کا کہنا تھا کہ پولیس بعض اوقات قانونی کارروائی اور عدالتی فیصلے کے طویل عمل کے بجائے شارٹ کٹ اختیار کرتی ہے، جس کے نتیجے میں پولیس مقابلوں کا راستہ اپنایا جاتا ہے، یہاں یاد رہے پاکستان کی فوج بھی دھشت گردی اور بلوچستان میں بغاوت کے پسمنظر میں مسنگ پرسنز اور ایسے افراد کے ماورائے عدالت قتل کے پسمنظر میں یہی دلیل پیش کرتی ہے کہ عدالتی و پولیس نظام میں خامیوں کمزوریوں کے نتیجے میں ایسے ملزمان بچ نکلتے ہیں
طاہر عالم خان نے یہ نکتہ بھی اٹھایا تھا کہ پولیس کے سامنے ملزم کا اعترافِ جرم یا پولی گراف ٹیسٹ جیسے معاملات عدالت میں لازماً قابلِ اعتماد اور کافی شہادت نہیں سمجھے جاتے،ان کے مطابق، سنگین مقدمات میں بھی عدالتی کارروائی مکمل ہونے اور بروقت فیصلے نہ آنے سے متاثرہ خاندانوں کا پولیس اور نظامِ انصاف پر اعتماد کم ہوتا ہے،انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پولیس مقابلے کے بارے میں ضلعی پولیس افسر کے ساتھ متعلقہ ریجنل پولیس افسر کو بھی عموماً علم ہوتا ہے، جبکہ ہر مقابلے کی عدالتی تحقیقات نہیں ہوتیں
پنجاب میں موجودہ صورتِ حال پر انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی فروری 2026 میں جاری ہونے والی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ نے ان خدشات کو مزید اہمیت دی ہے،رپورٹ کے مطابق، اپریل سے دسمبر 2025 کے دوران پریس رپورٹس کی بنیاد پر سی سی ڈی کے کم از کم 670 پولیس مقابلے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 924 مشتبہ افراد مارے گئے،کمیشن نے مختلف اضلاع میں پولیس کی کارروائیوں کی یکساں تفصیلات، ہلاکتوں کی غیر معمولی تعداد اور پولیس اہلکاروں کے مقابلے میں مشتبہ افراد کی کہیں زیادہ اموات کو ایک ایسے طرزِ عمل کی علامت قرار دیا جس کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں
کمیشن نے پولیس مقابلوں کے بعد درج ہونے والی متعدد ایف آئی آرز اور پولیس کے بیانات میں بھی غیر معمولی مماثلت کی نشاندہی کی،ان بیانات میں عموماً یہی مؤقف سامنے آتا ہے کہ مشتبہ افراد نے پہلے فائرنگ کی اور پولیس نے جوابی کارروائی میں انہیں ہلاک کیا،کمیشن کے مطابق، مختلف واقعات اور اضلاع میں بیانات کی یکسانیت نے ان کارروائیوں کے طریقۂ کار پر سوالات پیدا کیے ہیں،رپورٹ میں متاثرہ خاندانوں کی جانب سے پولیس دباؤ اور دھمکیوں کی شکایات کا بھی ذکر کیا گیا ہے
پاکستان پوسٹ یو ایس اے ڈاٹ کام اس معاملے پر پہلے بھی توجہ دلاتا رہا ہے،صحافتی اور سیاسی تجزیوں میں یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ پنجاب میں جرائم کے خلاف سخت کارروائیوں کے نام پر پولیس مقابلوں کو محض چند اہلکاروں کی انفرادی کارروائیوں کے بجائے حکومتی حکمتِ عملی کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے،جبکہ اسلام آباد کے سابق آئ جی نے بھی یہی بات دھرائ ہے پولیس مقابلوں کے پیچھے صرف پولیس کی پالیسی یا مرضی ہی شامل نہیں ہوتی بلکہ حکومت کی رضامندی بھی اس بہیمانہ کام میں شامل ہوتی ہے ، ذرائع سے یہ دعویٰ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ بعض سنگین جرائم کے مشتبہ افراد کے خلاف، جب عدالت میں سزا دلانے کے لیے گواہوں یا قابلِ قبول شہادتوں کی مشکلات پیش آئیں، تو انہیں قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بجائے پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے،اس دعوے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا کسی شخص پر سنگین جرم کا الزام اسے عدالتی فیصلے کے بغیر قتل کرنے کا جواز بن سکتا ہے
قانونی اصول واضح ہے کہ کسی شخص کے خلاف الزام، خواہ وہ قتل یا جنسی زیادتی جیسے سنگین جرم سے متعلق ہو، اسے عدالت میں جرم ثابت ہونے سے پہلے سزا دینے کا اختیار پولیس کو نہیں دیتا،اگر گواہ دستیاب نہ ہوں یا شواہد ناکافی ہوں تو یہ تفتیش اور استغاثہ کے نظام کا مسئلہ ہے، جس کا حل ماورائے عدالت ہلاکت نہیں ہو سکتا،اسی لیے پنجاب میں پولیس مقابلوں کے بارے میں بڑھتے ہوئے عوامی خدشات کا تقاضا ہے کہ ہر ہلاکت کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے
انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس مقابلوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی اعلیٰ سطح پر عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، تمام متعلقہ واقعات کی آزادانہ تفتیش ہو اور قانونی تحفظات و مؤثر نگرانی کا نظام قائم ہونے تک پولیس مقابلوں پر صوبائی سطح پر پابندی عائد کی جائے،کمیشن کے مطابق، جرائم پر قابو پانے کے لیے مؤثر تفتیش، سائنسی شواہد، بہتر استغاثہ اور بروقت عدالتی فیصلوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے،کسی بھی حکومت کی ذمہ داری صرف جرائم کی شرح کم کرنا نہیں بلکہ شہریوں کے حقِ زندگی اور قانون کے تحت منصفانہ سماعت کے حق کا تحفظ بھی ہے






