یوکرین کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے ٹرمپ، پیوٹن اور شی جن پنگ کی سہ فریقی ملاقات کا امکان، زیلنسکی کے بغیر مذاکرات پر سوالات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس میں یوکرین کی جنگ پر بات چیت ہو سکتی ہے،تاہم، مجوزہ ملاقات میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کی عدم موجودگی نے اس سوال کو اہم بنا دیا ہے کہ کیا یوکرین کے مستقبل سے متعلق فیصلے اس ملک کی قیادت کو مذاکرات میں شامل کیے بغیر کیے جا سکتے ہیں
میڈیا رپورٹس رپورٹ کے مطابق، مجوزہ اجلاس میں دنیا کی تین بڑی طاقتوں کے رہنما یوکرین کی جنگ اور اس کے ممکنہ مستقبل پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں،وال اسٹریٹ جرنل کی صحافی لِنگ لِنگ وے نے اس تجویز کے عالمی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے نشاندہی کی کہ بڑی طاقتوں کے درمیان ایسے مذاکرات چھوٹے اور کم طاقتور ممالک کے لیے بھی اہم پیغام رکھتے ہیں،اگر کسی ملک کی خودمختاری اور علاقائی مستقبل سے متعلق بات چیت اس کی اپنی قیادت کے بغیر ہو تو اس کے نتائج اور قانونی و سیاسی حیثیت پر سوالات اٹھ سکتے ہیں






