پاکستان میں غربت 25.3 فیصد تک پہنچ گئی، معاشی ترقی کے لیے سولر توانائی اور مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر زور
پاکستان میں معاشی استحکام کے باوجود غربت میں اضافے نے موجودہ معاشی پالیسیوں کی افادیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں ماہرین کے مطابق ملک کو محض مہنگائی اور مالیاتی خسارے پر قابو پانے تک محدود رہنے کے بجائے ایسی معاشی حکمت عملی اپنانا ہوگی جو روزگار، پیداواری صلاحیت، مقامی سرمایہ کاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے تحفظ کو ایک ساتھ آگے بڑھائے
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں قومی پیمانے پر غربت کی شرح بڑھ کر 25.3 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ عالمی بینک کے یومیہ 4.20 ڈالر کے نئے معیار کے تحت ملک کی تقریباً 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے آتی ہے یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صرف معاشی استحکام حاصل کر لینا عام شہریوں کے معیار زندگی میں بہتری کی ضمانت نہیں اگر معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں عوام کی آمدن، روزگار اور بنیادی سہولتوں تک رسائی بہتر نہ ہو تو غربت کا مسئلہ برقرار رہتا ہے
اسلام آباد میں غربت کے خاتمے، معاشی خودمختاری اور پائیدار ترقی سے متعلق ایک کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے شہریوں کی اپنی سرمایہ کاری اور مقامی سطح پر ہونے والی معاشی سرگرمیوں کو اہمیت دینا ضروری ہے ماہرین کے مطابق کسانوں، دکانداروں اور گھریلو صارفین نے گزشتہ برسوں میں اپنی بچت سے ایسے اقدامات کیے ہیں جو حکومتی منصوبہ بندی میں مرکزی حیثیت نہیں رکھتے تھے، لیکن ان سے توانائی کے اخراجات کم کرنے اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے
اس کی ایک نمایاں مثال سولر پینلز کا استعمال ہے پاکستان میں کسانوں، دکانداروں اور گھریلو صارفین نے 2024 میں تقریباً 17 گیگاواٹ کے سولر پینلز درآمد کیے اور 2025 میں بھی اتنی ہی مقدار درآمد کی یہ سرمایہ کاری کسی بڑے سرکاری ترقیاتی منصوبے یا بیرونی امداد کے تحت نہیں ہوئی، بلکہ لوگوں نے بجلی اور ڈیزل کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے بچنے کے لیے اپنی رقم خرچ کی
یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ جب روایتی توانائی مہنگی ہو جائے اور سرکاری سبسڈی میں کمی آئے تو لوگ متبادل ذرائع اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم سولر توانائی کے فروغ کے بعد درآمدی پینلز پر ٹیکس عائد کرنے اور نیٹ میٹرنگ کے قواعد میں تبدیلیوں نے ان صارفین کے لیے نئی غیر یقینی صورت حال پیدا کی۔ نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر صارفین اپنی اضافی بجلی قومی نظام کو فراہم کرکے مالی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں، اس لیے قواعد میں تبدیلی سرمایہ کاری کی لاگت اور مستقبل میں حاصل ہونے والے فائدے دونوں کو متاثر کرتی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہ طے کرنا چاہیے کہ وہ شہریوں کی اپنی سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنا چاہتی ہے یا ایسی پالیسیوں کے ذریعے اس کی رفتار کم کرے گی طویل عرصے تک جاری رہنے والی غیر مؤثر سبسڈیاں مالیاتی دباؤ بڑھا سکتی ہیں، لیکن متبادل توانائی اختیار کرنے والوں کے لیے اچانک ٹیکس اور غیر واضح قواعد بھی معاشی ترقی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی پالیسی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے اور قوانین میں تبدیلی شفاف، قابل پیش گوئی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے مطابق ہو
