پاکستان کی پارلیمنٹ عوامی نمائندگی کے بجائے حکومتی فیصلوں پر مہر لگانے والا ادارہ بن گئی، جمہوریت اور آئینی خودمختاری خطرے میں
پاکستان میں پارلیمنٹ کا بنیادی فرض قانون سازی کے ساتھ قومی مفادات کا تحفظ، اہم ملکی اور خارجہ پالیسی معاملات پر بحث اور حکومت کے فیصلوں کی نگرانی کرنا ہے، لیکن ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں پارلیمنٹ کا یہ کردار کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے قومی سلامتی، دہشت گردی، آئینی ترامیم اور خارجہ پالیسی جیسے اہم معاملات پر بامعنی بحث نہ ہونے کے باعث یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا عوام کے منتخب نمائندے واقعی قومی فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کررہے ہیں یا صرف پہلے سے طے شدہ فیصلوں کی منظوری دے رہے ہیں
پاکستان میں جمہوری نظام کی کمزوری کا ایک نمایاں پہلو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق فیصلے ہیں۔ 21 اکتوبر کو شائع ہونے والے مضمون کے مطابق، پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے گزشتہ ہفتے چند گھنٹوں کے اندر دو تہائی اکثریت سے ان اقدامات کی منظوری دے دی، لیکن اس اہم اور متنازع معاملے پر خاطر خواہ بحث نہیں ہوئی۔ صوبے میں منتخب حکومت کو ہٹانے، وزیر اعلیٰ اور حکومتی ارکان کی گرفتاریوں اور ہنگامی اختیارات کے استعمال جیسے اقدامات کے آئینی جواز پر تفصیلی بحث کی ضرورت تھی تاہم، اس معاملے پر پارلیمانی کارروائی کی رفتار نے اس تاثر کو تقویت دی کہ فیصلہ پہلے کہیں اور کیا گیا اور پارلیمنٹ نے بعد میں اس کی توثیق کردی
اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے گزشتہ 2 برس کے دوران منظور ہونے والی 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا جائزہ بھی اہم ہے ان ترامیم کے ذریعے عدالتی نظام اور عدلیہ کی آزادی سے متعلق آئینی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں ان پر تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ ان تبدیلیوں سے عدلیہ کی خودمختاری متاثر ہوئی ہے ان ترامیم کی منظوری کے طریقہ کار پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے، کیونکہ ارکان کو مسودے فراہم کرنے اور ان کا مطالعہ کرنے کے لیے بہت محدود وقت ملا۔ ایسے اہم آئینی معاملات میں ارکان پارلیمنٹ کی مکمل آگاہی اور آزادانہ بحث جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے
ملک کو درپیش دہشت گردی کا مسئلہ بھی پارلیمنٹ کے محدود کردار کو نمایاں کرتا ہے خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں میں اضافے کے تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت پر الزام لگایا گیا کہ وہ انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں مطلوبہ تعاون نہیں کررہی لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے پاس دہشت گردی کے خلاف ایک جامع قومی پالیسی موجود ہے؟ اگر ایسی پالیسی ہے تو کیا اس پر وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ میں تفصیلی غور کیا گیا ہے؟ دہشت گردی کا مقابلہ صرف فوجی کارروائیوں سے نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اس کے لیے انٹیلی جنس تعاون، پولیس کی صلاحیت میں اضافہ، سرحدی نگرانی، عدالتی نظام، مالی معاونت کے ذرائع کی روک تھام اور متاثرہ علاقوں میں شہریوں کا اعتماد بحال کرنا بھی ضروری ہے۔
بلوچستان کی صورت حال بھی اسی نوعیت کے سوالات پیدا کرتی ہے۔ صوبے میں 25 برس سے زیادہ عرصے سے علیحدگی پسند مسلح تشدد اور بدامنی کے مسائل موجود ہیں ایسے طویل بحران کے باوجود قومی پالیسی پر پارلیمنٹ میں مسلسل اور مؤثر بحث کی ضرورت برقرار ہے اگر خیبر پختونخوا میں بدامنی کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد کی جاتی ہے تو بلوچستان میں جاری صورت حال کے لیے وفاقی اور صوبائی حکام کی ذمہ داریوں کا جائزہ بھی شفاف انداز میں لیا جانا چاہیے قومی سلامتی کے معاملات میں پارلیمانی نگرانی اس لیے اہم ہے کہ طاقت کے استعمال، سیاسی فیصلوں اور شہری حقوق کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھا جاسکے
