امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزام پر کینیڈا اور امریکا کے تعلقات میں نئی کشیدگی
امریکی سفارت خانے نے کینیڈا کے سیاست دانوں پر امریکی انتخابات میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جس سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی محصولات کی پالیسی اور کینیڈا کے ساتھ تعلقات پہلے ہی دونوں ملکوں کی سیاست میں اہم موضوع بنے ہوئے ہیں
امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ دستاویز میں کینیڈا کی صنعتوں کی وزیر میلانی جولی کے بیانات کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے دستاویز میں ان کے ایسے بیانات شامل ہیں جن میں امریکی کاروباری اداروں پر دباؤ ڈالنے اور امریکی ریاستوں کو نشانہ بنانے کے لیے جوابی محصولات کے استعمال کا ذکر تھا تاہم، یہ بیانات کینیڈا کی جانب سے امریکی محصولات کے جواب میں کیے جانے والے اقدامات کے تناظر میں دیے گئے تھے
امریکی سفارت خانے نے اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ کے اقدامات اور سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کی ویڈیو پر مبنی اشتہار کا معاملہ بھی اٹھایا یہ اشتہار اکتوبر 2025 میں ورلڈ سیریز کے دوران نشر کیا گیا تھا، جس میں ریگن کے محصولات پر تنقیدی خیالات اور آزاد تجارت کی حمایت کو پیش کیا گیا تھا اس اشتہار کے بعد ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات اچانک ختم کر دیے تھے
امریکی سفارت خانے نے 2012 سے 2026 کے دوران امریکی انتخابات میں غیر قانونی طور پر ووٹ ڈالنے کے الزام میں 11 کینیڈین شہریوں کے خلاف کارروائیوں کا بھی ذکر کیا، تاہم ان واقعات کو کینیڈا کی حکومت سے منسلک کرنے کا ثبوت پیش نہیں کیا گیا اس معاملے پر ماہرین نے بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا ان واقعات کو کینیڈا کی جانب سے امریکی انتخابات میں مداخلت قرار دینا درست ہے
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی الزامات کے جواب میں واضح کیا کہ ان کی حکومت کے تمام اقدامات کینیڈین کارکنوں، خاندانوں اور ملکی معیشت کے مفاد میں ہیں ان کا کہنا تھا کہ تجارتی تنازع کا آغاز امریکا نے محصولات عائد کرکے کیا، جبکہ کینیڈا اپنے کاروبار اور ملازمتوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے
ڈگ فورڈ نے بھی امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکی انتخابی عمل میں مداخلت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ان کے مطابق کینیڈا کی توجہ اپنی معیشت، صنعتوں اور عوام کے تحفظ پر مرکوز ہے، جبکہ امریکی انتخابات میں فیصلہ امریکی عوام نے خود کرنا ہے
یہ تنازع 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے پہلے سامنے آیا ہے ان انتخابات میں امریکی کانگریس پر ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول برقرار رہنے یا تبدیل ہونے کا فیصلہ ہو سکتا ہے امریکی سفیر پیٹ ہیکسترا پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ واشنگٹن کینیڈین سیاست دانوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر کسی اقدام کو انتخابی مداخلت سمجھا گیا تو امریکا ردعمل دے سکتا ہے
دونوں ممالک کے درمیان یہ اختلاف محض انتخابی بیانات تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے تجارتی جنگ، محصولات اور صنعتوں کے تحفظ کا وسیع معاملہ بھی موجود ہے وزیراعظم کارنی نے کہا ہے کہ امریکی محصولات نے دونوں ممالک کی معیشتوں کو نقصان پہنچایا ہے اور کینیڈا اب اپنی برآمدات کے لیے امریکی منڈی پر انحصار کم کرنے کی کوشش کرے گا اس صورت حال میں انتخابی مداخلت کے الزامات دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں





