Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بھارت میں 13 کروڑ ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج، زندہ شہری خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور

بھارت میں 13 کروڑ ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج، زندہ شہری خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور

بھارت میں انتخابی فہرستوں کی بڑے پیمانے پر نظرثانی کے دوران تقریباً 13 کروڑ نام خارج کیے جانے کے بعد سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ زندہ ہیں، برسوں سے ووٹ ڈالتے آئے ہیں اور اپنے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں، لیکن سرکاری فہرستوں میں انہیں مردہ، دوسری جگہ منتقل یا ووٹ ڈالنے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے اب ان شہریوں کو اپنے ووٹ کا حق واپس حاصل کرنے کے لیے دستاویزات جمع کرانے، سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے اور اپیلیں دائر کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے
اس صورت حال کی ایک نمایاں مثال 53 سالہ درزی کامتا پرساد ہیں، جو نئی دہلی میں رہتے ہیں اور اپنے خاندان کے 4 افراد کی کفالت کے لیے روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ ان کا نام انتخابی فہرست سے اس بنیاد پر خارج کر دیا گیا کہ وہ وفات پا چکے ہیں پرساد کے مطابق وہ گزشتہ 35 سال سے ووٹ ڈالتے آ رہے ہیں اور گزشتہ اسمبلی و عام انتخابات میں بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں، لیکن اب انہیں سرکاری حکام کے سامنے یہ ثابت کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ زندہ ہیں اس کوشش میں انہیں روزانہ کی تقریباً 250 بھارتی روپے کی آمدنی بھی چھوڑنا پڑتی ہے
نئی دہلی میں صرف پرساد ہی نہیں بلکہ لاکھوں دوسرے ووٹر بھی انتخابی فہرستوں سے نام خارج ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ 31 اگست کو جاری ہونے والی ابتدائی فہرست کے مطابق دہلی کے تقریباً 42 لاکھ ووٹروں کے نام خارج کیے گئے تھے ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہیں غیر حاضر، دوسری جگہ منتقل، وفات یافتہ یا کسی دوسری انتخابی فہرست میں پہلے سے رجسٹرڈ قرار دیا گیا ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم کے رضاکار کے مطابق پرساد کے علاقے میں تقریباً 9,000 ووٹروں میں سے 2,000 کے قریب نام فہرست سے نکال دیے گئے
بھارت کے انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ خصوصی جامع نظرثانی مہم کا مقصد انتخابی فہرستوں سے دوہرے اندراج، وفات پا جانے والے افراد اور دیگر نااہل ووٹروں کے نام نکالنا ہے کمیشن کے مطابق جن شہریوں کے نام غلطی سے خارج ہوئے ہیں، وہ دعوے دائر کر سکتے ہیں، متعلقہ دستاویزات پیش کر سکتے ہیں اور فیصلے کے خلاف اپیل بھی کر سکتے ہیں تاہم متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ کاغذی کارروائی، سماعتوں اور مختلف دفاتر کے چکروں میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں بعض افراد کو اپنے پتے، رہائش اور شناخت سے متعلق ایسی تفصیلات بھی ثابت کرنا پڑ رہی ہیں جنہیں وہ پہلے ہی کئی مرتبہ سرکاری ریکارڈ میں جمع کرا چکے ہیں
دہلی میں کمال لال نامی 38 سالہ نجی اسکول کے استاد کا نام بھی فہرست سے خارج کر دیا گیا، حالانکہ وہ اسی علاقے میں رہتے ہیں وہ ایک فلائی اوور کے نیچے قائم بستی میں اپنے خاندان سمیت مقیم ہیں ان کا کہنا ہے کہ زمین کی ملکیت کے کاغذات یا پانی کا بل نہ ہونے کی وجہ سے ان جیسے رہائشیوں کو اپنی موجودگی اور رہائش ثابت کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے انہوں نے انتخابی حکام سے رجوع کیا، سماعتوں میں شرکت کی اور نام دوبارہ شامل کرانے کے لیے درخواستیں جمع کرائیں، لیکن اس عمل نے ان کی مشکلات کم نہیں کیں
معاملہ صرف ووٹ ڈالنے کے حق تک محدود نہیں رہا غریب خاندانوں کو خدشہ ہے کہ اگر سرکاری ریکارڈ میں ان کی شناخت یا رہائش سے متعلق مسائل برقرار رہے تو انہیں دوسری سرکاری سہولتیں حاصل کرنے میں بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں دہلی کی ایک خاتون ممتا کے مطابق بعض انتخابی حکام نے نام دوبارہ بحال کرنے کے بجائے نئے ووٹر کے طور پر اندراج کرانے کا مشورہ دیا ہے ان کے شوہر اس تجویز سے مطمئن نہیں کیونکہ وہ پہلے بھی کئی انتخابات میں ووٹ ڈال چکے ہیں ممتا کو خدشہ ہے کہ اگر ان کے خاندان کے نام انتخابی فہرست میں بحال نہ ہوئے تو انہیں رعایتی راشن اور دیگر سرکاری فلاحی اسکیموں تک رسائی میں بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
انتخابی فہرستوں کی اس نظرثانی کے خلاف نئی دہلی اور بھارت کے دوسرے علاقوں میں احتجاج بھی ہوا ہے اپوزیشن جماعتوں اور نوجوان کارکنوں نے انتخابی کمیشن پر الزام لگایا ہے کہ اس عمل سے بڑی تعداد میں اہل شہری ووٹ کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں اور اس کا سیاسی فائدہ وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو پہنچ سکتا ہے تاہم انتخابی کمیشن اور حکمراں جماعت نے سیاسی جانبداری کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مہم کا مقصد انتخابی فہرستوں کو درست اور شفاف بنانا ہے
مسلسل احتجاج اور عوامی دباؤ کے بعد انتخابی کمیشن نے دہلی سمیت بعض علاقوں میں دوبارہ تصدیق کا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی ہے اس پیش رفت سے ان شہریوں کو امید پیدا ہوئی ہے جن کے نام غلطی سے خارج ہوئے، لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ کتنے افراد کے نام حتمی فہرست میں بحال کیے جائیں گے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ انتخابی فہرستوں کو درست کرنے کی کوشش میں اگر حقیقی ووٹروں کے نام بھی خارج ہو جائیں تو ان کی بحالی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی اور انہیں بروقت انصاف کیسے ملے گا
بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور وہاں کروڑوں شہریوں کے ووٹ سے حکومتیں منتخب ہوتی ہیں ایسے میں انتخابی فہرستوں کی درستگی ضروری ہے، لیکن اس عمل میں کسی زندہ شہری کو مردہ قرار دینا یا کسی اہل ووٹر کو مناسب تصدیق کے بغیر حق رائے دہی سے محروم کرنا ایک سنگین انتظامی مسئلہ ہے اگر متاثرہ افراد کے نام بروقت بحال نہ ہوئے تو اس کے اثرات آئندہ انتخابات میں ان کی سیاسی نمائندگی پر پڑ سکتے ہیں اس تنازع نے انتخابی نظام میں شفافیت، شہریوں کے قانونی حقوق اور سرکاری غلطیوں کی فوری اصلاح کے طریقہ کار پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں

قومی خبریں سے مزید