سائبر حملے کے خطرے کے پیش نظر کینیڈا کی سرکاری ویب سائٹس اور ایپس عارضی طور پر بند
کینیڈا میں سائبر سکیورٹی کے سنگین خطرے کے پیش نظر متعدد سرکاری ویب سائٹس اور بعض عوامی خدمات کے آن لائن نظام عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں یہ اقدام ایک معروف پروگرامنگ زبان پی ایچ پی (PHP) میں سامنے آنے والی سنگین خامیوں کو دور کرنے کے لیے کیا گیا، جن کے ذریعے ہیکرز کمپیوٹر نظاموں تک غیر مجاز رسائی حاصل کرکے حساس معلومات کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں دنیا کے کئی دوسرے ممالک اور اداروں نے بھی احتیاطی اقدامات کیے ہیں
وفاقی وزیر برائے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل جدت ایون سولومن نے 21 اکتوبر کو بتایا کہ کینیڈا کی بعض سرکاری ویب سائٹس کو سائبر سکیورٹی حکام کی ہدایت پر عارضی طور پر آف لائن کیا گیا ہے ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد سرکاری نظاموں اور کینیڈین شہریوں کی معلومات کو محفوظ رکھنا ہے متاثرہ ویب سائٹس کو ضروری حفاظتی اپ ڈیٹس مکمل ہونے کے بعد دوبارہ فعال کیا جائے گا
اس خطرے کی بنیادی وجہ پی ایچ پی پروگرامنگ زبان میں سامنے آنے والی خامیاں ہیں یہ زبان دنیا بھر میں ویب سائٹس اور آن لائن ایپلی کیشنز بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے سائبر سکیورٹی کے ماہر ریتیش کوٹک کے مطابق عوام کے لیے دستیاب تقریباً 70 فیصد ایپس اور ویب سائٹس میں پی ایچ پی استعمال ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اس خامی کا ممکنہ دائرہ بہت وسیع ہے اگر ان خامیوں کا بروقت تدارک نہ کیا جائے تو حملہ آور دور بیٹھ کر کسی نظام میں نقصان دہ کوڈ چلا سکتے ہیں اور حساس معلومات یا نیٹ ورک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں
اس حفاظتی خطرے کے باعث مونٹریال کی ٹرانزٹ اتھارٹی نے بھی اپنی ویب سائٹ عارضی طور پر بند کردی تھی اس ویب سائٹ کے ذریعے شہری پبلک ٹرانزٹ کی خدمات اور سفر سے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں بعد ازاں صارفین کو ویب سائٹ کے نئے آزمائشی ورژن کی طرف منتقل کیا گیا تاکہ وہ ٹرانزٹ سروس کی صورت حال سے آگاہ رہ سکیں کیوبک کی شراب فروخت کرنے والی سرکاری کمپنی نے بھی احتیاطی طور پر اپنی ویب سائٹ بند کی، تاہم کمپنی کے مطابق اس کے نظام میں کسی سائبر حملے یا ڈیٹا چوری کا ثبوت نہیں ملا تھا
کینیڈا کی وفاقی حکومت کی بعض ویب سائٹس بھی اس اقدام سے متاثر ہوئیں ان میں شماریات کینیڈا اور پیمائش کینیڈا کی ویب سائٹس بھی شامل تھیں شماریات کینیڈا ملک میں آبادی، روزگار، مہنگائی اور معیشت سے متعلق اہم اعداد و شمار جاری کرتا ہے، جبکہ پیمائش کینیڈا تجارتی پیمائش کے معیارات کی نگرانی کرتا ہے ان خدمات کی عارضی بندش سے متعلقہ معلومات تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے، تاہم حکام نے واضح کیا کہ یہ اقدام احتیاطی نوعیت کا ہے
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر سکیورٹی شعبے نے بھی خبردار کیا کہ اس نوعیت کی خامیاں حملہ آوروں کو متاثرہ نظاموں میں دور سے کوڈ چلانے کا موقع دے سکتی ہیں اس سے حساس معلومات، اداروں کے اندرونی نیٹ ورکس اور اہم ڈیجیٹل خدمات کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اسی لیے اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے نظاموں کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کریں یا ضرورت پڑنے پر عارضی طور پر آف لائن کردیں
پی ایچ پی کے ڈویلپرز نے ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے حفاظتی اپ ڈیٹس جاری کردیں سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے لاکھوں سرورز اور ویب سائٹس پر یہ اپ ڈیٹس بروقت نصب کی جائیں پرانے سافٹ ویئر، غیر محفوظ نظاموں اور اپ ڈیٹس میں تاخیر کے باعث بعض اداروں کے لیے خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے
اس واقعے نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں سائبر سکیورٹی کے خطرات کس تیزی سے بڑھ سکتے ہیں اطلاعات کے مطابق ان خامیوں کی نشاندہی میں مصنوعی ذہانت سے مدد لی گئی، جس کے بعد متعلقہ ماہرین اور پروگرامنگ زبان کے ڈویلپرز نے حفاظتی حل تیار کرنے پر کام کیا تاہم یہی ٹیکنالوجی اگر غلط ہاتھوں میں استعمال ہو تو سافٹ ویئر کی کمزوریوں کو تلاش کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت بھی بڑھا سکتی ہے
حکام کے لیے اس وقت سب سے اہم ترجیح متاثرہ نظاموں کو محفوظ بنانا، حفاظتی اپ ڈیٹس مکمل کرنا اور شہریوں کی معلومات کو ممکنہ نقصان سے بچانا ہے اب تک دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بند کی گئی تمام ویب سائٹس پر کامیاب سائبر حملے ہوئے تھے متعدد اداروں نے کسی تصدیق شدہ ڈیٹا چوری کے بجائے ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے یہ قدم اٹھایا یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ سرکاری خدمات اور روزمرہ زندگی میں انٹرنیٹ پر بڑھتے ہوئے انحصار کے ساتھ سائبر سکیورٹی کی اہمیت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے





