Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کراچی میں سڑک کی تعمیر پر ریلوے اور بلدیہ آمنے سامنے، دوسرے شہروں سے مسلح نفری طلب

کراچی میں سڑک کی تعمیر پر ریلوے اور بلدیہ آمنے سامنے، دوسرے شہروں سے مسلح نفری طلب

کراچی میں پاکستان ریلوے اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے درمیان سڑک کی تعمیر پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے ریلوے حکام نے دوسرے شہروں سے مسلح نفری طلب کر لی ہے، جبکہ دونوں اداروں کے درمیان جھڑپ، ایک دوسرے کے خلاف مقدمات اور سرکاری اہلکاروں کی گرفتاریوں نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے تنازع کے باعث کراچی میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لیے بنائی جانے والی ایک اہم سڑک کا منصوبہ بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے
تنازع کا مرکز ناتھا خان پل سے پہلوان گوٹھ اور حبیب یونیورسٹی تک زیر تعمیر دو رویہ سڑک ہے، جو چکور نالے کے ساتھ بنائی جا رہی ہے تقریباً 78 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے اس منصوبے کا مقصد شاہراہ فیصل، راشد منہاس روڈ، ڈالمیا روڈ اور گلستان جوہر کے اطراف ٹریفک کا دباؤ کم کرنا ہے منصوبے کی تکمیل کی مقررہ تاریخ 30 اکتوبر تھی، لیکن تعمیراتی کام پر اعتراضات اور دونوں اداروں کے درمیان تصادم نے اس کی تکمیل کے بارے میں سوالات پیدا کر دیے ہیں
پاکستان ریلوے کا مؤقف ہے کہ سڑک کراچی سرکلر ریلوے کی زمین پر تعمیر کی جا رہی ہے اور اس کے لیے ضروری اجازت حاصل نہیں کی گئی ریلوے حکام کے مطابق متعلقہ زمین ان کے ادارے کی ملکیت ہے اور وہاں تعمیراتی سرگرمیاں روکنے کے لیے پہلے بھی اعتراضات اٹھائے گئے تھے ان کا کہنا ہے کہ ریلوے کی املاک کے تحفظ کے لیے کارروائی کرنا ان کی ذمہ داری ہے
دوسری جانب کے ایم سی کا کہنا ہے کہ منصوبہ شروع کرنے سے پہلے قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے اور تعمیراتی کام کئی ہفتوں سے جاری تھا بلدیہ کے حکام نے سوال اٹھایا ہے کہ جب منصوبے پر کام پہلے سے جاری تھا تو ریلوے نے آخری مرحلے میں اعتراض کیوں کیا ان کے مطابق سڑک شہریوں کو ٹریفک کی مشکلات سے نجات دلانے کے لیے بنائی جا رہی ہے اور اس میں غیر ضروری رکاوٹیں کراچی کے عوام کے مفاد کے خلاف ہوں گی
تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب 18 اکتوبر کو ریلوے پولیس نے تعمیراتی مقام پر پہنچ کر کام رکوا دیا اس کے بعد کے ایم سی کے سٹی وارڈنز کے ڈائریکٹر سائم عمران خان بھی نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ دونوں جانب کے اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئی کے ایم سی کے مطابق ریلوے پولیس نے سائم عمران کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اپنے ساتھ لے گئی ریلوے حکام نے دوسری جانب الزام لگایا کہ کے ایم سی کے اہلکاروں نے ان کے افسران کو دھمکیاں دیں اور سرکاری کام میں مداخلت کی دونوں جانب کے الزامات کی حتمی تصدیق عدالتی اور تفتیشی کارروائی سے ہونا باقی ہے
واقعے کے بعد دونوں اداروں نے ایک دوسرے کے اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کرا دیے۔ کے ایم سی کے سٹی وارڈنز ڈائریکٹر کی شکایت پر ریلوے پولیس کے افسران کے خلاف مبینہ اغوا، تشدد اور غیر قانونی حراست کا مقدمہ درج ہوا دوسری جانب ریلوے پولیس نے کے ایم سی کے اہلکاروں کے خلاف ہنگامہ آرائی، سرکاری کام میں مداخلت، دھمکیوں اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا مقدمات میں درج الزامات ابھی الزامات ہی ہیں، ان کا فیصلہ متعلقہ عدالتوں میں ہونا ہے
اس دوران پولیس کی مختلف ٹیموں نے ایک دوسرے کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی بھی کی اطلاعات کے مطابق شاہراہ فیصل پولیس نے ریلوے کے 2 ملازمین کو حراست میں لیا، جبکہ ریلوے پولیس نے جھگڑے کے بعد شاہراہ فیصل پولیس کے ایک اہلکار کو بھی روک لیا اس واقعے نے دو سرکاری اداروں کے درمیان انتظامی اختلاف کو پولیس کی سطح پر تصادم میں تبدیل کر دیا
تنازع کے دوران پاکستان ریلوے کے دفاتر اور ایک اعلیٰ ریلوے افسر کی رہائش گاہ کے باہر کچرا پھینکے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے ریلوے حکام نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ کارروائی تنازع کے ردعمل میں کی گئی، تاہم اس الزام کی تصدیق کے لیے کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا
کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے تعمیراتی مقام کا دورہ کرتے ہوئے ترقیاتی کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ان کا کہنا تھا کہ شہر کی ترقی اور عوامی سہولتوں کے منصوبے رکاوٹوں کے باوجود جاری رہنے چاہییں دوسری جانب ریلوے حکام نے زمین کی ملکیت اور اجازت نامے کے معاملے کو بنیادی تنازع قرار دیا ہے
اس معاملے میں اصل سوال یہ ہے کہ اگر زمین کی ملکیت اور تعمیراتی اجازت سے متعلق اختلاف موجود تھا تو اسے پہلے انتظامی اور قانونی طریقے سے کیوں حل نہیں کیا گیا شہری ترقی کے منصوبوں میں متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے اور واضح اجازت ناموں کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ تنازعات کی قیمت بالآخر عام شہریوں کو ٹریفک کی مشکلات، تاخیر اور سرکاری وسائل کے ضیاع کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے
اب اس تنازع کا حل زمین کی ملکیت، تعمیراتی اجازت اور دونوں جانب سے لگائے گئے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات سے جڑا ہے اگر اداروں کے درمیان اختلاف جلد حل نہ ہوا تو کراچی کے شہریوں کو ٹریفک سے ممکنہ ریلیف دینے والا یہ منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل کرنا مشکل ہو سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید