Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

واشنگٹن: پاکستانی سفارت خانے میں آئ ٹی کانفرنس ، امریکی آئی ٹی مارکیٹ میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے مواقع کی تلاش ، بھارتی کمپنیوں سے مقابلے کا چیلنج،

واشنگٹن: پاکستانی سفارت خانے میں آئ ٹی کانفرنس ، امریکی آئی ٹی مارکیٹ میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے مواقع کی تلاش ، بھارتی کمپنیوں سے مقابلے کا چیلنج،
واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں 21 اکتوبر بدھ کو ایک آی ٹی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں پاک امریکہ سے تعلق رکھنے والی آئ ٹی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی ، سفارت خانے میں ہونے والی پاک امریکہ ٹیکنالوجی کانفرنس کا بنیادی مقصد بڑے سرمایہ کاری کے فوری معاہدوں کے بجائے امریکی کمپنیوں اور پاکستانی آئی ٹی اداروں کے درمیان کاروباری رابطے بڑھانا، پاکستان سے ٹیکنالوجی کی خدمات حاصل کرنے کے امکانات تلاش کرنا اور امریکی مارکیٹ میں پاکستانی کمپنیوں کی رسائی بڑھانا تھا،اس نشست میں گفتگو کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ امریکی ادارے اپنے آئی ٹی منصوبوں پر اخراجات کیسے کم کر سکتے ہیں اور پاکستانی کمپنیاں معیار برقرار رکھتے ہوئے انہیں نسبتاً کم قیمت پر خدمات کیسے فراہم کر سکتی ہیں
اس پروگرام میں پاکستان کی جانب سے تقریباً 12 سے 14 ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں نے حصہ لیا، جبکہ امریکی کمپنیوں کے لگ بھگ 8 سے 12 نمائندے بھی شریک تھے،کانفرنس میں تقریباً 100 افراد موجود تھے، جن میں اکثریت آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے وابستہ افراد کی تھی،امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے ایک سینئر نائب صدر مسٹر صفیان کی شرکت بھی اس نشست کا اہم پہلو تھی،جو کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں اور ورجینیا میں مقیم ہیں
یہ کانفرنس ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی کمپنیوں کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہنرمند افرادی قوت، خدمات کی بڑھتی ہوئی لاگت اور عالمی سطح پر مسابقت جیسے مسائل کا سامنا ہے،دوسری طرف، ویزا پالیسیوں اور بیرون ملک سے افرادی قوت حاصل کرنے میں سختیوں کے باعث بعض اداروں کے لیے روایتی طریقوں سے ماہرین بھرتی کرنا زیادہ مشکل یا مہنگا ہو سکتا ہے،ایسے حالات میں کمپنیوں کے لیے ایک متبادل یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بعض تکنیکی کام امریکہ سے باہر موجود ماہرین اور اداروں سے کروائیں،پاکستان اسی ممکنہ کاروباری گنجائش سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے
کانفرنس میں دی گئی ایک مثال نے پاکستان میں آئی ٹی خدمات کی لاگت اور امریکی مارکیٹ میں موجود کاروباری امکانات کے فرق کو نمایاں کیا،ایک امریکی کمپنی کی نمائندہ نے بتایا کہ پہلے ان کی کمپنی ایک مخصوص کام پر امریکہ میں تقریباً 50 لاکھ ڈالر خرچ کرتی تھی، لیکن گزشتہ چار برس سے وہی کام پاکستان سے کروایا جا رہا ہے اور اس پر لاگت کم ہو کر تقریباً 5 لاکھ ڈالر رہ گئی ہے،یہ مثال کانفرنس میں بیان کردہ ایک کمپنی کے تجربے کی عکاسی کرتی ہے، اسے پوری پاکستانی آئی ٹی صنعت کی اوسط لاگت نہیں سمجھا جا سکتا،تاہم، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر پاکستانی ادارے مطلوبہ معیار، وقت کی پابندی اور قابل اعتماد خدمات فراہم کریں تو امریکی کاروبار کے لیے لاگت میں نمایاں بچت کا امکان پیدا ہو سکتا ہے
