انتخابات قریب آتے ہی ڈیزل کی قیمتوں میں ریلیف دینے کی ٹرمپ کی کوششیں مہنگی پڑنے لگیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کسانوں کے لیے 8 ارب ڈالر کی امداد، ٹرک ڈرائیوروں کے لیے قواعد میں نرمی، روسی ایندھن پر پابندیوں میں رعایت اور یورپی اتحادیوں پر ہنگامی ذخائر جاری کرنے کے لیے دباؤ سمیت متعدد اقدامات کیے ہیں، لیکن ڈیزل کی قیمتوں میں کمی نہیں آ سکی،
رائٹرز کے مطابق، گزشتہ ہفتے امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت تقریباً 10 سینٹ فی گیلن بڑھ کر 6.28 ڈالر ہو گئی،اس اضافے نے دو ہفتوں سے جاری قیمتوں میں کمی کا رجحان ختم کر دیا اور قیمتیں ریکارڈ سطح کے قریب برقرار رہیں
نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے،مہنگائی اور روزمرہ اخراجات ووٹروں کی اہم تشویش ہیں،اکتوبر میں رائٹرز اور اِپسوس کے ایک سروے کے مطابق، تقریباً 80 فیصد امریکیوں نے بڑھتے ہوئے اخراجات کا ذمہ دار ٹرمپ کو قرار دیا
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کسانوں کے لیے 8 ارب ڈالر کی امداد کے اعلان کے بعد زرعی امداد کی مجموعی رقم ریکارڈ 55.4 ارب ڈالر تک پہنچنے کا ذکر بھی رپورٹ میں کیا گیا ہے،تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق وسط مدتی انتخابات سے پہلے ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے امکانات محدود ہیں،
رپورٹ میں روسی ایندھن سے متعلق معاہدے پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ اس سے ماسکو کو فائدہ پہنچنے کا خطرہ ہے، جبکہ امریکہ کو اس کے بدلے خاطر خواہ فائدہ ملنے کے امکانات واضح نہیں





