ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے کے قتل کا مرکزی ملزم بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک، حراست سے فرار ہونے پر سنگین سوالات اٹھ گئے
پاکستان کے شہر ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچل کر ہلاک کرنے کے مقدمے کا مرکزی ملزم توقیر نذیر بدھ 21 اکتوبر کو بہاولپور میں پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ساتھ مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا پولیس کے مطابق ملزم مقدمے کی تفتیش کے دوران جسمانی ریمانڈ پر تھا، تاہم مبینہ طور پر پولیس حراست سے فرار ہونے کے بعد بہاولپور پہنچ گیا تھا اس واقعے نے نہ صرف کم عمر لڑکے کے قتل بلکہ پولیس حراست سے ملزم کے فرار ہونے اور اس کے بعد پیش آنے والے مقابلے کے بارے میں بھی اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں
وسیم عباس کا تعلق ضلع مظفرگڑھ سے تھا اور وہ ایک فلاحی ادارے کے زیر انتظام یتیم خانے میں رہتا تھا اطلاعات کے مطابق وہ تقریباً 6 سال سے وہاں مقیم تھا واقعے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل اسے بجلی کا کام سیکھنے کے لیے ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔ اہل خانہ اور یتیم خانے سے وابستہ افراد کے مطابق لڑکا مبینہ بدسلوکی سے پریشان تھا اور کام چھوڑ کر واپس جانا چاہتا تھا
پولیس کے مطابق ملتان کی نجی رہائشی سوسائٹی رائل آرچرڈ میں وسیم کام کی جگہ سے نکل کر بھاگا تو ملزم نے گاڑی میں اس کا پیچھا کیا اور اسے ٹکر مار دی واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں لڑکے کو گاڑی سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جس کے بعد گاڑی اسے ٹکر مارتی ہے پولیس نے ابتدائی تفتیش میں کہا تھا کہ لڑکے کے چوری میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ مقدمے کی ایف آئی آر میں توقیر نذیر اور امجد علی کو نامزد کیا گیا تھا اور قتل کی دفعات شامل کی گئی تھیں تاہم، ملزم کی جانب سے واقعے کو حادثہ قرار دینے کا دعویٰ بھی سامنے آیا تھا، جس کے برعکس پولیس نے ایف آئی آر میں دانستہ قتل کا الزام عائد کیا
توقیر نذیر کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں اسے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا مختلف اطلاعات میں ریمانڈ کی مدت کے حوالے سے فرق سامنے آیا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ وہ حراست سے فرار ہوگیا تھا۔ سی سی ڈی کے ضلعی افسر عرفان اکبر کے مطابق بہاولپور کے نادرن بائی پاس کے قریب موٹر سائیکل پر سوار 2 افراد کو روکنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے مبینہ طور پر فائرنگ کردی پولیس کے بیان کے مطابق جوابی فائرنگ کے دوران توقیر نذیر اپنے ساتھی کی گولیوں سے ہلاک ہوا، جبکہ دوسرا شخص فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا
اس واقعے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایک قتل کے مقدمے میں گرفتار مرکزی ملزم پولیس کی حراست سے کیسے فرار ہوا اور ملتان سے بہاولپور تک کیسے پہنچا دستیاب اطلاعات میں حکام نے ان سوالات کا تفصیلی جواب نہیں دیا اسی طرح مبینہ پولیس مقابلے کے حالات اور واقعات کی آزادانہ تصدیق سے متعلق تفصیلات بھی سامنے نہیں آئیں۔ ملزم کی ہلاکت کے بعد وسیم عباس کے قتل کے مقدمے میں عدالتی کارروائی کس طرح آگے بڑھے گی، یہ بھی اہم سوال ہے، کیونکہ مقدمے کے دوسرے نامزد ملزم امجد علی کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوئی تھی
وسیم عباس کی موت نے بچوں کے تحفظ، یتیم خانوں میں رہنے والے بچوں کو کام پر بھیجنے کے طریقہ کار اور ان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی نگرانی کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کردی ہے اس معاملے میں شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ لڑکے کی موت کے تمام حالات سامنے آسکیں، پولیس حراست سے فرار ہونے کی ذمہ داری کا تعین ہو اور اگر کسی سطح پر غفلت یا قانون شکنی ہوئی ہے تو اس کا بھی احتساب کیا جاسکے





