سعودی عرب پر ڈرون حملوں میں تیزی، فضائی دفاع نے مزید ڈرون مار گرائے، تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کی سلامتی خطرے میں
سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے دوران سعودی فضائی دفاع نے مملکت کی جانب آنے والے مزید ڈرون تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد خطے میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں اور مختلف ممالک سعودی عرب کے دفاع میں تعاون بڑھانے پر غور کر رہے ہیں
سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق 21 اکتوبر کو سعودی عرب کی جانب بھیجے گئے 4 ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا اس کے علاوہ مشرقی صوبے میں ایک اور ڈرون کو بھی فضائی دفاع نے نشانہ بنایا بعد کی اطلاعات میں مختلف علاقوں میں مزید ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں کا ذکر کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکام مسلسل فضائی خطرات سے نمٹ رہے ہیں
سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں ڈرون حملوں کی اطلاعات خاص طور پر اہم ہیں، کیونکہ اس علاقے میں تیل کی پیداوار اور توانائی کی تنصیبات موجود ہیں دمام کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 8 زخمی ہوئے، جبکہ ہوائی اڈے کو نقصان پہنچنے کے باعث پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا۔ حکام نے اس حملے کے ذمہ دار کی باضابطہ تصدیق نہیں کی
اسی دوران سعودی وزارت توانائی کے مطابق شیبہ آئل فیلڈ میں آرامکو کی تنصیب کو نشانہ بنانے والے ڈرون کو روکنے کے بعد اس کا ملبہ گرنے سے 2 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ یہ واقعات سعودی عرب کے لیے اس لیے بھی تشویش ناک ہیں کہ تیل کی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان نہ صرف ملکی معیشت بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی اور تیل کی منڈیوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے
تاہم حوثی گروپ نے سعودی قیادت میں اتحاد کی جانب سے مدینہ منورہ اور مشرقی صوبے کی طرف ڈرون بھیجے جانے کے الزامات کی تردید کی ہے حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان کی تنظیم نے سعودی عرب کی جانب ڈرون حملے نہیں کیے اور نہ ہی اس روز مملکت کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کی اس لیے ڈرون حملوں کی ذمہ داری کے معاملے پر سعودی اتحاد اور حوثیوں کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں
یمن میں جاری جنگ کا پس منظر بھی موجودہ کشیدگی کو سمجھنے کے لیے اہم ہے حوثی گروپ نے 2014 میں دارالحکومت صنعاء سمیت کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی اتحاد کی قیادت شروع کی۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد سرحد پار حملوں میں نمایاں کمی آئی تھی، لیکن حالیہ ہفتوں میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے اس کے نتیجے میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، توانائی کے مراکز اور دیگر اہم تنصیبات کی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں
کشیدگی کے باعث سعودی عرب کو بیرونی دفاعی تعاون بھی بڑھانا پڑ رہا ہے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ریاض کے دورے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع کی اہم تیل تنصیب کے تحفظ کے لیے فرانسیسی فوجی اہلکاروں اور دفاعی صلاحیتوں کی تعیناتی کی تصدیق کی برطانیہ اور دیگر اتحادیوں کی جانب سے بھی دفاعی معاونت بڑھانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ 
حالیہ حملوں کے باعث فضائی سفر بھی متاثر ہوا ہے ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کے بعد محدود ملکی پروازیں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی، تاہم بین الاقوامی پروازوں میں خلل برقرار رہا سعودی عرب نے امریکی سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کی روانگی کے امریکی فیصلے کے بعد بھی سکیورٹی صورت حال پر توجہ بڑھا دی ہے
موجودہ صورت حال میں سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ وسیع علاقائی تنازع میں تبدیل نہ ہو جائے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈے عالمی معیشت اور سفر کے لیے اہم ہیں، جبکہ یمن پہلے ہی طویل جنگ اور انسانی بحران سے متاثر ہے اگر حملوں میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات توانائی کی فراہمی، فضائی آمدورفت، علاقائی سلامتی اور یمن میں امن کی کوششوں پر پڑ سکتے ہیں