پاکستان کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے نقصانات ہیں سیلاب، شدید گرمی اور خشک سالی نہ صرف انسانی زندگی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ زرعی پیداوار، سڑکوں، آبپاشی کے نظام، گھروں اور سرکاری مالی وسائل پر بھی بھاری دباؤ ڈالتے ہیں ہر بڑے سیلاب کے بعد حکومت کو ہنگامی امداد، بحالی اور تعمیر نو کے لیے اضافی رقم درکار ہوتی ہے اکثر یہ اخراجات پہلے سے طے شدہ بجٹ میں شامل نہیں ہوتے، جس کے باعث حکومت کو قرض یا دوسرے مالی وسائل پر انحصار کرنا پڑتا ہے
ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کا اصل بجٹ وہ رقم بھی ہے جو ہر قدرتی آفت کے بعد ہنگامی امداد اور تعمیر نو پر خرچ ہوتی ہے اگر ان نقصانات کا اندازہ پہلے سے لگایا جائے تو حکومت اور صوبے اپنے سالانہ بجٹ میں ممکنہ اخراجات کا حصہ مختص کر سکتے ہیں اس طرح آفت کے بعد اچانک مالی بحران پیدا ہونے کے بجائے پہلے سے تیاری ممکن ہوگی
تجویز دی گئی ہے کہ ہر صوبہ سیلاب، گرمی اور خشک سالی سے ہونے والے اوسط سالانہ نقصان کا تخمینہ لگائے اور بجٹ میں اس کے لیے مناسب رقم رکھے اس طریقے سے موسمیاتی خطرات کو محض ماحولیات کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے مالیاتی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جا سکے گا اس سے حکومت کو یہ فیصلہ کرنے میں بھی مدد ملے گی کہ کن علاقوں میں حفاظتی اقدامات پر پہلے سرمایہ کاری کی جائے تاکہ مستقبل میں زیادہ نقصان سے بچا جا سکے
معاشی ترقی کے لیے پہلے سے موجود بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال کو بھی ترجیح دینے کی ضرورت ہے پاکستان میں بند، نکاسی آب کے نظام، نہریں اور سڑکیں بنانے کے لیے نئے منصوبوں کا اعلان تو کیا جاتا ہے، لیکن ان کی مرمت اور مستقل دیکھ بھال کے لیے مناسب رقم مختص نہ ہونے سے وقت کے ساتھ ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے سیلاب کے دوران کمزور بند اور ناقص نکاسی آب کا نظام بڑے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں
وفاقی ترقیاتی پروگرام میں پہلے سے منظور شدہ مگر مکمل نہ ہونے والے منصوبوں کی مالیت تقریباً 11 کھرب روپے بتائی گئی ہے اس کے باوجود نئے منصوبے شامل کیے جاتے رہتے ہیں، جبکہ پرانے اثاثوں کی دیکھ بھال کے لیے مختص رقم ناکافی رہ سکتی ہے ماہرین کے مطابق ہر سال نئے منصوبے شروع کرنے کے بجائے موجودہ اثاثوں کو محفوظ اور قابل استعمال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کئی صورتوں میں بروقت مرمت پر خرچ ہونے والی رقم مستقبل میں بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے
مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب میں بھی موسمیاتی خطرات کو نظر انداز کرنے کا مسئلہ موجود ہے ارکان پارلیمان کی ترقیاتی اسکیموں کے تحت ٹیوب ویل، رابطہ سڑکیں، نکاسی آب کے راستے اور چھوٹے پل تعمیر کیے جاتے ہیں، لیکن ان میں سے ہر منصوبے کا اس پہلو سے جائزہ نہیں لیا جاتا کہ آیا وہ اگلے مون سون یا سیلاب کو برداشت کر سکے گا یا نہیں اگر منصوبے کی منظوری سے پہلے اس کی موسمیاتی پائیداری جانچی جائے تو سرکاری رقم کے ضیاع اور مستقبل کے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے
ماہرین نے ضلعی سطح پر معاشی منصوبہ بندی کو بھی مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے قومی سطح پر موسمیاتی اہداف عموماً کاربن کے اخراج، توانائی اور دیگر بڑے پیمانوں میں بیان کیے جاتے ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ کو عملی طور پر زمین، ٹیوب ویل، نکاسی آب اور سڑکوں جیسے معاملات دیکھنا ہوتے ہیں اگر قومی اہداف کو مقامی ضرورتوں اور قابل پیمائش کاموں میں تبدیل نہ کیا جائے تو ضلعی سطح پر ان پر عمل درآمد اور کارکردگی کا جائزہ لینا مشکل رہتا ہے
