ٹرمپ کی الہان عمر کو جیل بھیجنے یا ملک بدر کرنے کی دھمکی، امریکی شہریت سے متعلق تحقیقات کے دوران سخت بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کو جیل بھیجنے یا امریکہ سے ملک بدر کرنے کے امکان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ملک کے لیے بدنامی قرار دیا ہے،یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی الہان عمر کو امریکی شہریت سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں وفاقی تحقیقات کا سامنا ہے
فاکس نیوز کے مطابق ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران یہ بات کہی،وہ اپنے مالیاتی پروگرام کے اعلان کے موقع پر موجود تھے جب فاکس بزنس کے نامہ نگار ایڈورڈ لارنس نے ان سے سوال کیا کہ آیا الہان عمر کی عمر سے متعلق کسی مسئلے کے نتیجے میں انہیں امریکہ سے ملک بدر کیا جا سکتا ہے
ٹرمپ نے جواب دیا کہ الہان عمر کو ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے اور جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ لوگ مسلسل ملک بدری کی بات کر رہے ہیں، لیکن ان کے خیال میں جیل بھی ایک ممکنہ صورت حال ہے
صدر نے اس موقع پر الہان عمر کے خلاف کسی مخصوص فوجداری الزام یا نئے ثبوت کا حوالہ نہیں دیا،انہوں نے اپنے بیان کو ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے کانگریس کی رکن کو بے ایمان شخص کہا اور الزام لگایا کہ وہ امریکہ سے نفرت کرتی ہیں
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی امیگریشن حکام اور وفاقی اداروں کی جانب سے الہان عمر کی شہریت سے متعلق معاملات کی تحقیقات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں،فاکس نیوز کے مطابق صدر کے سرحدی امور کے مشیر ٹام ہومن نے بھی اس امکان کا ذکر کیا ہے کہ اگر شہریت کے حصول میں دھوکا دہی ثابت ہو جائے تو ان کی شہریت منسوخ کرنے اور ملک بدر کرنے کا معاملہ زیر غور آ سکتا ہے
تاہم ٹرمپ کے بیان میں الہان عمر کے خلاف کسی جرم کے ثابت ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا،شہریت کی منسوخی یا ملک بدری کے لیے متعلقہ قانونی شرائط اور عدالتی کارروائی اہم ہوں گی،محض تحقیقات یا سیاسی الزامات کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا
الہان عمر کے معاملے نے امریکی سیاست میں ایک مرتبہ پھر امیگریشن، شہریت کے قوانین اور سیاسی مخالفین کے خلاف حکومتی کارروائیوں پر بحث کو نمایاں کر دیا ہے