پاکستانی آئی ٹی شعبے کے لیے اصل چیلنج صرف بھارت سے کم قیمت پر کام کرنے کی پیشکش کرنا نہیں، بلکہ عالمی معیار کی خدمات فراہم کرتے ہوئے طویل مدتی کاروباری تعلقات قائم کرنا ہے،کانفرنس میں شریک ایک پاکستانی آئی ٹی ماہر کے مطابق پاکستان بنگلورو کی بڑی ٹیکنالوجی صنعت کا براہ راست مقابلہ آسانی سے نہیں کر سکتا، لیکن بعض خدمات کم قیمت اور صلاحیت پیدا کر کے امریکی کمپنیوں سے کاروبار حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے،یہ حکمت عملی سافٹ ویئر کی تیاری، کاروباری نظاموں کی دیکھ بھال، ڈیٹا انجینئرنگ، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ سروسز، مصنوعی ذہانت کے اطلاق اور صحت کے شعبے سے متعلق ٹیکنالوجی میں مواقع پیدا کر سکتی ہے
پاکستان کے لیے یہ امکانات محض نظری نہیں ہیں،پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ، یعنی جولائی سے مارچ کے دوران، ملک کی انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی خدمات کی برآمدات 19.7 فیصد اضافے کے ساتھ 3.38 ارب ڈالر تک پہنچیں، جبکہ ٹیکنالوجی سے متعلق آزاد پیشہ ورانہ خدمات کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا،یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستانی آئی ٹی شعبہ پہلے ہی عالمی منڈی سے آمدنی حاصل کر رہا ہے، لیکن اگلا مرحلہ کم قیمت پر خدمات فراہم کرنے سے آگے بڑھ کر زیادہ پیچیدہ اور زیادہ قدر رکھنے والے منصوبوں میں حصہ حاصل کرنا ہے
امریکہ کی ویزا پالیسی میں سختیوں نے بھی اس کاروباری بحث کو اہم بنا دیا ہے،امریکی انتظامیہ نے ستمبر 2025 میں بعض نئے ایچ ون بی درخواستوں کے تحت امریکہ آنے والے کارکنوں کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی سے متعلق پابندی متعارف کرائی تھی، اور ستمبر 2026 میں اس پابندی میں مزید 12 ماہ کی توسیع کی گئی،اس اقدام کا اطلاق مخصوص درخواستوں اور شرائط پر ہے، ہر غیر ملکی کارکن یا ہر ٹیکنالوجی کمپنی پر یکساں طور پر نہیں،اس کے باوجود امریکی اداروں کے لیے بعض کام بیرون ملک موجود ماہرین سے کروانے کا کاروباری جواز بڑھ سکتا ہے، خصوصاً جب انہیں لاگت کم کرنے اور مطلوبہ مہارت تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت ہو
پاکستان کی ایک ممکنہ برتری یہ ہے کہ اس کے پاس نوجوانوں کی بڑی تعداد، مختلف جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والے ٹیکنالوجی کے طلبہ اور پہلے سے بین الاقوامی صارفین کے لیے کام کرنے والے فری لانسرز موجود ہیں،امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد کاروباری افراد اس سلسلے میں ایک اہم پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں،وہ امریکی کمپنیوں کی ضروریات سمجھتے ہیں، مقامی کاروباری ماحول سے واقف ہیں اور پاکستان میں اپنی ٹیموں یا شراکت دار اداروں کے ذریعے کام کروانے کے امکانات رکھتے ہیں،واشنگٹن کی کانفرنس میں پاکستانی اور امریکی کمپنیوں کے نمائندوں کے درمیان براہ راست رابطے اسی نوعیت کے کاروباری تعلقات کی بنیاد بن سکتے ہیں،
