Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایران پر نئے حملوں کے خلاف آٹھ ممالک کا انتباہ، امریکہ اور اسرائیل سے سفارت کاری کا راستہ اپنانے کا مطالبہ

ایران پر نئے حملوں کے خلاف آٹھ ممالک کا انتباہ، امریکہ اور اسرائیل سے سفارت کاری کا راستہ اپنانے کا مطالبہ
استنبول: استنبول اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی جنگ پھیلنے اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ، ترکیہ کا کہنا ہے کہ ایران میں فوجی مداخلت کسی مسئلے کا حل نہیں
دی گارڈین کے مطابق، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ ایران پر نئے حملے نہ کریں،وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے سے پورا خطہ مزید تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے
جمعہ 23 اکتوبر 2026 کو استنبول میں ہونے والے اجلاس میں شریک ممالک نے مشرق وسطیٰ کے بحران کا سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا،یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کے امکانات پر بحث جاری ہے
اجلاس کے مشترکہ منتظم اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ ایران میں فوجی مداخلت کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،ان کے مطابق، شرکا اس بات پر متفق ہیں کہ ایران پر نیا فوجی حملہ جنگ اور علاقائی تنازعہ کو مزید پھیلا دے گا،انہوں نے کہا کہ اجلاس میں شریک کوئی بھی ملک جنگ کو دوبارہ وسعت دینے کا خواہش مند نہیں
رپورٹ کے مطابق، اس اجلاس کے ذریعے ایک کثیرملکی جنگ مخالف سفارتی اتحاد ابھرنے کا اشارہ ملا ہے، جو خطے میں مزید فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے
اجلاس میں وزرائے خارجہ نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے فوری طور پر بند کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ بھی کیا،آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، اس لیے وہاں جاری رکاوٹوں اور خطے میں ممکنہ نئی جنگ کے باعث توانائی کی عالمی منڈیوں پر دباؤ بڑھا ہے

قومی خبریں سے مزید