اس مقصد کے لیے ہر ضلع میں مختصر موسمیاتی اور معاشی ترقیاتی منصوبہ تیار کرنے کی تجویز دی گئی ہے ان منصوبوں میں یہ واضح کیا جا سکتا ہے کہ کتنے ایکڑ زمین پر پانی کی بچت والی جدید آبپاشی متعارف کرائی جائے گی، کتنے ٹیوب ویل سولر توانائی پر منتقل ہوں گے اور نکاسی آب کے کتنے کلومیٹر راستوں کی صفائی کی جائے گی۔ جب اہداف واضح اور قابل پیمائش ہوں گے تو مقامی انتظامیہ کی کارکردگی جانچنا بھی آسان ہوگا
ایک اور تجویز یہ ہے کہ ایسے اضلاع کو اضافی مالی وسائل دیے جائیں جو شفاف حساب کتاب اور مالیاتی انتظام کے مقررہ معیار پورے کریں پاکستان کے سیلاب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 اضلاع میں کارکردگی سے منسلک مالی امداد کا تجرباتی پروگرام شروع کیا جا سکتا ہے اس نظام میں مالی وسائل کی فراہمی محض منصوبے پیش کرنے پر نہیں بلکہ مقامی اداروں کی کارکردگی اور طے شدہ شرائط پوری کرنے سے مشروط ہوگی
مقامی حکومتوں کو سرمایہ کاری کے قابل ادارے بنانے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی ہے پاکستان میں بہت سی بلدیاتی اور ضلعی حکومتوں کے پاس اپنے اثاثوں کی مکمل تفصیلات، آڈٹ شدہ حسابات اور آمدن کا ایسا قابل اعتماد ریکارڈ موجود نہیں ہوتا جس کی بنیاد پر وہ قرض حاصل کر سکیں یا بلدیاتی بانڈز جاری کر سکیں اس وجہ سے مقامی ترقیاتی منصوبوں کے لیے بیرونی امداد یا مرکزی حکومت کے وسائل پر انحصار بڑھ جاتا ہے
اس صورت حال میں صوبائی سطح پر مشترکہ مالیاتی نظام قائم کرکے پانی کی فراہمی کے لیے سولر منصوبوں، کچرے کے انتظام اور زرعی پیداوار کو محفوظ رکھنے کے لیے کولڈ اسٹوریج جیسے منصوبوں کے لیے سرمایہ جمع کیا جا سکتا ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہوگا کہ مقامی ادارے اپنے حسابات کا باقاعدہ آڈٹ کرائیں، اپنی آمدن بڑھائیں اور مالیاتی شفافیت یقینی بنائیں سرمایہ کار صرف منصوبوں کے وعدوں پر نہیں بلکہ اداروں کی مالی ساکھ اور کارکردگی کے ریکارڈ پر اعتماد کرتے ہیں
مقامی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ صرف رقم کی کمی نہیں بلکہ اجازت ناموں اور انتظامی کارروائیوں کی پیچیدگیاں بھی ہیں مثال کے طور پر سولر توانائی سے چلنے والے چھوٹے بجلی نظام کے لیے متعلقہ بجلی تقسیم کار ادارے سے رابطے اور نیپرا کے قواعد پر عمل کرنا پڑ سکتا ہے زمین کی بحالی کے منصوبوں کے لیے زمین کے استعمال کی اجازت اور پانی کے منصوبوں کے لیے پانی کے حقوق سے متعلق معاملات طے کرنا ضروری ہوتے ہیں اگر ان اجازتوں کے لیے ایک مربوط ضلعی نظام قائم ہو تو سرمایہ کاروں اور مقامی اداروں کو مختلف محکموں کے چکر لگانے سے بچایا جا سکتا ہے
پاکستان کو معاشی ترقی کے لیے ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں حکومت شہریوں کی اپنی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے، قدرتی آفات کے ممکنہ نقصانات کا پہلے سے تخمینہ لگائے، موجودہ بنیادی ڈھانچے کی مرمت کو ترجیح دے اور مقامی حکومتوں کو مالی طور پر مضبوط بنائے سولر توانائی میں عوامی سرمایہ کاری اس بات کی مثال ہے کہ لوگ اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے خود وسائل خرچ کرنے کو تیار ہیں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر ضروری رکاوٹیں کم کرے، شفاف قواعد بنائے اور ان خطرات سے نمٹنے کی تیاری کرے جنہیں عام شہری یا چھوٹے کاروبار اکیلے برداشت نہیں کر سکتے