تاہم پاکستان کی آئی ٹی صنعت کے سامنے کئی بنیادی رکاوٹیں بھی ہیں،پاکستان بزنس کونسل کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق مالی سال 2025 میں ملک کی تقریباً فیصد کو اضافی تربیت کے بغیر فوری طور پر ملازمت کے لیے تیار سمجھا جاتا ہے،تحقیق میں ابلاغی صلاحیتوں، پیشہ ورانہ مہارت، کاروباری سطح پر خدمات کی فراہمی اور پالیسی و بنیادی ڈھانچے کے مسائل کی نشاندہی بھی کی گئی ہے،اس کا مطلب ہے کہ صرف ڈگریاں حاصل کرنے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں، جامعات کے نصاب کو صنعت کی ضروریات سے جوڑنا اور طلبہ کو حقیقی منصوبوں پر کام کرنے کا تجربہ دینا بھی ضروری ہے
اسی طرح بجلی اور انٹرنیٹ کی قابل اعتماد فراہمی، ڈیٹا کے تحفظ، سائبر سکیورٹی، معاہدوں پر عمل درآمد، ادائیگیوں کی سہولت اور ٹیکس پالیسی میں تسلسل جیسے معاملات امریکی صارفین کے اعتماد کے لیے اہم ہیں،بڑی امریکی کمپنیوں کو صرف سستی خدمات درکار نہیں ہوتیں، انہیں یہ یقین بھی چاہیے کہ ان کا حساس ڈیٹا محفوظ رہے گا، منصوبہ طے شدہ وقت میں مکمل ہوگا، معیار برقرار رہے گا اور مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں ذمہ داری واضح ہوگی،پاکستان اگر ان پہلوؤں پر بہتری لاتا ہے تو اس کے لیے کم قیمت پر کام حاصل کرنے کے علاوہ طویل مدتی اور زیادہ منافع بخش معاہدوں کے مواقع بھی بڑھ سکتے ہیں
پاکستان کے لیے ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ کم قیمت کی بنیاد پر کاروبار حاصل کرنے کی حکمت عملی کی اپنی حدود ہیں،اگر پاکستانی ادارے صرف سستا کام فراہم کرنے تک محدود رہے تو انہیں دوسرے ممالک کی کمپنیوں اور مصنوعی ذہانت کے باعث خودکار ہونے والی خدمات سے مسلسل مقابلہ کرنا پڑے گا،اس کے برعکس، مصنوعی ذہانت پر مبنی حل، پیچیدہ سافٹ ویئر، مالیاتی ٹیکنالوجی، صحت کے نظام، ڈیٹا کے تجزیے اور سائبر سکیورٹی جیسی خدمات میں مہارت پیدا کرنے سے پاکستانی کمپنیاں زیادہ مستقل کاروباری مقام حاصل کر سکتی ہیں،اس کے لیے تربیت، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور امریکی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کی ضرورت ہوگی
واشنگٹن میں ہونے والی یہ نشست پاکستان کے لیے امریکی آئی ٹی مارکیٹ کے دروازے کھولنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے، نہ کہ اسے کسی بڑے سرمایہ کاری معاہدے یا فوری سرمایہ کاری کی آمد کا ثبوت قرار دیا جا سکتا ہے،اس کی حقیقی کامیابی کا اندازہ اس وقت ہوگا جب ان رابطوں کے نتیجے میں عملی معاہدے ہوں، پاکستانی اداروں کو نئے منصوبے ملیں، برآمدات میں اضافہ ہو اور ملک کے نوجوانوں کے لیے معیاری روزگار کے مواقع پیدا ہوں،پاکستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ وہ بھارت سے کتنی سستی خدمات دے سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ امریکی کمپنیوں کو ایسی مہارت، معیار اور اعتماد کتنی مؤثر انداز میں فراہم کر سکتا ہے جس کے لیے وہ طویل عرصے تک پاکستانی اداروں کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں، یہاں یہ بھی واضع رہے پاکستانی سفارت خانے میں پاکستانی آئ ٹی انڈسٹری کی نمائندگی کرنے والی کمپنیوں کی اکثریت کے مالکان بھی امریکن پاکستانی ہی بتائے جاتے ہیں جنکی کمپنیوں کے مرکزی دفاتر امریکہ میں قائم ہیں تاہم آئ ٹی مصنوعات کے پیداواری دفاتر پاکستان میں قائم ہیں ، پاکستانی سفارت خانہ ایسی ہی کانفرنس سلیکان ویلی اور ڈیلس میں بھی منعقد کرچکا ہے جبکہ ایسی ہی ایک کانفرنس شکاگو میں بھی منعقد کی جائے گی، اور اس تمام جدوجہد کا مقصد امریکی آئ ٹی کمپنیوں کو پاکستان کی آئ ٹی انڈسٹری سے متعارف کروانا اور ایک دوسرے کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے آئ ٹی کے میدان میں کاروبار کو فروغ دینا ہے

قومی خبریں سے مزید