Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پیرس کے لوور میوزیم سے 100 ملین ڈالر کے شاہی زیورات چوری ہوئے ایک سال گزر گیا، 4 ملزمان گرفتار مگر خزانہ تاحال غائب

پیرس کے لوور میوزیم سے 100 ملین ڈالر کے شاہی زیورات چوری ہوئے ایک سال گزر گیا، 4 ملزمان گرفتار مگر خزانہ تاحال غائب

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع دنیا کے مشہور لوور میوزیم سے شاہی زیورات کی سنسنی خیز چوری کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، لیکن تقریباً 100 ملین ڈالر مالیت کے قیمتی زیورات کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا پولیس نے واردات کے 10 دن کے اندر 4 مرکزی مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا، تاہم تفتیش کار اب تک یہ معلوم نہیں کر سکے کہ چوری شدہ زیورات کہاں چھپائے گئے ہیں یا انہیں کسی دوسرے ملک منتقل کر دیا گیا ہے
یہ واردات 19 اکتوبر 2025 کو ہوئی تھی، جب چور مزدوروں کا روپ دھار کر میوزیم میں داخل ہوئے اور صنعتی کٹر مشینوں کی مدد سے راستہ بنایا وہ چند ہی منٹوں میں 19ویں صدی کے شاہی دور سے تعلق رکھنے والی 8 نایاب اشیا لے کر فرار ہو گئے۔ ان میں فرانس کے سابق بادشاہ نپولین سوم کی اہلیہ ملکہ یوجینی کے زیورات، ایک قیمتی بروچ اور شاہی تاج شامل تھے یہ اشیا محض قیمتی پتھروں اور سونے سے بنی نوادرات نہیں بلکہ فرانس کی شاہی تاریخ اور ثقافتی ورثے کا اہم حصہ بھی ہیں
واردات کے بعد ہونے والی تحقیقات میں سکیورٹی انتظامات کی سنگین خامیاں سامنے آئیں فرانسیسی وزارت ثقافت کی تحقیقات کے مطابق سکیورٹی کیمروں کی نگرانی اور پولیس کو بروقت اطلاع دینے میں تاخیر نے چوروں کو فرار ہونے کا موقع دیا رپورٹ کے مطابق تقریباً 30 سیکنڈ کی تاخیر بھی فیصلہ کن ثابت ہوئی میوزیم کی بیرونی نگرانی کے لیے کیمروں کی کمی اور کنٹرول روم میں تمام کیمروں کی تصاویر بیک وقت دیکھنے کی محدود گنجائش بھی مسائل میں شامل تھی اس واقعے نے دنیا کے معروف ترین عجائب گھروں کی سکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے
پولیس نے چاروں مرکزی مشتبہ افراد کو واردات کے 10 دن کے اندر گرفتار کر لیا تھا ان کے گھروں، رشتہ داروں کی رہائش گاہوں، تہہ خانوں، گیراجوں اور دیگر ممکنہ ٹھکانوں کی بڑے پیمانے پر تلاشی لی گئی، لیکن زیورات برآمد نہیں ہوئے تفتیش کاروں کے مطابق ان قیمتی اشیا کا آخری معلوم سراغ شمالی پیرس کے مضافاتی علاقے اوبیرویلے میں ایک زیر زمین پارکنگ یا اسٹوریج کی جگہ کی نگرانی کے کیمروں کی فوٹیج سے ملا تھا، جہاں تمام مشتبہ افراد رہتے تھے اس کے بعد زیورات کی نقل و حرکت کے بارے میں کوئی قابل اعتماد اطلاع سامنے نہیں آئی
تفتیش کاروں اور نجی ماہرین کے سامنے اب کئی امکانات ہیں ایک امکان یہ ہے کہ چوروں نے زیورات پیرس کے علاقے میں کسی دیوار، زیر زمین جگہ یا خفیہ مقام پر چھپا دیے ہوں اگر واردات میں شامل افراد نے یہ خزانہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے تو ان میں سے کسی ایک کے اعتراف جرم سے پولیس کو کامیابی مل سکتی ہے بعض ملزمان نے تفتیش کے دوران ایک سرغنہ کی موجودگی کا دعویٰ بھی کیا ہے، لیکن حکام اس دعوے کو احتیاط سے دیکھ رہے ہیں یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ چوری کے پیچھے کسی منظم جرائم پیشہ گروہ کا ہاتھ ہو اور زیورات کسی درمیانی شخص کے حوالے کر دیے گئے ہوں
ماہرین کے مطابق اگر زیورات کو فرانس سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے تو ان کی بازیابی مزید مشکل ہو سکتی ہے خاص طور پر ہیروں کو نکال کر دوبارہ تراشا جائے تو ان کی اصل شناخت کرنا دشوار ہو سکتا ہے بیلجیم کا شہر اینٹورپ، جو ہیروں کی عالمی تجارت کا اہم مرکز ہے، ایک ممکنہ منزل کے طور پر زیر بحث آیا ہے۔ اسرائیل کے شہر تل ابیب اور بھارت کا نام بھی ماہرین نے ممکنہ مقامات کے طور پر لیا ہے، تاہم ان میں سے کسی جگہ زیورات پہنچنے کی تصدیق نہیں ہوئی
اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ زیورات کی واپسی کی امید مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ماضی میں بھی بڑے عجائب گھروں اور نمائشوں سے چوری ہونے والے قیمتی نوادرات کئی برس بعد برآمد ہوئے ہیں نیدرلینڈز میں 2022 کی ایک آرٹ نمائش اور جرمنی کے شہر ڈریسڈن کے ایک عجائب گھر میں 2019 کی چوری کے واقعات میں بھی قیمتی اشیا کی بازیابی کی مثالیں موجود ہیں بعض اوقات ملزمان مقدمے کی سماعت سے پہلے رعایت حاصل کرنے کے لیے معلومات فراہم کر دیتے ہیں، جس سے تفتیش میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے
لوور میوزیم نے واردات کے بعد سکیورٹی بڑھانے کے لیے اضافی نگرانی کے کیمرے اور دراندازی روکنے والے نظام نصب کیے ہیں جولائی 2026 میں میوزیم کی اپولو گیلری عوام کے لیے دوبارہ کھولی گئی، لیکن وہاں پہلے نمائش کے لیے رکھے گئے شاہی زیورات واپس نہیں لائے گئے میوزیم انتظامیہ کے مطابق ان نوادرات کو دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا یہ گیلری کبھی فرانس کے شاہی زیورات کی نمائش کے لیے مشہور تھی، مگر اب اس کی رونق کے باوجود سب سے قیمتی اشیا غائب ہیں
چوری شدہ زیورات اب بھی انٹرپول کے چوری شدہ فن پاروں اور ثقافتی نوادرات کے ریکارڈ میں لاپتا درج ہیں ایک سال گزرنے کے باوجود ان کی عدم بازیابی نہ صرف فرانسیسی پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے بلکہ اس نے دنیا بھر کے عجائب گھروں میں قیمتی تاریخی ورثے کے تحفظ کے انتظامات پر بھی توجہ مرکوز کر دی ہے اب سب سے اہم سوال یہی ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید معلومات حاصل کر کے اس تاریخی خزانے کو واپس لایا جا سکے گا یا یہ ہمیشہ کے لیے خفیہ بازار کا حصہ بن جائے گا

قومی خبریں سے مزید