خارجہ پالیسی میں بھی پارلیمنٹ کی منظوری اور نگرانی اہمیت رکھتی ہے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک اہم علاقائی اور دفاعی معاملہ ہے، جس کے پاکستان کی داخلی اور خارجی سلامتی پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں مضمون کے مطابق، اس معاہدے کی پارلیمانی توثیق نہیں ہوئی تھی، جبکہ ترکیے میں بھی اس کی پارلیمانی منظوری کا معاملہ زیر انتظار تھا ایسے دفاعی معاہدوں پر پارلیمنٹ میں بحث اس لیے ضروری ہے کہ عوامی نمائندے اس کی شرائط، ذمہ داریوں، ممکنہ اخراجات اور مستقبل میں پیدا ہونے والی صورت حال کے بارے میں سوالات کرسکیں
اسی دوران ملک کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کی بات بھی سامنے آتی رہی ہے وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے موجودہ نظام کو ناکام قرار دے کر اس کی مکمل تشکیل نو کی ضرورت پر زور دیا گیا لیکن انتظامی اکائیوں میں تبدیلی محض حکومتی انتظام کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے سیاسی، معاشی اور آئینی اثرات بھی ہوتے ہیں سندھ اسمبلی پہلے ہی انتظامی تبدیلیوں کے خلاف قرارداد منظور کرچکی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی سمیت حکمران اتحاد کی بعض جماعتوں کے لیے یہ معاملہ حساس ہے اگر ملک کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا منصوبہ بنایا جاتا ہے تو اس پر پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور عوامی نمائندوں کی وسیع مشاورت ضروری ہوگی
آزادی اظہار اور ذرائع ابلاغ سے متعلق قوانین بھی پارلیمانی نگرانی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتے ہیں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون، یعنی پیکا، کے استعمال پر صحافیوں اور حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کی جاتی رہی ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین کے ذریعے اختلاف رائے اور صحافتی آزادی کو محدود کرنے کا خطرہ موجود ہے قانون سازی کے دوران ضروری ہے کہ حکومت قومی سلامتی اور آن لائن جرائم سے نمٹنے کے اپنے مؤقف کے ساتھ شہری آزادیوں، صحافتی تحفظ اور عدالتی نگرانی کو بھی اہمیت دے
پاکستان میں پارلیمنٹ کی کمزوری کا اثر صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہتا جب اہم فیصلے محدود حلقوں میں کیے جائیں اور ان پر عوامی نمائندوں کے سامنے بحث نہ ہو تو حکومتی پالیسیوں کی شفافیت اور جواب دہی متاثر ہوتی ہے اس سے عوام کا جمہوری اداروں پر اعتماد بھی کم ہوسکتا ہے پارلیمنٹ کا مؤثر کردار حکومت کی مخالفت کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس میں حکومتی فیصلوں کی جانچ، قومی وسائل کے استعمال کی نگرانی، صوبوں کے حقوق کا تحفظ اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانا بھی شامل ہے
پاکستان کے موجودہ حالات میں اصل سوال یہ ہے کہ پارلیمنٹ اپنے آئینی اختیارات کو کس حد تک آزادانہ طور پر استعمال کرسکتی ہے دہشت گردی، صوبائی خودمختاری، عدلیہ کی آزادی، خارجہ پالیسی اور انتظامی تبدیلیوں جیسے معاملات پر کھلی اور باقاعدہ بحث کے بغیر پائیدار قومی اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل ہوگا جمہوریت صرف انتخابات اور اسمبلیوں کے قیام کا نام نہیں، بلکہ اس کا تقاضا ہے کہ منتخب نمائندے آزادانہ فیصلے کریں، حکومت سے سوال پوچھیں اور قومی مفاد سے متعلق معاملات میں اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں





