Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پولینڈ میں اسقاط حمل کے حق میں ہزاروں خواتین سڑکوں پر نکل آئیں، حکومت سے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ

پولینڈ میں اسقاط حمل کے حق میں ہزاروں خواتین سڑکوں پر نکل آئیں، حکومت سے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ

یورپی ملک پولینڈ میں اسقاط حمل کے قانونی حق اور مفت طبی سہولتوں کی فراہمی کے مطالبے پر ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔ 22 اکتوبر 2026 کو ہونے والے مظاہرے دارالحکومت وارسا سمیت ملک کے 20 سے زیادہ شہروں میں منعقد ہوئے مظاہرین نے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک کی حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے خواتین کے تولیدی حقوق سے متعلق انتخابی وعدے پورے نہیں کیے اور اسقاط حمل کے سخت قوانین میں نرمی لانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے
وارسا میں شدید بارش کے باوجود مظاہرین پارلیمان کے باہر جمع ہوئے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین کو محفوظ، قانونی اور مفت اسقاط حمل کی سہولت حاصل ہونی چاہیے مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اصلاحات کے اعلانات کے باوجود عملی صورت حال میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی
پولینڈ میں اسقاط حمل کے قوانین 1993 سے سخت ہیں موجودہ قانونی نظام کے تحت حمل ختم کرنے کی اجازت محدود حالات میں دی جاتی ہے، جن میں خاتون کی زندگی یا صحت کو خطرہ لاحق ہونا یا حمل کا ریپ یا محرم رشتے میں جنسی زیادتی کے نتیجے میں ٹھہرنا شامل ہے۔ 2020 میں آئینی عدالت کے ایک فیصلے نے جنین میں شدید اور ناقابل علاج نقائص کی بنیاد پر اسقاط حمل کی اجازت بھی ختم کر دی، جس کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا۔ 
وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک کی جماعت نے 2023 کے انتخابات سے قبل اسقاط حمل کے قوانین میں نرمی اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا ان کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی اس معاملے پر حکمران اتحاد کے اندر اختلافات اور قدامت پسند حلقوں کی مخالفت کے باعث قانون سازی آگے نہیں بڑھ سکی
20 اکتوبر کو پارلیمان کے ایوان زیریں نے 2 قانونی مسودے منظور کیے جن کا مقصد اسقاط حمل سے متعلق بعض پابندیوں میں نرمی کرنا تھا ایک مسودے میں اسقاط حمل میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے فوجداری سزا محدود کرنے اور طبی عملے کو بعض حالات میں قانونی تحفظ دینے کی تجویز شامل ہے، جبکہ دوسرے مسودے میں جنین میں شدید نقائص کی صورت میں اسقاط حمل کی اجازت بحال کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاہم، ان تجاویز کو قانون بننے کے لیے مزید مراحل سے گزرنا ہے اور قدامت پسند صدر کارول ناوروکی کی جانب سے انہیں مسترد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے پارلیمان کے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ تبدیلیاں اسقاط حمل کے مکمل قانونی حق کی ضمانت نہیں دیتیں اور بیشتر خواتین کو اب بھی قانونی پابندیوں اور طبی سہولتوں تک رسائی کی مشکلات کا سامنا رہے گا
پولینڈ میں سخت قوانین کے باوجود اسقاط حمل کے واقعات ہوتے ہیں، لیکن خواتین کی بڑی تعداد گولیوں کے ذریعے اپنے گھروں میں حمل ختم کرتی ہے۔ یہ ادویات اکثر بیرون ملک سے حاصل کی جاتی ہیں قانون کے تحت اسقاط حمل کروانے والی خواتین کو عموماً فوجداری سزا نہیں دی جاتی، تاہم ان کی مدد کرنے والے افراد، بشمول بعض طبی کارکنوں اور اہل خانہ، کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے 6 ماہ میں پولینڈ کے اسپتالوں میں 573 اسقاط حمل کیے گئے، جبکہ 2022 کے پورے سال میں یہ تعداد 452 تھی تاہم، حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ بہت سے واقعات اسپتالوں سے باہر پیش آتے ہیں
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ سخت قوانین خواتین کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کرتے ہیں اور بعض اوقات انہیں محفوظ طبی مدد حاصل کرنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے دوسری جانب اسقاط حمل کی پابندیوں کے حامی حلقے جنین کے تحفظ اور اخلاقی و مذہبی بنیادوں پر موجودہ قوانین کی حمایت کرتے ہیں
پولینڈ میں جاری احتجاج نے ایک مرتبہ پھر یہ بحث نمایاں کر دی ہے کہ خواتین کی صحت، ذاتی فیصلوں کے حق، مذہبی اقدار اور ریاستی قانون کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے فی الحال پارلیمان میں منظور ہونے والی تجاویز کے مستقبل کا انحصار آئندہ قانون سازی اور صدر کے فیصلے پر ہے، جبکہ مظاہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ انتخابی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرے

قومی خبریں سے مزید