اوہائیو کے انتخابی معرکے سے ریپبلکن مالی معاونت واپس، ڈیموکریٹ گریگ لینڈزمین نے اسے اپنی کامیابی کی علامت قرار دے دیا
امریکی ریاست اوہائیو کے پہلے کانگریشنل ضلع میں ڈیموکریٹ رکنِ ایوانِ نمائندگان گریگ لینڈزمین نے اپنے دوبارہ انتخاب کی مہم کے دوران کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن جماعت سے وابستہ انتخابی گروپوں کی جانب سے ان کے ریپبلکن حریف ایرک کونروئے کی انتخابی مہم کے لیے مالی معاونت واپس لینا ایک مثبت علامت ہے،یہ حلقہ اس سال کانگریس میں اکثریت کے حصول کی جنگ میں اہم سمجھا جا رہا تھا، لیکن اب ریپبلکن حلقوں کی جانب سے اشتہاری اخراجات روکنے کے فیصلے نے مقابلے کی صورتِ حال بدل دی ہے
این بی سی نیوز کے پروگرام میٹ دی پریس ناؤ میں گفتگو کرتے ہوئے لینڈزمین نے ریپبلکن جماعت کی جانب سے انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی کی کوششوں کے باوجود اپنی نشست برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا،اوہائیو میں ریپبلکن قانون سازوں نے حلقے کی حدبندی اس انداز میں تبدیل کی تھی جس سے ریپبلکن امیدوار کو فائدہ پہنچنے کی توقع تھی، لیکن حالیہ سیاسی رجحانات اور انتخابی جائزوں نے لینڈزمین کی پوزیشن مضبوط دکھائی ہے، کُک پولیٹیکل رپورٹ نے بھی اس حلقے کی درجہ بندی ڈیموکریٹس کے لیے ’’ممکنہ کامیابی‘‘ کی طرف تبدیل کر دی ہے
رپورٹس کے مطابق، ریپبلکن قیادت سے وابستہ کانگریشنل لیڈرشپ فنڈ نے اس حلقے میں اپنی باقی ماندہ اشتہاری مہم منسوخ کر دی، حالانکہ اس نے پہلے کم از کم 4 ملین ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا،ٹرمپ کے حامی بعض سیاسی گروپوں نے بھی کونروئے کی حمایت میں مالی سرگرمیاں روک دی ہیں،تاہم کونروئے کی مہم کا کہنا ہے کہ مقابلہ اب بھی سخت ہے اور اس نے اپنے ایک انتخابی سروے کا حوالہ دیا جس میں لینڈزمین کی برتری صرف 1.6 فیصد بتائی گئی تھی
لینڈزمین نے اسی انٹرویو میں مواخذے کے معاملے پر بھی ڈیموکریٹس کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا،ان کا مؤقف ہے کہ صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی پر غور کرتے وقت پارٹی کو سیاسی نتائج اور شواہد دونوں کو سامنے رکھنا چاہیے،نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ پر کنٹرول کے لیے مقابلہ جاری ہے، اور اوہائیو جیسے حلقوں میں انتخابی مہم کے فیصلے اس بات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ کانگریس میں کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوتی ہے






